بریکنگ نیوز
Home / کالم / اور دسمبر گزر گیا

اور دسمبر گزر گیا

دسمبر ایک عرصے سے پاکستانیوں کا قاتل بنا ہوا ہے اس مہینے میں ہمارا ملک دو لخت ہوا اس مہینے نے ہمارے بھرے پُرے گلشن کے ایک سو چالیس پھول دیکھتے ہی دیکھتے مٹی میں رول دیئے اور اسی دسمبر نے ہم سے ایک بہت بڑی ادبی ہستی چھین لی ایک استاد ، ایک محقق، ایک شفیق دوست اور ایک رہنما۔ ادبی مسافروں کا ہاتھ پکڑ کر راہ دکھانے والا اردو ادب کا بے بدل استاد‘ میری ان سے پہلی ملاقات 1956 میں ہوئی جب وہ میرے بھتیجے احسان الحق کی پیدائش کی مبارک باد دینے ہمارے گھر تشریف لائے میں تب نویں جماعت کا طالب علم تھاان کے ساتھ چھ سات اور شاعر دوست بھی تھے جہاں شاعر ہوں وہاں مشاعرہ ہونا تولازمی ہے میرے برادر بزرگ بھی شاعری کیا کرتے تھے اور مختار تخلص کرتے تھے انکی شاعری توہم چھوٹے بہن بھائیوں کی نظر ہو گئی اس لئے کہ ہماری کفالت او رپڑھائی ان کے ذمہ ایسی آئی کہ وہ شاعری سے دور ہو گئے تا ہم ذوقِ شعر آخر تک ان کیساتھ رہا۔ اس سال عید الفطر کے دوسرے دن وہ ہم سے اچانک ہی بچھڑ گئے مجھے یاد ہے کہ اس مشاعرے کی ابتدا میں نے ہی تلاوت کلام پاک سے کی تھی مجھے شعر اچھے تو لگتے تھے مگر مشاعرہ پہلی دفعہ سن رہا تھا اس وقت کے بہت اچھے شعرا اس میں شامل تھے انکے علاوہ ایک نعت خواں جو ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے نعت پڑھا کرتے تھے وہ بھی ان کے ہمراہ تھے ان کا نام تو یاد نہیں مگر انہوں نے ایک بہت ہی خوب صورت نعت پڑھی تھی بعد کے دنوں میں جب ہم کالج پہنچے تو صوفی عبدالرشید صاحب کالج چھوڑ چکے تھے اور کسی سکول میں پڑھاتے تھے ۔

لیکن ایبٹ آباد کالج کے مشاعروں میں انکی شرکت لازمی ہوتی تھی ان کی جناب آصف ثاقب صاحب کی مبارک اکمل گیلانی صاحب اور افضل مرزا رہبر کی مترنم شاعری محفل میں سماں باندھ دیا کرتی تھی بعد میں وہ کالج میں بحیثیت لیکچرر اردو اپنی خدمات انجام دینے آ گئے ون یونٹ کا زمانہ تھا اسلئے لوگوں کی پوسٹنگ صوبے میں کسی بھی جگہ ہو تی تھی صوفی صاحب نے سندھ کے کسی کالج سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا پھر جلد ہی وہ ہری پور کالج میںآ گئے ہری پور کی ادبی زندگی میں جیسے بہار آ گئی ہو بہت سے شاعر دوست ایک انجمن جس کا نام انجمن لوح قلم تھا کے پلیٹ فارم سے اردو ادب کے بڑھاوے میں مگن تھے جن میں صوفی عبدالرشید صاحب اور ریاض ساغر صاحب پیش پیش تھے یوں تو شاعروں میں ادبی چپقلشیں عام سی بات ہے مگر ہری پور کی انجمن میں جب تک صوفی صاحب اور ریاض ساغر صاحب رہے اس میں ایسی کوئی بات نہ ہوئی اور اسکی وجہ سے ہری پور میں بھر پور ادبی زندگی رہی اس شہر سے بہت ہی اعلیٰ پائے کے شاعر سامنے آئے۔ عبدالعزیز عزیز جن کو فیض احمد فیض کی روپوشی کے دنوں میزبانی کا شرف بھی حاصل رہا۔ صدیق منظر ، مرحوم سیٹھ نسیم جو مشہو ر شاعر جناب قتیل شفائی کے بھتیجے تھے، قاضی جمیل الرحمان (پروفیسر)، جاوید قریشی، محمد صفیان صفی ( پروفیسر ڈاکٹر)اور بہت سے دوسرے ان کی شاگردی میں پروان چڑھے۔

خود ان کے اپنے بچے ڈاکٹر ضیاء الرشید اور پروفیسرذکا الرشید بھی ان ہی محفلوں میں بیٹھ بیٹھ کر نئے لکھنے والوں میں ایک بڑا نام پیدا کر رہے ہیں۔ صوفی صاحب جہاں بھی جس بھی کالج میں رہے چاہے بحیثیت پروفیسر یا بحیثیت پرنسپل ایک ماڈل کے طور پر رہے۔ادبی محفلوں کا انعقاد کرنا ہو یا بچوں کو اردو ادب کی روشنی سے منور کرنا ہو انہوں نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا وہ ایک بہت بڑے محقق تھے ان کے تحقیقی مضامین عموماً جناب احمد ندیم قاسمی کے زیر ادارت چھپنے والے رسالوں میں چھپتے رہے ہیں ۔ گو ہم لوگوں کے اصرار کے باوجود انہوں نے اس ذخیرہ علم کو کتابی صورت نہیں دے سکی اس کا ہم سب دوستوں کو قلق رہے گا کہ انہوں نے اپنے کام کو کتابی صورت کیوں نہیں دی۔ اب ان کی تخلیقات کاغذوں کی صورت میں ان کی الماریوں میں بھری پڑی ہیں خدا جانے وہ کب سامنے آئیں ان کے ایک شاگر د ڈاکٹر واجد تبسم نے ان کے کچھ مضامین کو ، جو ہندکو ادب پر ہیں، کتابی صور ت دی ہے اور آپ کی ہندکو شاعری کو بھی کتابی شکل میں شائع کیا ہے مگر ان کابہت سارا ادبی کام سامنے آنے سے رہ گیا ہے۔ صوفی صاحب نے ہندکو ادب میں بھی بہت کام کیا ہے اُن کے بہت سے مضامین دوسروں نے اپنے نام سے شائع کروائے ہیں جسکی تحقیق جاری ہے صوفی صاحب ایک عہد کا نام ہے وہ ہم سے سوموار 23 دسمبر کو بچھڑ گئے۔ ان کے چاہنے والوں اور ان کے شاگردوں کیلئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہے مگر کیا کریں کہ ہر ذی روح نے ایک دن تو جانا ہی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ کریم ان کی روح کو اپنی جوار رحمت میں رکھے اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں ایک باغ بنائے۔