بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / اصلاح احوال ممکن ہے

اصلاح احوال ممکن ہے


ایک مرتبہ قومی یا صوبائی اسمبلی کارکن منتخب ہونے والایہ کیوں چاہتا ہے کہ ہر عام انتخابات میں عوامی نمائندگی کا تاج اس ہی کے سر سجے چاہے اس مقصد کی تکمیل کیلئے اسے کسی بھی جائزناجائز ہتھکنڈے کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے ؟ اس کی یہ خواہش کہ اس کے بعد اس کا بیٹا یا پھر ناگزیر حالات میں بیٹی ہی اس کی نشست سنبھالے اور سیاسی وراثت کی نسل درنسل منتقلی کا عمل جاری رہے‘کن عوامل کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہوتی ہے؟عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اکثریت کیوں ایک سماجی خدمت کے منصب تک پہنچنے کے لئے خوشی خوشی لاکھوں ، کروڑوں روپے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتی بلکہ حصول مقصد کیلئے اپنی اور اپنے صاحب حیثیت حامیوں تک کی دولت کا سہارا لینے کیلئے تیار نظر آتی ہے؟سیاست کو خدمت کا نام دینے والے، عوام کو آزادی سے اپنے خدمت گزاروں کا انتخاب کرنے کا موقع دینے کے بجائے ان کی آراء کو خرید نے یاپھرلالچ یا دباؤکے ذریعے اپنے حق میں کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟سیاسی مخالفین کا راستہ روکنے کیلئے قدم قدم پر سازشوں کے جال بچھانا اور انہیں کمزور کرنے کیلئے طاقت کے استعمال تک سے دریغ نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟جمہوریت کی بالادستیکے نعرے لگانے والی سیاسی جماعتوں میں جمہوری رویوں کا فقدان اورشخصی آمریت کا دوردورہ کیوں ؟کیوں ہاں میں ہاں ملانے والے ،چرب زبانی اور خوشامد انہ طرز عمل سے قیادت کا دل لبھانے والے، بھاری رقوم خرچ کرکے قائدین کی توجہ حاصل کرنے والے اور پارٹی سر براہان کے ہر جائز نا جائز حکم پر سر تسلیم خم کرنے والے پارٹی رہنماء و کارکن قیادت کی نظروں میں قدر و منزلت کے حقدار ٹھہرتے ہیں جبکہ پارٹی میں ہر سطح پر جمہوری رویوں کے فروغ کے خواہش مند لیکن مالی لحاظ سے کمزور سیاسی کارکن پچھلی صفوں کی جانب دھکیل دیئے جاتے ہیں ؟غیر جمہوری یا نگران دور حکومت میں جن امور مملکت کو چلانے کیلئے چھ، سات وزراء بھی کافی ہوتے ہیں ۔

جمہوری دور حکومت میں انہی امور کی انجام دہی کیلئے درجنوں وزیروں مشیروں کی ضرورت کیوں پڑ جاتی ہے ؟سرکاری افسران حکومت سازی کے موقع پر خصوصی طورپر اُن عوامی نمائندوں کے در دولت پر حاضری دیتے کیوں نظر آتے ہیں جنہیں وزارتیں ملنے کا امکان ہوتا ہے جبکہ وزارتیں ملنے کے بعد وزراء کی خوشنودی کا حصول انکی ا ولین سرکاری مصروفیت کیوں ہوتا ہے ؟ان تمام سوالوں سے جڑی قباحتوں کوباربار بے نقاب کیا جاتاہے اور ان سوالوں کے جواب کم از کم ہر باشعور شخص کے علم میں بھی ہیں اس کے باوجود ملک کا مجموعی سیاسی کلچر تبدیل نہیں ہو رہا ۔کیوں ؟۔ ملک کی تقدیر لکھنے کے لئے عوامی نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت’’ چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کو عظیم تر قومی مفادات پر ترجیح دینا،برادری ، قوم قبیلے یا خاندان سے وابستگی کی زنجیریں، وڈیروں، خان خوانین اور نوابوں کے حق نمک کی ادائیگی۔ کم و بیش یہی عوامل ہیں جو حق رائے دہی تسلسل کے ساتھ استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثرکرتے ہیں بالغ رائے دہندگان کا ایک طبقہ یہ سوچ کر کہ ان کے ووٹ سے کچھ بدلنے والا نہیں سرے سے پولنگ سٹیشنز کا رخ ہی نہیں کرتا ۔

اس طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی کچھ تعداد نے مئی 2013ء کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کی حد تک مذکورہ عوامل کے اثرات زائل کرنے کی کوشش کی اگر یہ طبقہ ملک گیر سطح پرپوری عددی قوت کیساتھ پولنگ سٹیشنزکو رُخ کرنے لگتا ہے اور اس کیساتھ ساتھ اُن ووٹرز میں بھی جوخود کو مخصوص دائروں میں مقید کر لیتے ہیں ووٹ کے درست استعمال سے متعلق شعور بیدار کر دیا جاتا ہے توملک کے مجموعی سیاسی کلچر میں مثبت و خوشگوار تبدیلیوں کی راہ ہموار ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاسی و انتخابی نظام کی اصلاح بھی ممکن ہے۔ان اہداف کے حصول کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ سٹیٹس کو کیخلاف سرگرم سیاسی قوتیں یہ ثابت کریں کہ وہ ملک کے نظام کو حقیقی معنوں میں قومی مفادات سے ہم آہنگ بنانے کی اہلیت رکھتی ہیں۔