بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / میں ہمیشہ سے جانتا تھا پوتن سمارٹ ہیں، ٹرمپ

میں ہمیشہ سے جانتا تھا پوتن سمارٹ ہیں، ٹرمپ


واشنگٹن۔امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی سفارت کاروں کو امریکہ بدر کیے جانے کے بعد سامنے آنے والے روسی صدر ولادی میر پوتن کے بیان کی تعریف کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ کسی امریکی سفارتکار کو روس سے نکلنے کا نہیں کہیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پوتن کی جانب سے معطل کیا جانا بڑا قدم ہے، میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ وہ بہت سمارٹ ہیں۔یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی انتخاب میں ہیکنگ کرنے کے الزام میں جمعے کو 35 روسی سفارتکاروں کو 72 گھنٹوں کے اندر امریکہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔تاہم دوسری جانب ماسکو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔اس سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ انھوں نے صدر پوتن کو تجویز بھیجی تھی کہ روس جوابی کارروائی کرتے ہوئے 35 امریکی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیں۔

ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام واضح کرنے کے لیے اسے پِن یعنی سب سے اوپر کیا تاہم ابھی یہ معلوم نہیں انھوں نے اپنے مختصر پیغام میں تعطل کا لفظ کس اقدام کو روکنے کی جانب اشارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔یاد رہے کہ نو منتخب امریکی صدر نے اس سے قبل امریکی انتخاب میں روسی ہیکنگ کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔تاہم جعمے کو مسٹر پوتن کے بیان سے قبل مسٹر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ اس صورتحال سے متعلق حقائق کے آگاہی کے لیے اگلے ہفتے امریکی انٹیلیجنس چیفس سے ملیں گے۔امریکہ نے نو روسی اداروں پر پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں جن میں دو روسی انٹیلی جنس ایجنسیاں جی آر یو اور ایف ایس بی بھی شامل ہیں۔

روسی سفارتکاروں کی ملک بدری کے حکم نامے کے بعد امریکہ نے روس کی جانب سے صدارتی انتخاب کے دوران ہیکنگ کے ذریعے مداخلت کے الزامات کے بارے میں اب تک کی سب سے تفصیلی رپورٹ بھی جاری کر دی ہے۔ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی اور ایف بی آئی نے 13 صفحات پر مبنی اس مشترکہ رپورٹ میں پہلی بار کسی ملک کو ہیکنگ کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ نے سرکاری طور پر اور باضابطہ طریقے سے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے اکانٹس کی ہیکنگ کا تعلق روسی سول اور فوجی انٹیلی جنس اداروں ایف ایس بی اور جی آر یو سے جوڑا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی انٹیلی جنس ادارے امریکی حکومت اور امریکی شہریوں کے خلاف سائبر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ بعض دفعہ تو (روسی انٹیلی جنس اداروں کے)اہلکار کسی تھرڈ پارٹی کا روپ دھار کر، مثال کے طور پر ‘جعلی آن لائن شخصیات کے پیچھے چھپ کر حملے کے مقام کو چھپا دیا کرتے تھے۔