بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاگل پن

پاگل پن


گاؤں میں دو پاگل رہتے تھے۔دونوں میں خوب یارانہ تھا۔ دیوانوں کا یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس وقت کیا کر بیٹھیں اور یہ بھی کہ دیوانہ بکار خویش ہشیار ۔ کچھ ایسی ہی مثال ان دونوں دوستوں کی بھی تھی۔دن کو وہ گاؤں سے باہر نکل جاتے اور اکیلی جگہ بیٹھ کر اللہ جانے ایک دوسرے کے ساتھ کیا کیا باتیں کرتے۔ بھوک لگتی تو گھر لو ٹ آتے۔ویسے وہ کسی بھی گاؤں کے آدمی یا بچے کو کبھی تنگ نہ کرتے۔ایک دن ایک اکیلا ہی گھر سے نکلا اور نہ جانے اُس کے جی میں کیا آئی کی بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا۔لوگوں نے دیکھا تو سب اُس کی جانب دوڑ پڑے اور اُسے کھمبے سے نیچے اتارنے کی کوشش کرنے لگے ۔ دیوانہ تھا کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ کسی کو خیال آیا تو دوڑتا ہوا دوسرے دیوانے کے گھر گیا اور اُسے کہا کہ اُس کا دوست بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا ہے اور نیچے نہیں اتر رہا ۔ جاؤاور اُ س کو سمجھا بجھا کر نیچے اتارو ورنہ وہ کرنٹ لگنے سے مر جائے گا۔دیوانے نے گھر سے درانتی لی اور کھمبے کی جانب چل پڑا۔وہاں جا کر اُس نے ساتھی دیوانے کو کہا کہ جلدی سے نیچے اتر آؤ ورنہ میں کھمبا اس درانتی سے کا ٹ دوں گا ۔اوپر والے نے جب دیکھا کہ دوسرے کے ہاتھ میں درانتی ہے تو وہ فوراً نیچے اتر آیا۔لوگ بہت حیران ہوئے کہ ہم لاکھ جتن کر رہے تھے یہ نہیں اتررہا تھا اور دوست کے ہاتھ میں درانتی دیکھ کر جلدی سے نیچے اتر آیا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا سب کے کہنے پر تو تم نیچے نہیں اترے اور دوست کے ہاتھ میں درانتی دیکھ کر کیسے نیچے اتر آئے ہو۔اُس نے کہا کیا تم کومعلوم نہیں کہ یہ دیوانہ ہے اور دیوانے کا کیا اعتبار۔ کیا خبر پول کو کاٹ ہی دیتا ۔ بات تو صحیح ہے کہ دیوانوں کا کیا اعتبار ۔ کل تک ہندوستان کا دیوانہ وزیر اعظم پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کر رہا تھا۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان اور ہندوستان ایٹمی طاقتیں ہیں اگر خدا نخواستہ جنگ چھڑجاتی ہے تو جو فریق بھی یہ سمجھا کہ اُس کو ہار ہونے والی ہے تو اُس کے بعد ۔

اگلی بات سوچنے سے بھی جھر جھری آ جاتی ہے کم از کم قوت کا ایٹم بم بھی اپنے پھٹنے کی آواز سے لے کر اپنے پھیلاؤ تک میلوں کے علاقے میں موت کا پیغام لے کر جائے گا اور یہ موت صرف انسانوں کی نہیں بلکہ اُس کے دھوئیں کی چھتری کے نیچے جو بھی ذی روح ہو گا اُس نے فنا ہو جانا ہے۔ اُس کے بعد کی تابکاری جو اپنے اثرات چھوڑے گی تو کم از کم ایک صدی تک اس تابکاری سے متاثر ہونے والے انسانوں کی نسلیں ایسی پیدا ہوں گی کہ جن کو انسان سمجھنا بھی مشکل ہو گا۔ ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم صرف کہنے کی حد تک بم ہیں ان کی تباہ کاریاں بموں سے کروڑوں گنا زیادہ ہیں۔اس لئے اس جنگ سے ہمیشہ پناہ مانگنی چاہئے مگر بات پھرپاگل پن کی ہے کہ اگر ہندوستان پاکستان کا پانی بند کر دے اور سندھ طاس معاہدے کی تنسیخ کی باتیں کر رہا ہے تو کیا پاکستان غربت اور بے روز گاری کے خاتمے میں ہندوستان کا مقابلہ کر سکے گا۔ مودی سرکار جس کھمبے پر چڑھ کر بھڑکیں ماررہی ہے اُس سے تو اُسے کوئی دیوانہ ہی درانتی لے کر نیچے اتار سکتا ہے۔ مگر یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہندوستان نے جو لشکر کشی پاکستان کے مشرقی سرحدوں پر کر لی ہے اُس کے اثرات کیا ہوں گے۔ فوجیں مہینوں تک ہتھیار بند ہو کر ایک دوسرے کی مقابل نہیں بیٹھ سکیں گی اسلئے کہ ہاتھ میں بندوق ہو اور دشمن سامنے بیٹھا ہو توکیسے ممکن ہے کہ انگلی ٹریگر تک نہیں جائیگی اسکی تازہ مثال آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کی دوسری جانب سے ہندوستان کی فوجوں کی بلا اشتعال گولہ باری ہے کہ جس سے آزاد کشمیر کے شہری مر رہے ہیں اور جب ایک طرف سے گولہ باری شروع ہو جائے تو دوسری طرف ممکن نہیں ہوتا کہ جوان اپنے ہتھیاروں کو پالش کر کے رکھ دیں اسلئے اگر ہندوستان جنگ نہیں چاہتا تو اپنے کتوں کو باندھ کے رکھے ورنہ کوئی بھی اپنی ٹانگیں کتوں کے منہ میں دے کر سونے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ ہندو ، جیسا کہ ہمارے بزرگ بتاتے ہیں اور ہماری ہندکو کی تمثیل بھی ہے کہ،’’کاں‘کراڑے‘کتّے تے۔ اعتبار نہ کریو سُتّے تے‘‘ یعنی کوے ، ہندو اور کتّے پر کبھی بھی بھروسا نہیں کرنا چاہے وہ سویا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔