بریکنگ نیوز
Home / کالم / تحریک انصاف اور جماعتی سیاست

تحریک انصاف اور جماعتی سیاست


پاکستان تحریک انصاف نے ذرائع ابلاغ اور عوام کو متاثر کرنے کے سفر کا باقاعدہ آغاز 1996ء سے کیا ایک مدت بعدذرائع ابلاغ نے بھی اس جماعت کا نوٹس لینا شروع کیا اور یہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ تحریک کے بارے میں بہت ساری پیش گوئیاں کی گئی تھیں کہ یہ جماعت جلد تحلیل ہو جائے گی اور اس کا زوروشور ختم ہو جائے گا لیکن تحریک میں سینئر سیاسی رہنماؤں اور تجربہ کاروں کی شمولیت نے اسے سہارا دیا اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں تحریک انصاف نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھے دکھائی دے رہی ہے بلکہ اس کا مستقبل بھی پہلے سے زیادہ روشن ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے ایسے تمام گروہوں کو سیاست میں دوبارہ حصہ لینے پر آمادہ و عملاً تیار کیا ہے جو سیاست سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے اور جن کے لئے اِس اصلاحی شعبے میں دلچسپی کے عوامل کم ہو گئے تھے۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی کہ تحریک انصاف نے روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک ایسا متبادل پلیٹ فارم فراہم کیا‘ جس سے بڑی تعداد میں نوجوان اور دانشور وابستہ ہوتے چلے گئے تحریک انصاف کی طرف متوجہ ہونے والوں میں نوجوانوں اور بالخصوص طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے طلبہ تنظیموں پر جو پابندی عائد کی تھی اُس کی وجہ سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہوسکا تھا۔ تحریک انصاف نے ’نئے پاکستان‘ کی تشکیل کا نعرہ لگایا اور یہ نعرہ ایک ایسے وقت میں لگایا گیا جبکہ ملک معاشی و اقتصادی محاذوں کے علاوہ امن و امان کی ناقص صورتحال اور توانائی بحران جیسے چیلنجز سے نمٹ رہا ہے۔پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے جس کی وجہ سے ملک کے وسائل ضائع ہورہے ہیں اور ملک کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے لیکن کیا بدعنوانی ملک کا سب سے اہم مسئلہ ہے شاید ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کی ضرورت ایک ایسا مضبوط و مستحکم جمہوری نظام ہے‘

جس میں قیادت اپنے حصے کی ذمہ داریاں ادا کرے اور ملک کو درپیش چیلنجز کا ایک ایک کرکے حل نکالتی چلی جائے۔ سال 2013ء سے اگر تحریک انصاف کی سیاسی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو وہ یہی ہے کہ بہتر اور جوابدہ جمہوری نظام قائم ہو سکے لیکن اگر ہم تحریک انصاف کے عملی اقدامات کو دیکھیں تو یہ مقصد حاصل کرنے کی راہ میں خود اُس کی اپنی قیادت حائل دکھائی دیتی ہے۔ ایک سو چھبیس دن کا دھرنا ہو یا رائے ونڈ مارچ‘ ہر ایک بڑے احتجاج نے ملک کے انتظامی ڈھانچے اور جمہوریت کو کمزور کیا ہے کیونکہ جمہوریت میں جو باتیں اور فیصلے پارلیمان کے اندر ہونے چاہئیں تحریک انصاف اُنہیں سڑکوں پر کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے پاس پارلیمنٹ کی رکنیت موجود ہے اور وہ چاہے تو پارلیمنٹ کے ایوان پر حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے لیکن ایسا کرنے کی بجائے وہ سڑکوں پر آ موجود ہے جس کی وجہ سے معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے اِس طرزعمل کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو بھی موقع مل رہا ہے کہ وہ جمہوریت کی بساط لپیٹ دے اور دخل اندازی کرے۔ یہ ایک خطرناک طرز عمل ہے کہ تحریک انصاف دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک ایسے نظام کو کمزور کرنے جا رہی ہے‘ جس کی کمزوری خود اُس کے اپنے حق میں بھی مفید نہیں ہوگی پی ٹی آئی کے سیاسی ماحول میں ایک خطرناک کھیل کھیلنے جا رہی ہے اور رائیونڈ مارچ حکمران جماعت کیلئے ایک زیادہ بڑا خطرہ اور دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پانامہ لیکس کی صورت انکشافات سامنے آنے کے بعد حکومت کے لئے بدعنوانی کے الزامات سے خود کو الگ رکھنا عملاً ممکن نہیں رہا پی ٹی آئی کی قیادت کو ہوش مندی کا ثبوت دینا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ کسی کی رہائشگاہ کے باہر اِس قسم کا بڑا احتجاج کس قدر خطرات کا باعث ہو سکتا ہے اور اس سے کس قدر بڑے پیمانے پر بے چینی پھیل سکتی ہے پاکستان کا موجودہ سیاسی ماحول دیکھا جائے تو سیاسی جماعتیں ملک کو مشکل دور سے گزارنے کی بجائے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں اور عدم برداشت و بے یقینی میں اضافے کی سیاست کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ اِس صورتحال میں پارلیمنٹ کی فہم وفراست اور اجتماعی دانش پر بھروسا کرنا چاہئے اور پارلیمنٹ کو موقع دینا چاہئے کہ وہ ماضی و حال میں ہونیو الی بدعنوانی یا انتظامی بے قاعدگیوں کے آگے بند باندھے۔ کسی سیاسی جماعت کے لئے سٹریٹ پاور ہونا بہت اچھی بات ہے۔

لیکن ایسی سٹریٹ پاور کے ذریعے پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید خراب کرنے کی بجائے اگر عام آدمی کی سیاست سے بیزاری کو دلچسپی سے بدل دیا جائے اور ہر بات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اُس پارلیمانی حق کو استعمال کرنے سے مشروط کر دی جائے جس میں فیصلے غوروخوض اور اجتماعی سطح پر ہوتے ہیں تو اس سے بہتری کے نئے امکانات جنم لیں گے جن کی پاکستان کو ہر شعبے میں انتہائی ضرورت ہے۔