بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوچ کا طلب افکار

سوچ کا طلب افکار


اللہ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ ندا کرتا ہے کہ موت کیلئے اولاد پیدا کرو برباد ہونے کیلئے مال جمع کرو اور تباہ ہونے کیلئے عمارتیں کھڑی کرو ‘کیا اس ملک کی اشرفیہ اس قول سے کوئی سبق لے گی؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول پڑھئے اور پھر ذرا غور کریں کہ آج کل کے حالات پر یہ کس قدر صادق آ رہا ہے ’’ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں وہی بارگاہوں میں مقرب ہوگا جو لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا ہو‘ اور وہی خوش مذاق سمجھا جائے گا جو فاسق و فاجر ہو اور انصاف پسند کو کمزور و ناتواں سمجھا جائیگا ایسے زمانے میں حکومت کا دارومدار عورتوں کے مشورے ‘ نوخیز لڑکوں کی کارفرمائی اور خواجہ سراؤں کی تدبیر و رائے پر ہوگا ۔ کاش کہ ہم میں سے وہ لوگ جو دن رات مال بنانے کے چکر میں سرگرداں ہیں ان کیلئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ فرمان کام آئے ۔ کوفہ سے باہرایک قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا ’’اے وحشت افزا گھروں ‘ اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو! اے خاک نشینوں اب صورت یہ ہے کہ دنیا میں جو تم اپنے گھر چھوڑ آئے ہو ان میں دوسرے بس گئے ہیں۔ بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لئے ہیں اور سارا مال اسباب تقسیم ہو چکا ہے یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے اب تم کہو کہ تمہاری یہاں کی کیا خبر ہے؟ پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’ اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ‘‘

اب ذرا درج ذیل تحریر بھی پڑھئے کہ جو اسلام کے چوتھے خلیفہ سے منسوب ہے تھوڑا غور کرنے سے آپ قائل ہو جائیں گے کہ جن باتوں کا انہوں نے اس میں ذکر کیا وہ آج ہم کو چاروں طرف نظر آ رہی ہیں انہوں نے فرمایا تھا ’ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اس وقت مسجد یں تعمیر و زینت کے لحاظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنیوالے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہونگے وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہونگے جو ان فتنوں سے منہ موڑے گا اسے انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جو قدم پیچھے ہٹائے گا اسے دھکیل کر انکی طرف لائیں گے ‘‘ ایک دوسری جگہ انہوں نے فرمایا تھا ’’ بے چارہ آدمی کتنا بے بس ہے ۔ موت اس سے نہاں ‘ بیماری اس سے پوشیدہ مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتا ہے اچھو لگنے سے مر جاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے ‘‘

اس کالم کی تمہید میں مندرجہ بالا اقوال کے ذکر کا مقصد یہ تھا کہ یوں تو دنیا میں مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے اور پچاس سے زیادہ ممالک مسلمان ممالک کہلاتے ہیں پر خدا لگتی کہئے کہ ان میں کتنے ایسے ملک ہونگے جن کے حکمران اور عوام اسلامی تعلیمات پر من و عن عمل پیرا ہیں یہی وجہ ہے کہ پسماندگی ‘ بے راہ روی ‘ غربت ‘ افلاس ان میں کئی ممالک کا مقدر ہے ان میں جو ممالک قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہیں ان کے حکمران بس اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ سپین ‘ فرانس اور اٹلی میں سالم جزیرے خرید لئے جائیں لندن اور نیو یارک میں اپارٹمنٹ اور یا پھر عرب امارات میں بڑے بڑے ہوٹل تعمیر کر لئے جائیں اپنی پرواز کیلئے اپنے ذاتی ہوائی جہازوں کو دنیا کی ہر قسم کی سہولت سے مزین کر لیا جائے اور گھومنے پھرنے کیلئے سپیشل آرڈرز پر مہنگی ترین موٹر کاریں خرید لی جائیں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہزار برس سے ہم سائنسی ریسرچ کے میدان میں صفر ہیں ہم اسلحہ کی خریداری کیلئے مغرب کے محتاج ہیں اگر وہ ہم پر ہوائی جہازوں کے سپیئر پارٹس بیچنا بند کر دیں تو ہمارے جہاز اڑ نہیں سکتے ۔ غرضیکہ سائنسی دنیا کا کونسا میدان ہے کہ جس میں ہم نے کوئی نادر چیز ایجاد کی ہو ۔