بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبرپختونخوا کے لئے 3میگا پراجیکٹ

خیبرپختونخوا کے لئے 3میگا پراجیکٹ

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں خیبر پختونخوا کے لئے تین میگاپراجیکٹس کی منظوری دے دی گئی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ میں ہونے والے جائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے اجلاس میں منظور ہونے والے ان پراجیکٹس میں اکنامک زون ٗ پشاور ٗ چارسدہ ٗمردان اور صوابی کے درمیان سرکلر ریلوے لائن اور 1700میگا واٹ پن بجلی کی پیداوار کے منصوبے شامل ہیں ٗ رپورٹس کے مطابق اکنامک زون کے لئے سائٹ موٹر وے کے قریب ہوگی ٗ سی پیک کے حوالے سے بیجنگ میں ہونے والے مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں نے وطن عزیز کی تاریخ کے اہم ترین منصوبے کا مالیاتی حجم 5700ارب روپے تک پہنچا دیا ہے اجلاس میں کراچی تا پشاور ایم ایل ون ریلوے کی اپ گریڈیشن کا کام جلد مکمل کرنے پر اصولی اتفاق بھی ہوگیا ہے سندھ کے لئے توانائی کے تین منصوبے بھی سی پیک میں شامل کئے گئے ہیں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اجلاس کی کاروائی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا نے کاشغر ٗ خنجراب ٗ بشام ٗ سوات ٗچکدرہ ٗ چترال اور گلگت پر مشتمل متبادل راستے کا آئیڈیا بھی پیش کیا ہے ٗ اجلاس میں ڈیرہ کراچی انڈس ہائی وے دو رویہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا ٗ منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے مشاورتی گروپ کے اجلاس میں وزرائے اعلیٰ کی شمولیت نے نئی طاقت دے دی ہے ۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ سی پیک جیسے پراجیکٹ میں مرکز اور صوبوں کا باہمی تعاون منصوبے کے ثمرات میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے ٗ اسی ضرورت کا ادراک تھا کہ وزیر اعظم نوازشریف نے ملک کی سیاسی قیادت کو اکٹھا کیا اور پراجیکٹ کے حوالے سے متفقہ فیصلے ہوئے بعد میں ان فیصلوں پر عملدرآمد کے مرحلے میں خیبر پختونخوا کے تحفظات اور خدشات سامنے آئے جس پر وزیر اعلیٰ کا یہی کہنا ہے کہ وزیر اعظم ایک بار پھر اے پی سی بلا کر ان خدشات کو دور کریں ٗ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ صوبے کے خدشات اور تحفظات دور ہونے کے ساتھ مرکز اور صوبوں کے درمیان اس پراجیکٹ سے متعلق باہمی رابطے کے لئے فورم کو مستحکم بنایا جائے ٗ ضرورت اس بڑے قومی منصوبے کے حوالے سے صوبوں اور وفاق کے محکموں کے درمیان کوآرڈی نیشن یقینی بنانے کی بھی ہے ٗاس برسرزمین حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ ملک کی معیشت پر کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھایا ہے آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ نیا قرضہ یا جاری قرضے کی قسط منظور ہونے پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

ملک میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ صرف 2016ء میں 7لاکھ 92ہزار لوگ روزگار کی تلاش میں بیرون ملک گئے ٗ ملک کے اندر نوجوان ملازمتوں کے لئے درخواستیں لئے پھر رہے ہیں مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے توانائی کا بحران چیلنج کی صورت اختیار کرچکا ہے ایسے پریشان کن منظر نامے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کا بڑا منصوبہ گیم چینجر کی حیثیت سے معیشت کی کایا پلٹ سکتا ہے ٗ اس وقت ضروری ہے کہ سیاسی قیادت پوری فراست اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پراجیکٹ کی کامیابی اور توسیع کے لئے کردار ادا کرے اس میں سب سے بہتر اور مؤثر حکمت عملی تمام معاملات کو باہمی رابطوں اور بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی ہے۔