بریکنگ نیوز
Home / کالم / ادا کار اور گلوکار دہشت گرد نہیں ہوتے

ادا کار اور گلوکار دہشت گرد نہیں ہوتے

ہالی وڈ کی مانند یہ جو جعلی بالی وڈ ہے یعنی ہندوستان کی فلم انڈسٹری ہے اور دنیا کی سب سے بڑی فلم میکنگ مشین ہے تو یوں جانئے کہ یہ ایک دیوزاد اژدھا ہے جو اپنا پیٹ بھرنے کیلئے ہر شے نگلتا جاتا ہے‘ ایک ایسا پیٹو پانڈا ہے جسے ہمہ وقت جگالی کرنے کیلئے بانسوں کی کونپلیں درکار ہیں‘ یہ اژدھا مر جائے یہ پانڈا ہلاک ہو جائے اگر اسے دنیا بھر سے تخلیقی اور فلمی خوراک مہیا نہ ہو… جیسے ہالی وڈ کے بہت سے ہدایت کار اور اداکار امریکی نہیں‘ برطانوی ‘ آئرش‘ آسٹریلوی یا پولش وغیرہ ہیں‘ اسی طور بالی وڈ کے اژدھے کا پیٹ بھرنے والوں میں سری لنکن… امریکی… برطانوی اور فرانسیسی اداکار ہیں… اور ان میں ابھی چند روز ہوئے کچھ پاکستانی اداکار بھی شامل ہوگئے ہیں… بالی وڈ نے انہیں اپنے ہاں مدعو کرکے اوراپنی فلموں میں کاسٹ کر کے ان پر احسان نہیں کیا…اسے اپنا پیٹ بھرنا تھا…اپنی فلموں کے بیشتریبوست زدہ‘ ایک ہی نوعیت کی اداکاری کرنے والے اداکاروں کی جگہ نئے اور ٹیلنٹ سے بھرپور چہروں کااستعمال کرنا تھا یہ احسان نہ تھا ایک کاروباری مجبوری تھی… لیکن بالی وڈ کی نظر عنایت سے پاکستانی اداکار یکدم بین الاقوامی سطح پر پہچانے گئے… وہ اپنے کنویں میں سے نکل کر ایک وسیع جھیل کے پانیوں میں ٹرانے لگے… مالی فوائد بھی بہت ہوئے… علی ظفر تو اپنی بے مثال ٹیلنٹ کے زور سے بالی وڈ انڈسٹری کا نیلی آنکھوں والا فیورٹ کب کا ہوچکا تھا.

لیکن فواد خان‘ ماہرہ خان وغیرہ نے تو دھومیں مچادیں… اور پھر ہمارے گلوکاروں نے بھی بالی وڈ کی معمولی آوازوں کے سامنے گائیکی کے پھنیر سانپ لہرادیئے… غلام علی‘ علی ظفر‘ شفقت امان علی خان‘راحت فتح علی خان‘ شیراز اپل‘ سائیں ظہور وغیرہ نے اپنے جادو جگا دیئے… ویسے اگر ہندوستانیوں نے کچھ شکایت کی کہ آخر پاکستان والے ہمارے بڑے اداکاروں کو اپنی فلموں میں کیوں کاسٹ نہیں کرتے اور وہ کبھی لتامنگیشکر ‘آشابھونسلے اور سونو نگھم کو اپنے ہاں کیوں مدعو نہیں کرتے تو ان کی شکایت کچھ ایسی بے جا نہ تھی… پھر یکدم یہ سرسنگیت اور اداکاری کی پاکستانی لٹیا ڈبو دی گئی… مودی کے موذی چاہنے والوں نے پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر دیا… یہ ایک عجب سانحہ ہے کہ جب کبھی یہ دو بیل سینگ پھنساتے ہیں تو انکا اولین شکار اداکار‘ گلوکار اور ادیب ہوتے ہیں… اور یہ بے چارے نہ دہشتگرد ہوتے ہیں اور نہ ہی سیاست دان کہ نفرت اور مذہب کی تنگ نظری کی خون آشام کالی دیوی کے پجاری ہوتے ہیں… یہ تو امن اور آشتی کے نقیب ہوتے ہیں آج تک کسی ادیب‘ گلوکار یا اداکار کا نام پانامہ سکینڈل میں شامل نہیں ہوا… لیکن انہیں جیسے جنگ کے دوران کمینے دشمن‘ معصوم شہریوں کو اپنے مورچوں کے سامنے ڈھال کی صورت کھڑا کر دیتے ہیں اسی طور تخلیق کار بھی نشانہ بنائے جاتے ہیں…

اسی دوران ہم نے بھی جوابی کاروائی کی اور انڈین فلموں کی نمائش پر پابندی لگادی… میری رائے میں اور یہ ہرگز ناقص نہیں ہے ابھی پچھلے دنوں ایک نئی پاکستانی فلم انڈسٹری کا شاندار ظہور ہوا ہے اس میں کچھ کچھ ہندوستانی فلموں کابھی حصہ ہے… ایک مقابلے کی فضا پیدا ہوئی اور مختصر وسائل اور بجٹ کے باوجود پاکستانی فلموں نے انڈین فلموں کے مقابلے میں بہتر تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا… مجھے ڈر ہے کہ مقابلے کے بغیر ہماری فلمیں پھر سے روبہ زوال ہو جائینگی… شاید میری عمر کے لوگوں کو یاد ہو کہ ہندوستانی فلم’’ جال‘‘ کی نمائش پر احتجاج شروع ہوگیا‘ بہت سے اداکاروں نے گرفتاریاں پیش کیں اور پھر ہندوستانی فلموں پر پابندی لگ گئی‘ اس سے پیشتر پاکستانی انڈسٹری نے نہایت اعلیٰ درجے کی فلمیں تخلیق کیں جنہوں نے ہندوستانی فلموں کے مقابلے میں واضح برتری حاصل کی… ادھر مقابلہ معدوم ہوا ادھر ہماری فلموں کا زوال شروع ہوگیا اوربالآخر سلطان راہی کے گنڈاسے نے ان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی… بہرطور ہم جوابی کاروائی کرنے پر مجبور ہوگئے… ادھر بی بی پیمرا نے جھرجھری لی اور خواب خرگوش سے بیدار ہوگئی…ٹیلی ویژن پر ہندوستانی ڈرامے اور پروگرام بین کر دیئے گئے… چینلز کی خوب گوشمالی کی گئی اگرچہ ہندوستانی جس نوعیت کے بے ہودہ اور بدشکل ڈرامے پروڈیوس کرتے ہیں انہیں حذف کردینا ثواب کاکام ہے لیکن ہم کم از کم ان سے عبرت تو حاصل کرتے تھے‘ ان سے سبق حاصل کرتے تھے کہ اس طرح کے ڈرامے بنانے سے بہتر ہے کہ انسان خودکشی کرلے… اور یہاں میں ایک اور شدید نوعیت کی غلط فہمی کا ازالہ کردوں… ہماری مرحومہ فلم انڈسٹری کے کچھ مجاور نہایت فخر سے بیان دیتے ہیں کہ ہماری پاکستانی فلم انڈسٹری پھر سے زندہ ہوگئی ہے تو حضور یہ آپ والی انڈسٹری نہیں ہے یہ تو ایک سراسر نئی فلم انڈسٹری کی پیدائش ہے جسکے سب ہدایت کار‘ مصنف اورادکار نئے اور پڑھے لکھے اور نوجوان… صد شکر کہ انہیں آپکی انڈسٹری کی ہوا نہیں لگی‘ اگر لگ جاتی تو انہیں نمونیا ہو جاتا…کیا آج کی نئی پاکستانی فلموں میں کوئی ہدایت کار‘ مصنف یا اداکار پرانا ہے…کہ وہ سب لوگ تو متروک ہوچکے اورشکر ہے کہ متروک ہو چکے… جیسے آج کے ٹیلی ویژن ڈرامے سے سب پرانے لوگ خارج ہوچکے اوران میں مجھ ایسے ڈرامہ نگار بھی شامل ہیں… ہم آج کی حقیقتوں کا ساتھ دینے کے قابل نہیں رہے‘ ہم بھی متروک ہوگئے…

مجھے معلوم ہے کہ اصیل مرغوں کی اڑائی ہوئی یہ دھول وقت کیساتھ آہستہ آہستہ معدوم ہوجائیگی… دونوں ملکوں نے اپنے اپنے عوام کے جذبات ابھار کر جو جنگی فضا پیدا کی ہے وہ بہرطور مدھم ہوجائیگی‘ تعلقات پھر سے بحال ہو جائینگے‘ ہم انڈین ادرک‘ ٹماٹر اور دیگر سبزیاں پھر سے کھانے لگیں گے‘ لیکن تب تک ہمارا بہت نقصان ہو چکاہوگاہمارے اداکار‘گلوکار سب کے سب زنگ آلود ہو جائینگے ہندوستانیوں کا نقصان زیادہ ہوگا کہ نہ تو وہ شفقت امانت علی‘ راحت فتح علی ‘ شیرازاپل‘ سائیں ظہور اور عاطف اسلم کی بے مثال گائیکی سے اپنے کانوں کو سروں سے آشنا کرسکیں گے اور نہ ہی فواد خان‘ ماہرہ خان یا سلمان شاہد کی بھرپور اداکاری سے لطف اندوز ہو سکیں گے…
وہاں صرف گلزار تھے… جب ایک تقریب میں انہیں پاکستان کی مبینہ دہشتگردی کی مذمت کرنے کیلئے کہاگیا تو وہ اس تقریب سے واک آؤٹ کرگئے… اور باقی رہ گئے مودی کے موذی!