بریکنگ نیوز
Home / کالم / بینے سے سیانا۔ سود یوانہ!

بینے سے سیانا۔ سود یوانہ!

یہ جو ہمارے لٹریچر میں محاورے تشکیل ہوتے ہیں یہ بس یونہی نہیں ہوجاتے، ان کے پیچھے صدیوں کی دانش، حکمت اور تجربہ پنہاں ہوتا ہے ان سے ایک پوری تاریخ وابستہ ہوتی ہے ہندو کو بنیاکیوں کہاجاتا ہے؟ اس پر سوچئے گاضرور! غیر منقسم ہندوستان میں ہندو ساہوکار تھے وہ اپنے لین دین میں مسلمانوں سے جو سلوک روا رکھتے تھے اسی کی بنیاد پر کئی محاورے اردو لٹریچر میں لکھے گئے، مثال کے طورپر ان میں سے ہم چند ایک کا ذکر کردیتے ہیں،’بنیا اپنا گڑ بھی چھپاکر کھاتا ہے‘، بنیا بھولتا ہے تو بھی زیادہ بتاتا ہے، بنیا جس کا یار اس کو دشمن کیا درکار،بنیے سے سیانا۔ سودیوانہ‘آخر الذکر محاورے کا مطلب یہ ہے کہ لین دین کے معاملے میں بنیے سے بڑھ کر کوئی ہوشیار ہے تو اسے دیوانہ سمجھو‘ یہ سب کچھ ہم نے اس لئے لکھا کہ ہندو بنیا 1947ء سے ہمارے جسم پر چرکے پے چرکا لگا رہا ہے ان چرکوں کی ایک لمبی فہرست ہے ایک طویل داستان ہے اور اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندو بنیے نے ہندوستان کی تقسیم کے عمل کو کبھی بھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا‘ اس نے ہمارے خلاف اپنی بدنیتی کا ثبوت تواسی وقت فراہم کردیا تھا کہ جب تقسیم ہند کے اثاثے تقسیم ہو رہے تھے تو اسنے ہمارے حصے کے پیسے کافی عرصے تک روکے رکھے‘ نہرو نے اقوام متحدہ کے فلور پر مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا وعدہ کیا جو بھارت نے آج تک پورا نہ کیا 1947ء سے لیکر اب تک بھارت افغانستان کیساتھ سازباز کرکے ہماری چھاتی پر مونگ دلتا آ رہا ہے‘کیا اپنے حالیہ دورۂ بنگلہ دیش کے موقع پر نریندر مودی نے یہ برملا نہیں کہا کہ 1971ء کی شورش میں بھارت نے پاکستان کو دو ٹکڑے کرنیکی سازش میں مکتی باہنی کی مالی اور عسکری امداد کی تھی ان حقائق کے پیش نظر جب ہم کسی پاکستانی کے دل میں بھارت کیلئے نرم گوشہ محسوس کرتے ہیں ۔
۔

تو کف افسوس ملتے ہیں عام تاثر یہ ہے کہ حکومت وقت کے رہنما بھارت کو اس ہی کی زبان میں جواب نہیں دے رہے، نہ جانے وہ کس سیاسی مصلحت کا شکار ہیں کیا بھارت کی وسیع وعریض منڈی پر ان کی نظر ہے کہ جہاں وہ اپنے کارخانوں کی مصنوعات فروخت کرکے اپنے دھن میں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں، اسلئے وہ اس سے اپنے تعلقات استوار رکھنا چاہتے ہیں، کیا وہ ابن خلدون کے اس مقولے کو سچ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ تاجر اگر کسی ملک کے حکمران بن جائیں تو وہ اپنے اقتدار کے بل بوتے پر اپنے دھن میں اضافہ کرتے ہیں اور پھر اپنے بے پناہ دھن سے اقتدار میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں بھارت نے پاکستان کے خلاف کئی محاذ کھول رکھے ہیں اوراگر اس کے ٹریک ریکارڈ کو مدنظر رکھاجائے تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ ہمارے لئے مستقبل میں کئی مسائل کھڑے کرنیکی کوشش کرے گا۔

بھارت پاکستان کیخلاف آبی جارحیت کا مرتکب ہو چکا ہے اور نریندر مودی کا اگر بس چلے تو وہ پاکستان کو بنجر کردے، بین الاقوامی قوانین اس کے آڑے آرہے ہیں ورنہ اس نے اب تک ہماری زراعت کا بیڑہ غرق کردیا تھا اور ہمارے ان دریاؤں کا رخ موڑ کر ہماری زرعی زمینوں کو بنجر کردیا ہوتا کہ جن کامنبع بھارت کی حدود میں ہے، خدا لگتی یہ ہے کہ ایوب خان کے دور کے بعد جتنی حکومتیں بھی اس ملک میں برسراقتدار آئیں انہوں نے سندھ طاس منصوبے کے مندرجات پر فالو اپ ایکشن نہیں لیا اور کبھی بھی یہ نہ سوچا کہ بھارت اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کسی بھی وقت ہمارے خلاف آبی جارحیت کرکے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا ہے، اس مسئلے پر حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرناچاہئے، ہمیں متعلقہ بین الاقوامی فورم کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا ورنہ حاکم بدہن ہم پانی کی ایسی لوڈشیڈنگ کا شکار ہوسکتے ہیں کہ ہمیں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ بھول جائیگی۔