بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / پانی ‘ خون اور کشمیر

پانی ‘ خون اور کشمیر


پیر کے دن نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ پانی اور خون اکٹھے نہیں بہہ سکتے ‘ اس دن وہ انڈس واٹر ٹریٹی کے افسروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے ‘ بھارتی میڈیا کے مطابق نریندرا مودی نے پاکستان کو عالمی طور پر تنہا کرنے اور اس کے ساتھ ایک بھر پور اقتصادی جنگ شروع کرنے کیلئے یہ اجلاس بلایاتھا ‘ اس دھیان گیان کے نتیجے میں مودی نے اپنی کابینہ کے وزراء پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بنائی اور اسے اس معاملے کا جائزہ لینے کا حکم دیا کہ انڈس چناب اور جہلم کے دریاؤ ں پر ڈیم بنا کر کیسے پاکستان کی آبی ترسیل میں کمی کی جا سکتی ہے اور ان دریاؤں کے پانی کو کیسے سیلابی ریلوں کی صورت میں بھیجا جا سکتا ہے‘ پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے پر وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور صدر ایوب خان نے ستمبر1960ء میں دستخط کئے تھے ان چھ دریاؤں میں ستلج ‘ بیاس‘ راوی‘ سندھ‘ چناب اور جہلم شامل ہیں ‘ پیر چھبیس ستمبر کے اجلاس کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان و کاس ساروپ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ کسی بھی معاہدے کو جاری رکھنے کیلئے فریقین کے درمیان رضاو رغبت کا ہونا ضروری ہے ‘ ایک صحافی نے پوچھا کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کا قانونی جواز کیا ہے‘ ترجمان نے جواب دیا کہ اس میں لکھا ہے کہ The treaty is based on goodwill بھارت کشمیر سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا رخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے یا نہیں اس پر آگے بات ہوگی فی الحال نریندرا مودی کے اس فصیح و بلیغ جملے کہ پانی اور خون اکٹھے نہیں بہہ سکتے کا صحیح سیاق و سباق تلاش کرتے ہیں‘ پیر کے اجلاس کے بارے میں بھارتی اخبارات میں جو کچھ آیا ہے اس میں پردھان منتری سے یہ جملہ بھی منسوب کیا گیا ہے کہ اڑی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کا خون رائیگاں نہیں جائیگا ‘ یہ جملہ کسی حد تک اس بیانئے کی نشاندہی کرتا ہے جو پاکستان کے خلاف نریندرا مودی کی نفرت اور انتقام پر مبنی ہے‘ بھارتی راج نیتا کی سیاسی حکمت عملی داؤ پیچ اور ان کے ذہن کے چند خفیہ گوشوں تک رسائی کیلئے ہمیں ان کی گزشتہ ہفتے کیرالہ کے جلسہ عام میں کی ہوئی تقریر سے رجوع کرنا پڑیگا اس خطاب میں پردھان منتری نے کہا تھاکہ پاکستان کے معصوم لوگوں کو ایک ایسے ریاستی عفریت کاسامنا ہے جس نے انہیں جنگ و جدل اور غربت و جہالت کے سواکچھ نہیں دیا ‘

اپنے بارے میں مودی نے کہا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو حملہ برداشت کرکے صبر و استقامت سے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پر ضلع بارہ مولا کے گاؤں اڑی میں انیس فوجیوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے پردھان منتری نے کہا کہ ہمارے فوجی ایک پر امن‘ مستحکم ‘ خوشحال اور پروقار قوم کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اس مقام جنبش آبرو سے آگے کی باتیں بھارتی راج نیتاؤں کی ذہنیت اور ان کے اگم شاستروں میں مچلنے والی جنم کنڈلیوں کا پتہ دیتی ہیں۔ سادھو مہاراج نے کہا کہ ہم نے اس اعتبار سے انتقام لے لیا ہے کہ ہمارے ملک میں تین کروڑ لوگوں کی مضبوط مڈل کلاس ہے لاکھوں لوگ تیزی سے غربت و افلاس سے نجات حاصل کرکے خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں ہم ہر عالمی کانفرنس کے سٹیج پر ہوتے ہیں اور پاکستان کا نام وہاں دہشت گرد ریاستوں میں لیا جاتا ہے ہم آگے بڑھتے رہیں گے کہ ہمارا آگے بڑھنا ہی ہمارا اصل انتقام ہے۔ پنڈت جی کا ملک سوا ارب لوگوں کی منڈی ہونے کے باوصف یقیناً ترقی کررہا ہے مگر ان پچاس کروڑ لوگوں کی ہا ہا کار بھی کسی نے سنی ہے جو کئی نسلوں سے فٹ پاتھوں پر رہ رہے ہیں اور جنہیں رفع حاجت کیلئے ٹائلٹ مہیا کرنے کے لارے لپے دیکر مودی مہاراج نے ووٹ سمیٹے تھے ۔بھارت بلا شبہ پسماندگی سے نجات پانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور ہمیں اس کی غربت و افلاس کو اپنی بد حالی اور محرومیوں کے جوازکے طور پر پیش نہیں کرنا چاہئے مگر تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ بھارتی حکمران علاقے میں اپنی تھانیداری قائم کرنے کیلئے جو شعبدے بازیاں کرتے رہتے ہیں وہی اس خطے کی غربت و جہالت کی اصل وجہ ہیں آخر کیا بات ہے کہ پنڈت جی کا ملک دنیا بھر میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے باوجود اڑی میں نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں انیس فوجی ہلاک کروانے کے بعد دھمکیاں تو دے رہا ہے مگر پیشقدمی نہیں کرتا اس کی ایک وجہ تو نیو کلیئر جنگ ہے اور دوسری یہ کہ اڑی کے فوجی کیمپ میں دس ڈوگرہ بٹالین کے جو فوجی ہلاک ہوئے وہ سب کے سب سکھ تھے۔

تیسری یہ کہ رات کے وقت دن کی طرح روشن سرحدی علاقے میں Laser Censors کی موجودگی میں صرف چار جنگجو دو گھنٹے تک کیسے جدید اسلحہ سے لیس فوجیوں کیساتھ برسر پیکار رہے بھارتی میڈیا پاکستان کو للکارنے کی بجائے اگر اپنے راج پریوار کی ان شعبدہ بازیوں پر توجہ دے تو ڈھیر ساری جہالت بہت جلد ختم ہو سکتی ہے صاف نظرآرہا ہے کہ مودی مہاراج اب اپنے بچھائے ہوئے دام ہمرنگ زمیں میں پھنستے چلے جارہے ہیں اپنی شورش باطنی پر قابو پانا ان کے لئے مشکل ہو رہا ہے پہلے کشمیر میں برپا بہیمانہ مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے انیس سکھ فوجیوں کو بلیدان کیا اب اپنے بے خبر لوگوں کو پچاس برس پرانے آبی معاہدے کی دھجیاں بکھیرنے کی آتم کتھا سنا رہے ہیں پانی اور خون کے اکٹھا نہ بہہ سکنے والا ڈائیلاگ بھی خوب ہے مگر سادھو مہاراج کا اصل سمسیا (مسئلہ ) یہ ہے کہ جس ہجوم کو سرکار سڑکوں پر جنگی ترانے سنانے کیلئے لائے تھے اب اسے گھر واپس بھیجنا مشکل ہوگیا ہے مہابلی درون خانہ پخت و پز کررہے ہیں کہ ہے کوئی منجم کوئی زائچہ بنانے والا‘ فال نکالنے والا ‘ کوئی علم الاعداد کا ماہر کوئی دست شناس جو کسی شبھ گھڑی جنم کنڈلی ملا کر یہ بتائے کہ جموں کشمیر میں بھارت سے آزادی مانگنے والوں اور نئی دہلی میں پاکستان کے حصے بخرے کرنے کامطالبہ کرنے والوں کو پرماتما کا خوف کیسے دلایا جائے تمیزبندہ و آقا کیسے سکھائی جائے مہامنتری نے تل کا تاڑ بنا دیا ہے اب درباری گریہ کناں ہیں کہ تم ہی نے درد دیا ہے تم ہی دوا دینا ۔یہ دوا غربت اور جہالت کے خلاف پر دھان منتری کی جنگ بھی ہو سکتی ہے اور پاکستان کے خلاف طبل جنگ بھی کسی کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے مودی سرکار عالمی طاقت بننے کے زعم میں مبتلا ہے پر اصلی صورت حال یہ ہے کہ
جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی
اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی

جہاں تک تعلق ہے دریاؤں کے رخ موڑنے کا تو اس کے بارے میں نئی دہلی کے انڈیا کا رنیگی تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر راجہ موہن نے 27ستمبر کے انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا ہےLegally abrogating the treaty is not workable building the dams need massive investment, dams will make terror problems much worseراجہ موہن کی رائے میں سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے بعد پاکستان 1972ء کے شملہ معاہدے اور 1999ء کے لائن آف کنٹرول کی نگہداشت کے معاہدوں کو منسوخ کرنے میں حق بجانب ہوگا‘ ڈیم بنانے کے بارے میں مضمون نگار نے کھلے لفظوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک ایسا مہنگا اور طویل المیعاد پراجیکٹ ہوگا جس کے نقصانات فوائد سے کہیں زیادہ ہونگے اس نقطے کی وضاحت کرتے ہوئے دانشور نے لکھا ہے کہ اگست 2008ء میں انڈیا نے پاکستان کی آبی ترسیل میں بیس ہزار کیوبک فٹ فی سیکنڈ کی کمی کی تھی اور بگلیہار ڈیم کو سیلابی ریلے بھیجنے کیلئے بھر دیا تھا اسکے نتیجے میں پنجاب میں لشکر طیبہ کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا راجہ موہن نے دلائل دیکر ثابت کیا ہے کہ ان اقدامات کے بعد انڈیا عالمی برادری میں اپنی ساکھ کھو دیگا ہمارا مشورہ بھی یہی ہے کہ کشمیر میں خون نہ بہایا جائے دریاؤں کی طغیانی اور آزادی کی تحریکیں اپنی منزل پر پہنچ کر دم لیتی ہیں۔ مہاجن سرکار 1947ء کے گزر جانے کے بعد بھی حالت انحراف میں ہے مرزا غالب نے کہا ہے کہ واماندگئی شوق تراشے ہے پناہیں وہ مگر یہ بھی کہہ چکے ہیں ۔
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
پر کچھ اب کی سرگرانی اور ہے