بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کو 2016میں خارجہ سطح پر خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں ،سرتاج عزیز

پاکستان کو 2016میں خارجہ سطح پر خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں ،سرتاج عزیز


اسلام آباد۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2016میں خارجہ سطح پر خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں ، اس سال پاکستان کے اسلامی اور یورپین ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں جو ٹارگٹ حاصل نہیں ہوئے ان پر 2017میں زیادہ توجہ دی جائے گی ۔ سرکاری ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویسے تو 2016بڑا غیر یقینی سال تھا ایسی چیزیں ہوئی ہیں جن کی توقع بھی نہیں تھی خاص کر ٹرمپ کا الیکشن اور شام کے حالات وغیرہ ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بے یقینی صورتحال میں خارجہ پالیسی کے تقاضے مزید مشکل ہوجاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں ڈپلومیسی میں خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ 2016میں چائنہ کے ساتھ ہماری شراکت داری نے نئی منزلیں طے کی ہیں ۔ 2015میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران سی پیک پر ہونے والی بات چیت میں ایک سال میں بہت پیش رفت ہوئی اس منصوبے کے نہ صرف سمجھوتوں پر دستخط ہوئے بلکہ اس پر کام بھی شروع ہوگیا ہے۔

بڑی کامیابی یہ ہے کہ دودن پہلے اس منصوبے پر 15بلین کا اضافہ ہوا ہے پہلے 40بلین کا تھا اب 55بلین کا ہوگیا ہے ۔ صرف سی پیک ہی نہیں سیکیورٹی دہشت گردی کے خلاف اور دیگر ایشوپر مکمل تعاون ہوا ہے یہ ہماری پہلی پیش رفت ہے جو ہماری خارجہ پالیسی کیلئے بہت تقویب کا باعث ہے ۔ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہوئے ہیں مشرق وسطی کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے ۔ شنگھائی تعاون ( ایس سی او )کی ممبر شپ بھی بہت اہم ہے ۔ ترکمانستان کے ساتھ تاپی پائپ لائن کا آغاز وغیرہ اسلامی دنیا خاص کر ترکی سعودی عرب ، قطر ، ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے ۔ دنیا میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے جبکہ ہمارے ان پچھلے دوڈھائی سالوں میں اس پر قابو پایا گیا ہے ۔ جس سے ہماری اقتصادی صورتحال اچھی ہوئی ہے ۔ خطے اور یورپ کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔

تجارت کیلئے جی ایس پلس کا ملنا بھی ہماری ڈپلومیسی کی کامیابی ہے ۔ اس سال ہماری انٹرنیشنل ڈپلومیسی بہت متحرک رہی ہمارے ہاں 25اعلی سطح دورے ہوئے ہم نے بھارت کی اجارہ داری کو روکا ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کے بغیر بھارت کے ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی ۔ ہم اپنے قومی سلامتی کے بنیادی تقاضوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ ہم مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کررہے ہیں ہم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کو اگاہ کیا جس کیلئے ہمیں بہت پذیرائی مل رہی ہے ۔ دنیا تسلیم کررہی ہے کہ ہمارا موقف زیادہ مناسب ہے کہ پاکستان بات چیت کرنا چاہتا ہے مگر بھارت ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے امن اور اقتصادی بہتری کیلئے جو کچھ کرسکتے ہیں کررہے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ امید ہے کہ ہم نئی امریکی انتظامیہ کو یہ باور کراسکیں گے کہ ہم دہشت گردی کے خلا ف خلوص اور تیزی سے پرسرپیکار ہیں