بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیوائیرنائٹ

نیوائیرنائٹ

آج سال رواں رات بارہ بجے اپنی آخری ہچکی لے گا نئے سال کی آمد پر خوشی منانا کوئی بری بات نہیں لوگ اس موقعہ پر آتش بازی بھی کرتے ہیں ناچتے گاتے بھی ہیں بات اس وقت بگڑتی ہے کہ جب بعض منچلے انگور کی بیٹی کو منہ لگا کر بدمست ہاتھیوں کی طرح سڑکوں پر مٹر گشت شروع کر دیتے ہیں موٹر سائیکلوں اور کاروں کو اس تیز رفتاری سے سڑکوں پرچلاتے ہیں جیسے ہوا کے گھوڑوں پر سوار ہوں لا محالہ اس قسم کی روش سے حادثات بھی رونما ہوتے ہیں اور راہ گیروں کیلئے بھی درد سر پیدا ہوتا ہے یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ اس ملک کا ہر تیسرا شخص دخت رز کا اسیر بن چکا ہے ملک میں سر عام شراب پینے اور کشید کرنے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود غیر قانونی طور پر شراب بنانے اور فروخت کرنے کا کاروبار روز بروز ترقی کرتا جا رہا ہے ایک نہایت ہی مستند رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیروں اور گھروں میں واقع شراب بنانے والی ہزاروں بھٹیاں سالانہ بنیادوں پر لاکھوں لیٹرز دیسی شراب بناتی ہیں قیمت میں چونکہ دیسی شراب سستی ہوتی ہے اس وجہ سے اسکا کاروبار عروج پر ہے کئی شراب کی بھٹیاں تو پولیس تھانوں کے نزدیک واقع ہیں دیسی شراب کی بوتل 300 روپے میں دستیاب ہے پولیس کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ وہ شراب کشید کرنے والوں کو پکڑ کر ان سے رشوت لیکر چھوڑ دیتی ہے عام طور پر شراب بنانے میں 21 دن لگتے ہیں لیکن کچھ لوگ اسے چھ دنوں میں تیار کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ امونیم کلورائیڈ اس میں شامل کرتے ہیں۔

جسکی وجہ سے شراب اکثر زہریلی ہو جاتی ہے اور کئی اموات کا باعث بن جاتی ہے وطن عزیز میں غیر مذاہب کے لوگوں کو شراب استعمال کرنے کے لائسنس جاری کئے جاتے ہیں یار لوگ لائسنس ہولڈرز کو اچھی خاصی رقم دے کر ان لائسنسوں کو حاصل کر کے ان پر اپنے لئے شراب کی بوتلیں خرید لیتے ہیں جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے کسی بھی پیغمبر نے شراب پینے کی اجازت نہیں دی اور نہ شراب پینے کو اچھا فعل قرار دیا ہے تو پھر حکومت اس قسم کے لائسنس کیوں جاری کرتی ہے؟ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اس ضمن میں پولیس کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ کن کن ہوٹلوں میں شرابی شراب پینے جاتے ہیں اور رات گئے نشے میں دھت ہوٹلوں سے باہرنکلتے ہیں کیا کبھی اس نے ان کا منہ سونگھا یا موقع پر ان کا بلڈ ٹیسٹ لے کر ان کا معائنہ کرایا کہ انکے خون میں الکوحل ہے یا نہیں؟ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ اگر اس ضمن میں کوئی قانون سازی درکار ہے تو فوراً کرے ہماری سڑکوں پر تیز رفتاری سے جو حادثے رونما ہو رہے ہیں۔

گمان یہ ہے کہ موٹر کار چلانے والوں میں اکثر نے انگور کی بیٹی کو منہ سے لگایا ہوتا ہے اور الکوحل کی وجہ سے ان کے اوسان خطا ہوتے ہیں جنکی وجہ سے وہ گاڑیاں کبھی راہ گیروں پر چڑھا دیتے ہیں توکبھی کسی دوسری گاڑی پر ۔ جوانی اور دولت کے نشے میں چور لوگوں کو احساس نہیں ہوتا کہ کسی دن انکا جسم شراب نوشی کا ان سے حساب لے گا کہ جب وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہو جائیں گے یا ان کاجگر جواب دے جائے گا اکثر ہارٹ سرجن اب تو امراض قلب میں مبتلا مریضوں کی ہارٹ کی سرجری کرنے سے کتراتے ہیں جو الکوحل پینے کے عادی ہوں۔ حکومت کو ایک منظم پبلسٹی مہم چلانی چاہئے اور الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جائے کہ شراب نوشی جان لیوا ہے تو ہم نے بات شروع کی تھی نیو ایئر نائٹ کی پر دخت رز کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس نائٹ کو اس کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے ۔