بریکنگ نیوز
Home / کالم / روڈ بلاک کرنا اچھی بات نہیں

روڈ بلاک کرنا اچھی بات نہیں


اس ملک میں سرکاری سڑک کو بقول کسے کئی لوگوں نے اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے اگر حکومت کی کسی بات پر وہ نالاں ہوں یا کسی سرکاری محکمے پر انہوں نے اپنا غصہ نکالنا ہو تو وہ فوراً اسے بلاک کردیتے ہیں ان کو رتی بھر بھی اس بات کا خیال نہیں آتا کہ ایسا کرنے سے وہ خلقت خدا کیلئے کتنی بڑی تکلیف پیدا کررہے ہیں ہم نے کئی دل کے مریضوں اور زخمیوں کو روڈ بلاک سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام میں پھنسے دیکھا کہ جن کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی اور وہ ہسپتال جارہے تھے اس قسم کے واقعات پر مجال ہے کہ روڈ بلاک کرنے والوں کا کبھی دل پسیجا ہو اس معاملے میں ہمارے سیاست دانوں کا بھی کم وبیش یہی حال ہے ان کا بھی یہ ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ سڑکوں کو اپنے جلسوں اور جلوسوں کیلئے استعمال کرتے ہیں ان کو کبھی خیال نہیں آتا کہ ان کے اس طریقہ کار سے ایک عام آدمی کی زندگی کے روزانہ کے معمولات پر کس قدر منفی اثر پڑتا ہے چھابڑی فروشوں کا کاروبار تباہ ہوجاتا ہے جو لوگ دیہاڑی دار ہوتے ہیں ان کے روزگار پر منفی اثر پڑتا ہے اسی طرح ہمارے مذہبی رہنماؤں کو بھی عام گزر گاہوں اور سڑکوں پر جلسے کرنا اچھا لگتا ہے کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ اگر انہوں نے عوام سے کچھ کہنا ہے تو وہ ٹیلی ویژن کے ذریعے کہیں آج کل تو الیکٹرانک میڈیا کازمانہ ہے درجنوں ٹیلی وژن چینلز نجی سیکٹر میں کام کررہے ہیں ان پر یہ لوگ ائر ٹائم خرید سکتے ہیں وہ ان کوسستا بھی پڑیگا اور اس کے ذریعے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا پیغام اپنا منشور پہنچا سکیں گے اور خلقت خدا کی بھی روزانہ کی بک بک روزانہ کے ٹریفک کی بندش سے جان چھوٹے گی خدالگتی یہ ہے کہ اس ملک کا عام آدمی روزانہ کے ٹریفک جام سے اب تنگ آچکا ہے اور یہ ٹریفک پولیس والے جب ان سڑکوں پر ٹریفک بند کردیتے ہیں کہ جن پر وی وی آئی پیز کی گاڑیوں نے گزرنا ہوتا ہے ۔

تو یقین کریں ٹریفک میں پھنسے ہوئے لوگوں کے منہ سے ہم نے وی وی آئی پیز کیلئے بدعائیں نکلتی سنی ہیں اور کئی منچلے تو ان کو صلواتیں بھی سناتے ہیں اگر وہ عوام سے اتنا ہی خوف زدہ ہیں تو حکومت ان کو ائر پورٹ سے اپنی منزل مقصود تک ہیلی کاپٹر میں لے جانے کا بندوبست کیوں نہیں کرتی؟ تہذیب یافتہ ممالک میں کسی شخص کو اجازت نہیں کہ وہ کسی سرکاری یا کسی کی نجی سڑک یا گزر گاہ کو حکومت کو کسی مسئلے پر بلیک میل کرنے کیلئے بلاک کرے وقت آگیا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن کے رہنما اس معاملے میں عوام کی تکلیف کا احساس کریں اور آپس میں سرجوڑ کر ایک قانون تشکیل دیں کہ سرکاری سڑکوں کو کسی بھی سیاسی مقصد کیلئے بروئے کار نہیں لایا جائے گا جلسے جلوسوں کو بے شک آپ کھلے میدانوں ‘پارکوں میں منعقد کرسکتے ہیں کہ جو ملک کے ہر شہرمیں موجود ہیں جن کو آپ کی تقاریر سننا ہوں گی وہ خواہ مخواہ آپ کو سننے وہاں پہنچ جایا کریں گے ویسے سب سے بہترین حل اس مسئلے کا یہ ہے کہ ہمارے سیاسی زعما الیکٹرانک میڈیا کا اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اس سے حکومت وقت کیلئے کوئی امن عامہ کامسئلہ بھی پیدا نہ ہوگا اور نہ ہی سیاسی جلوسوں کی رکھوالی کیلئے اسے پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی پر رقم خرچ کرنا پڑیگی حالات اب سے 30 یا 40 برس پہلے اتنے خراب نہ تھے کہ جتنے آج ہیں ماضی میں یار لوگ اپنے جلسے عشاء کی نماز کے بعد چوک یادگار ‘فوارہ چوک‘ موچی گیٹ‘ نشترپارک‘ لیاقت پارک‘وغیرہ جیسی جگہوں پر رکھتے تھے وہ ایسا وقت ہوتا تھا کہ دکانیں بند ہوتی تھیں سڑکوں پر رش نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا کسی کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوتے تھے اور جس کسی کو بھی اپنے محبوب سیاسی رہنما کو سننا ہوتا تھا وہ جلسہ گاہ میں خود چلا جاتا اب تو یار لوگ جان بوجھ کر رش والی جگہوں پرجلسے کرتے ہیں تاکہ ٹیلی ویژن کیمرے کے آگے ان کا حجم زیادہ دکھائی دے اس قسم کی رش میں تو آدھے لوگ تماش بین اور راہ گیر ہوتے ہیں۔