بریکنگ نیوز
Home / کالم / ماں میری بندوقوں کو ز مین میں دفن کردو

ماں میری بندوقوں کو ز مین میں دفن کردو

امریکی کنٹری سنگر یا کہہ لیجئے کہ دیہاتی گویئے باب ڈلن کے ادب کے شعبے میں نوبل انعام حاصل کرنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے… نصیر احمد ناصر چونکہ خود بھی ایک اہم شاعر ہیں اس لئے انہوں نے جو کالم تحریر کیا ہے وہ بے حد متاثر کرنے والا ہے لیکن مجھے بھی اس سلسلے میں کچھ کہنا ہے اگرچہ کچھ دیر سے کہہ رہا ہوں کہ…ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں…

باب ڈلن کو میں نے پہلی بار تقریباً ساٹھ برس پیشتر انگلستان کے قیام کے دوران دیکھا اور سنا…ان دنوں وہ ایک دیہاتی سانوجوان ہوا کرتا تھا جو گلے میں گٹار ڈالے اور ہارمونیکا آویزاں کئے کنٹری سونگ گاتا تھا‘ گٹاربجاتا تھا اور وقفوں میں ہارمونیکا ہونٹوں سے لگا کر نہایت اداس دھنیں چھیڑتا تھا… اس کی آواز میں ایک کھردرا پن تھا لیکن اس کے اپنے لکھے ہوئے گیت بہت اعلیٰ درجے کی شاعری ہوا کرتے تھے…اگرچہ مجھے نہ صرف مغرب کی کلاسیکی موسیقی سے شغف تھا بلکہ میں دیگر اصناف موسیقی سے بھی رغبت رکھتا تھا اور ان میں بلوز… جاز اور راک اینڈ رول وغیرہ بھی شامل تھے لیکن امریکی کنٹری میوزک کو میں زیادہ پسند نہ کرسکا اگرچہ اس میں گھر سے دوری اور اداسی کا رچاؤ بہت تھا لیکن یہ میرے کانوں کو زیادہ بھلی نہ لگی کہ اس میں یکسانیت بہت تھی…

ہم جیسے لوگ جو اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے کہ امریکی چاند پر نہیں گئے اور جب جڑواں مینار مسمار کئے گئے تو اس روز وہاں کام کرنے والے یہودی چھٹی کرگئے اور اب تو مغرب بھی آگاہ ہو چکا ہے کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا سخت حماقت ہے تو ہم جیسے لوگ ایسی حقیقتوں کا سامنا نہیں کرتے اور خوابوں کے مسافر ہوتے ہیں‘ لکھنے پڑھنے کو ہی زندگی جانتے ہیں تو ہر برس ہمیں بہت اشتیاق ہوتا ہے کہ دیکھیں اس بار ادب کا نوبل انعام کسے ملتا ہے اور جب انعام کا اعلان ہوتا ہے تو ہم اس ادیب کے ناول یا شاعری کو خصوصی طور پر پڑھتے ہیں کہ ذرا دیکھیں کہ انکے مقابلے میں ہم کہاں کھڑے ہیں‘ باب ڈلن کو انعام عطا ہوا تو کھلا کہ اس برس ہم کتابیں نہیں پڑھیں گے‘ نوبل انعام حاصل کرنے والے کے گیت سنیں گے… اس میں کچھ شک نہیں کہ باب ڈلن نے اپنے گیتوں میں جو شاعری کی وہ بہت تخلیقی اور اثر انگیز ہے لیکن اس معیار کے مطابق تو گلزار‘تنویر نقوی‘ مجروح سلطان پوری‘ مدھوک‘ بابا عالم سیاہ پوش‘ احمد راہی اور قتیل شفائی بھی ادب کے نوبل انعام کے حقدار ٹھہرتے ہیں…

کیا’’ ماہی آوے گاتے پھلاں نال دھرتی سجاواں گی‘ اوہنوں رانگلے پلنگ تے بٹھاواں گی‘ تے جھلاں گی پکھیاں تے بہت کچھ کہنا گیاں اکھیاں یا پھر ڈنگ پیار دا سینے وچ کھا کے‘ ہنجو پلکاں وچ لکاکے‘ چپ رہئے‘ کسے نوں سنایئے ناں‘‘ وغیرہ اعلیٰ درجے کی دل پر اثر کرنے والی شاعری نہیں ہے… باب ڈلن کے بارے میں جب ایک بڑے امریکی ڈرامہ نگار نارض میلر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ شاعر ہے؟ تو اس نے کہا کہ اگر وہ شاعر ہے تو پھر میں بیس بال کا ایک کھلاڑی ہوں‘ ایک اور ادیب نے کہا میں بہت خوش ہوں… ہو سکتا ہے اگلے برس مجھے ادب پر موسیقی کا سب سے بڑا ایوارڈ گریمی مل جائے’’ نیویارک ٹائمز‘‘ بھی زیر مطالعہ رہتا ہے تو اس میں ایک کارٹون شائع ہوا ہے… ایک پریشان حال بوڑھا ادیب کتابوں اور مسودوں کے ڈھیر میں بیٹھا کہہ رہا ہے’’ کاش کہ میں ایک راک سٹار ہوتا‘‘ یعنی قلم کی بجائے گٹار تھام لیتا… اس انعام کے اعلان سے جاپان میں تو گویا ایک صف ماتم بچھ گئی‘ پورے ملک کے بک سٹورز ناول نگار میرے بھی پسندیدہ ہاروکی نوراکامی کے ناولوں سے سج گئے کہ اس بار تقریباً طے تھا کہ نوبل انعام نوراکامی کو ملے گا… اور مجھے دکھ تھا کہ نہ تو یہ انعام شام کے سب سے بڑے شاعر اڈونس کو ملا اور نہ ہی البانیہ کے اسماعیل کدارے اور الجیریا کے یاسمین خدرے کو… بے شک وہ مسلمان ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک کو نوبل نہ ملنا کتنی بڑی بددیانتی ہے…

آج تک صرف دو مسلمان ادیبوں کو نوبل انعام سے نوازاگیا… مصر کے نجیب محفوظ اور ترکی کے ارہان پاموک کو… اور حسب توقع مذہبی حلقوں کی جانب سے ان دونوں ادیبوں پر خوب لعن طعن کی گئی… ہم آسانی سے نوبل انعام حاصل کرنے والوں کو نہیں بخشتے… چلئے میں یہاں باب ڈلن کے کچھ گیتوں کا برا بھلا ترجمہ پیش کرتا ہوں آپ خود فیصلہ کر لیجئے کہ کیا وہ واقعی ایک بڑا شاعر ہے یا اگر بڑا ہے تو اس لئے ہے کہ وہ امر یکی ہے…

آخر ایک پہاڑ کتنے برس تک قائم رہ سکتا ہے‘ اس سے پیشتر کہ وہ سمندر میں بہہ نہ جائے… اور کتنے برس کچھ انسان زندہ رہ سکتے ہیں اس سے پیشتر کہ انہیں آزاد ہو جانے کی اجازت دے دی جائے اور پھر کتنی بار ایک شخص ان حقیقتوں سے منہ موڑ سکتا ہے… اپنے آپ کو یہ دھوکا دے کر کہ اسے کچھ نظر نہیں آتا… اس کا جواب یہ ہے کہ جواب ہواؤں کی نذر ہوگیا ہے… جواب ہواؤں میں شائیں شائیں کرتا ہے…
آپ کو ایک موسم کا حال بتانے والے کی ضرورت نہیں ہوتی صرف یہ جاننے کیلئے کہ ہوا آج کس رخ چلے گی…
جب آپ کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو… آپ کے ہاں کھونے کیلئے بھی کچھ نہیں ہوتا… میں تھکاوٹ سے چورہوچکا تھا…

ژالہ باری میں دفن ہوچکا تھا… جھاڑیوں نے مجھے ڈس لیا تھا… راستے سے بچھڑ گیا تھا‘ ایک مگرمچھ کی مانند شکار کیا جارہا تھا… اندرآجاؤ‘ ایک عورت نے کہا… میں تمہیں اس طوفان میں پناہ دوں گی…
اے ماں‘ میری بندوقیں زمیں میں دفن کر دو… میں اب انہیں نہیں چلا سکتا… ایک طویل سیاہ بادل نیچے آرہا ہے… مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں جنت کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں…
میرے نیلی آنکھوں والے بیٹے لاڈلے بیٹے…تمہاری ملاقات کس سے ہوئی… میں نے ملاقات کی ایک مردہ خچر کے ساتھ بیٹھے ایک بچے سے… ایک سفید فام شخص سے جو ایک سیاہ کتے کے ساتھ سیر کر رہا تھا… ایک ایسی عورت سے جس کا بدن سلگتا تھا… ایک نوجوان لڑکی مجھے ملی جس نے مجھے ایک قوس قزح تحفے میں دی… مجھے ایک ایسا شخص ملا جو محبت سے زخمی ہو چکا تھا… ایک اور شخص ملا جو نفرت سے زخمی ہو چکا تھا… مشکل ہے‘ بہت مشکل‘ بہت ہی مشکل… یہ ایک مشکل بارش ہے جو برستی ہی جاتی ہے…