بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ’’ترکی میں 2017 کا آغاز لہو لہان ‘‘

’’ترکی میں 2017 کا آغاز لہو لہان ‘‘


استنبول۔ ترکی کے شہر استنبول کے نائٹ کلب میں سال نو کی تقریب میں سانتا کلاز کا روپ دھارے مسلح شخص نے فائرنگ کر کے 42 افراد کو ہلاک اور 72 کو زخمی کردیا،زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے دوسرے بڑے شہر استنبول میں مسلح شخص نے پہلے نائٹ کلب کے سکیورٹی گارڈ کو فائرنگ کر کے قتل کیا اور پھر اندر گھس پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 42 افراد ہلاک جبکہ 72 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 16 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی سپتالوں میں منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے سانتا کلاز کا روپ دھارے حملہ آور نے نائٹ کلب میں سال نو کا جشن منانے والوں کو نشانہ بنایا، علاقے کا محاصرہ کر کے حملہ آور کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب گورنر استنبول اور وزیر داخلہ سلیمان صوئلو نے واقعہ میں16 غیر ملکیوں سمیت42 افراد ہلاکت جبکہ72 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے ،انہوں نے بتایا کہ حملے کے وقت کلب میں 700 لوگ موجود تھے۔،حملے میں زخمیوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ، صالح صوئلو نے مزید بتایا کہ کہ حملے کے بعد پولیس نے علاقے میں آپریشن شروع کرکے حملہ آور کی تلاش کا کام شروع کردیا، مگر تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق فوری طور پر واقعے کی ذمہ داری کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی،ادھر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سی این این ترک کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر استنبول شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور یہاں 17000 پولیس اہلکار تعینات تھے۔ واقعہ استبنول کے ضلع ارتاکوی میں پیش آیا۔

ترک میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مسلح افراد کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ سال 2016 میں ترکی کے شہر استنبول اور دارالحکومت انقرہ کو متعدد مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں کم سے کم 180 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، ان حملوں کی ذمہ داری داعش اور کردعلیحد گی پسندوں کی جانب سے قبول کی تھی۔ ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کو حملے کی تفتیش میں ترک حکام کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق صدر براک اوباما نے ترکی کی مدد جاری رکھنے کا اعائدہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نارتھ ائٹلانٹک ٹریٹی آرگنائیزیشن (نیٹو) کا اہم اتحادی ہے اور وہاں دہشت گردی کو شکست دینا لازمی ہے۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹال برگ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ استنبول سے 2017 کا المناک آغاز ہوچکا جو افسوس ناک ہے،یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی چیف فریڈریکا موغرینی، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے بھی نائٹ کلب حملے کی مذمت کی۔