بریکنگ نیوز
Home / کالم / معجزہ اورمرد محبت

معجزہ اورمرد محبت

اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ہمارے مرحوم مہربان ڈاکٹر ظہور احمد اعوان اسلام آباد کوگریڈوں کاشہرکہاکرتے تھے جہاں سرکاری گریڈ ہی انسان کی پہچان ہوا کرتے ہیں یعنی ا یک طرح سے اسلام آباد ایک ایسا شہرہے جسکے احساسا ت گریڈوں اور بے حسی کے رویوں تلے کچلے جاچکے ہیں چنانچہ اسلام آباد جانے والا پکا اسلام آبادی یعنی جذبوں سے عاری ہوتا جاتا ہے وہاں جانے والے پھر نئے دوست بناکر پرانوں کو بھول جاتے ہیں خوداس شہر کے ساتھ بھی پھر وفا نہیں کرتے وگرنہ عید کے دنوں میں اسلام آبادکی سڑکیں سائیں سائیں ہرگز نہ کرتیں ہم اکثر اپنے بزرگ دوست و مہربان اکرم درانی سے یہی گلہ کرتے ہیں اسلام آباد نے انکو ہم سے اچک لیاہے جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو ہم ان کو اسلام آباد کی بے مہر فضاء کاشکار ہونے سے بچنے کے نسخے بتانے سے قبل پشاور کو بھول جانے کاشکوہ ضرور کرتے ہیں جس پر مسکراتے ہوئے چہرے کیساتھ وہ کسی حد تک ہمارے موقف کے قائل بھی ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ گورنر اقبال ظفر جھگڑا جب پارٹی کے مرکز ی سیکرٹری جنرل بنے اوربعدازاں ایوان بالا کے رکن بھی منتخب ہوئے تو اکثر پھر پشاورسے غیر حاضری انکی مجبور ی بن گئی اور جب کبھی ہماری انکے ساتھ فون پر بات ہوتی یاپھر کہیں ملاقات کی صورت نکل آتی توہم انکو ازراہ مذاق کہتے کہ کتنے دنوں کے ویزے پر پشاورآئے ہیں جس پر انکی طرف سے ہمیشہ ایک قہقہہ بلند ہواکرتا تاہم ان دونوں کے رابطے ہمارے جیسے دوستوں کے ساتھ کم ضرور ہوئے مگر انہوں نے یہ رابطے کٹنے نہ دیئے جہاں تک دیگر لوگوں کاتعلق ہے تو شاید اسلام آباد جانیوالوں کی اس مجبوری سے ہم واقف نہیں ہونگے جس کی بنیاد پر پھر انکے رابطے اپنے پرانے دوستوں سے کٹ جاتے ہیں اوراس مجبوری کی رعایت انکو دینی چاہئے تاہم کچھ لوگ ابھی ایسے ہیں جنہوں نے اسلام آباد کے حوالے سے ہمارے اور ہم جیسے دیگر کئی لوگوں کے مندرجہ بالاخیالات کو عملاً غلط ثابت کردکھایاہے کیونکہ اسلام آباد کابن جانے کے باوجود اسلام آباد کی بے مہر ہواؤں کے تھپیڑوں سے خود کو بچا رکھنے کیساتھ اس بے مہر ی کے طوفان کے سامنے بند باندھنے کے جہادمیں بھی مصروف ہیں انکے گھرآج بھی محبت ،خلوص اورمہمان نوازی کی بدولت دوستوں اورمحبت کرنے والوں کے لئے کسی انسپائریشن سنٹر سے کم ہرگزنہیں اورحیرت ہوتی کہ جب بھی جائیں پہلے سے زیادہ محبت ،چاہت اور اپنائیت ملے گی ۔

اس روز ہم بھی ایک ایسے ہی مہربان کے مہمان تھے حالانکہ ڈاکٹروں نے انکو میل ملاقاتو ں سے سختی کیساتھ منع کررکھاہے مگر ہسپتال سے گھر منتقل ہونے کے دو ماہ بعد بھی ہماری ملاقات نہ ہوسکی تو ٹیلیفونی رابطوں پر مزیدہمار ی تسلی بھی نہ ہوسکی اور اسلام آباد نکل پڑے منزل میجرعامر کامحبت خانہ تھا جو کئی ہفتوں کی شدید علالت کے بعد اب معجزاتی طورپر صحت یابی کی طرف گامزن ہوچکے تھے بیماری کے تین دن بعدجب ہم انہیں ملنے گئے تھے تو ہسپتا ل میں انکی حالت دیکھ کر انتہائی تشویش ہوئی اس روز برادر م گل شرف خان بھی ہمارے ساتھ تھے ہم دونوں نے میجر صاحب کو اس حالت میں دیکھا تو پریشانی بڑھ گئی اورپھر پشاورتک ہمارے درمیان صرف انکی بیماری ہی زیر بحث رہی اسکے بعد سے ان کو دیکھنے کی ہمت نہ ہوسکی محض فون پر ہی حا ل احوال پوچھنے پر اکتفا کرتے رہے مگر پھر جب آٹھ ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرگیا تو اسلام آباد چل دیئے ان کو اطلاع ملی تو رہ نہ سکے اوردھوپ میں ہمیں بٹھا کر خودبھی ماسک لگا کرنکل آئے کیونکہ ان کو ابھی تک ماسک کے بغیر باہر نکلنے کی اجاز ت نہیں اسی طرح انکو بھیڑ میں بھی بیٹھنے سے منع کیاگیاہے تاہم اس باران کو دیکھ کر معجزوں پر پھر سے یقین ہوگیا کیونکہ پہلے کی نسبت کافی بہتر نظر آرہے تھے ہماری کوشش رہی کہ وہاں کم سے کم وقت گزاریں اوردفتر کے کاموں کابہانہ بناکرنکل آئیں کھانے کاپروگرام ہمارا کسی اورکے ساتھ طے تھا ۔

مگر اچانک میجر صاحب نے حکم دیاکہ کھاناتیار ہے ہمارے انکار کی انہو ں نے کوئی پروا نہیں کی ہم بھی اسی بہانے انکے ساتھ مزید وقت گزارنے کی غرض سے تیار ہوگئے اور پھر لگے ہاتھوں ایک مختصر ساانٹرویوبھی کرآئے جس پر مسکراتے ہوئے میجر عامر نے کہا کہ آخر صحافیانہ واردات کرہی ڈالی ،میجر عامر کی بیماری کے دوران انہیں اورخود ہمیں انکے ساتھ لوگوں کی بے پناہ محبت کابھرپو ر طریقے سے اندازہ ہوا قومی سیاسی و عسکری قیادت سے لے کر ہر شعبہ زندگی کے سرخیلوں تک ہر کوئی اس مردمحبت کے پاس گیا اورسب سے بڑھ کریہ کہ ایسے لوگ بھی گئے جن کے پاس پورا کرایہ بھی نہ تھا اوران سب کی نیک تمناؤں اوردعاؤں نے ہی پھر میجرعامر کی صحت یابی کامعجزہ ممکن کردکھایا انکو اب بھی مکمل صحت یابی اور ڈاکٹری پابندیوں سے نکلنے کیلئے سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے اورتمام بہی خواہوں سے گذارش بھی ہے کہ ان کو پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچانے کیلئے انکے پاس جانے کے بجائے فون پررابطوں کیساتھ ساتھ دعاؤں کااہتما م کریں تاکہ نیساپورکی رونقیں بحال ہونے کیساتھ ساتھ پاکستانیت جگانے اورپاک افغان تعلقات کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کی ان کی خواہش پوری ہوسکے۔