بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھاگتے چورکی لنگوٹی

بھاگتے چورکی لنگوٹی


سیکرٹری خزانہ بلوچستان کے گھر سے ترقیاتی بجٹ کیا نکلا ہا ہا کار مچ گئی۔ کیا دس بارہ پیٹیاں پانچ پانچ ہزار کے نوٹوں کی اور ہزار ہزار کے نوٹوں کی کوئی بڑی بات تھی؟ آخر کا ر وہ شخص اس ساری رقم کا ذمہ دار تھا جو مرکز صوبے کیلئے روانہ کرتا تھا اب مرکز ہی کم رقم بھیجے تو اس میں سیکرٹری خزانہ کا کیا قصور ؟ اس نے تو وہ رقم گھر میں سنبھال کے رکھی تھی تاکہ چوروں کے ہاتھ نہ لگے دیکھیں نا اگر رقم کسی سڑک کی تعمیر کیلئے دی جاتی ، کسی سکول یا ہسپتال کی تعمیر کیلئے دی جاتی تو خود سوچیں کہ اس کا پی ڈبلیو ڈی کے انجینئر اور ٹھیکیدار کیا حشر کرتے۔اسی طرح اگر رقم خزانے میں رہتی تو سینکڑوں نظریں اس پر پڑتیں اور کسی ایک کی نظر بد بھی ہو سکتی تھی جسکی وجہ سے خزانے کی رقم خوردبرد ہونیکا اندیشہ ہو سکتا تھا اسی لئے محترم نے وہ رقم اپنے گھر میں بڑے نوٹوں کی صورت میں رکھی کہ محفوظ رہے اور جو رقم گھر کی گنجائش سے زیادہ تھی وہ اس نے ایک بیکری والے کے پاس امانتاً رکھ دی اتنی سی بات تھی کہ نیب اس بے چارے کے پیچھے پڑ گیا اب نیب نے جو اپنے قانون کے مطابق اس کے ساتھ پلی بارگیننگ کی تو لوگ ‘حکومت اور اپوزیشن چیخ پڑے کہ یہ کیا ہے کہ خزانے سے چوالیس ارب کی کرپشن پر دو ارب لیکر بندے کو چھوڑ دیا ہے اب چیئرمین نیب کی وضاحت پر کوئی کان ہی نہیں دھر رہا نیب کے میدان میں آنے سے قبل کیا اس قسم کے فراڈوں سے کوئی رقم ریکور ہوتی تھی ؟ نہیں نا۔

اسلئے کہ چوروں سے رقم واپس لینے کا کوئی قانون موجود ہی نہیں تھا اور نیب کے مطابق اس نے اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک لوٹے گئے اربوں روپے خزانے میں جمع کروائے ہیں جو اس سے قبل لوگ ہضم کر لیا کرتے تھے اگر کسی نے نیب کے میدان میں آنے سے پہلے کوئی فراڈ کیا اور خزانے کو لوٹا تو اس نے سارے ہی پیسے ہضم کر لئے اور اگر اینٹی کرپشن والوں نے راستہ روکا تو اس کے ساتھ بھی شیئر کر لیااور اللہ اللہ خیر سلا۔یہ تو نیب ہی کی مہربانی ہے کہ چوالیس ارب کا پلی بارگین دو ارب ہے اس لئے کھلم کھلا جو کچھ لوٹ سکو‘ لوٹ لواور پھر آرام سے بیالیس نسبت دو کے حساب سے قومی خزانے کو دے دو اور باقی کے مزے کرو ابھی تک تویہی دیکھنے میں آیا ہے کہ جو بھی رقم لوٹی گئی اور نیب کے ہتھے چڑھ گئے تو آرام سے پلی بارگیننگ کی اور تھوڑی رقم نیب کے حوالے کی اور پاک ہو کر اپنی سیٹ پر جا بیٹھے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی فرد اپنے فرض کو فرض نہیں سمجھتا۔

سب ڈنگ ٹپاؤ کاموں میں لگے ہیں کچھ محکمے اور کچھ لوگ باہر سے ملنے والی امداد یا قرض پر نظریں جمائے ہوتے ہیں اور جونہی یہ رقم قومی خزانے میں پہنچتی ہے یہ لوگ اس کی تقسیم میں لگ جاتے ہیں۔ ایسے ایسے فضول پراجیکٹ بنائے جاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ اپنے لوگوں کو نوازنے کیلئے پراجیکٹ بنتے ہیں بظاہر یہ پراجیکٹ قوم کی بھلائی کے ہوتے ہیں مگر اصل میں وہ اپنے لوگوں کو نوازنے اور اپنے پیسے بنانے کیلئے ہوتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کاموں کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کی جائے اسمبلی میں قانون سازی کی جائے اور اس قانون سے رتی بھر بھی انحراف کو برداشت نہ کیا جائے مگر افسوس تو یہی ہے کہ اسمبلی میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو قانون سازی کیلئے منتخب ہی نہیں ہوتے۔