بریکنگ نیوز
Home / کالم / درد کیا ہے؟

درد کیا ہے؟

’لیکن ڈاکٹر صاحب ! اس میں دردتو بالکل نہیں ہوتا اور اسی لئے میں نے اسے اتنا عرصہ نظر انداز کئے رکھا‘شرافت بیگم نے بے یقینی سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔ موصوفہ ابھی حال ہی میں محکمہ تعلیم سے اچھے گریڈ میں ریٹائر ہوئی تھیں انکے دائیں رخسار پر ایک پھوڑا تھا جو اب پھیلتے پھیلتے تقریباً دو انچ کا ہوچکا تھا اس سے تھوڑا سا خون رس رہا تھا لیکن اسکے اوپر پتلی سی میل کی تہہ جمی ہوئی تھی میں نے ان کو بتایا کہ ویسے تو میں تجربے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ جِلد کا کینسر ہے لیکن حتمی طور پر تبھی بتا سکتا ہوں کہ اس سے ایک ٹکڑا لے کر لیبارٹری معائنے کیلئے بھیج دوں رپورٹ آنے پر ہی میں تشخیص اعتماد کیساتھ بتا سکوں گا دو ہفتے بعد جب رپورٹ آئی تو میرا خدشہ درست ثابت ہوا اور وہ زخم جِلدی کینسر ہی نکلا خیریت نکلی کہ آپریشن کامیاب رہا اور پلاسٹک سرجری سے رخسار کا وہ گڑھا بند ہوگیا تھا۔

جیسا کہ میں ایک گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں کہ درد جسم کا الارم سسٹم ہے جب جسم کے کسی حصے کو چوٹ لگتی ہے یا دوسری بیماری کے زیر اثر ہوتا ہے تو درد ہمارے شعور کو خبر دیتا ہے تاہم کینسر کا موذی مرض ایک خاموش دشمن ہے اسکے وار کا پتہ تب چلتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے میرے پاس چونکہ جِلد‘ سر ‘ گردن ‘ہاتھوں یا اعضائے مخصوصہ کے کینسر بھیجے جاتے ہیں اسلئے ان مریضوں سے یہ گفتگو تقریباً اسی طرح سے ہوتی ہے جب میں ان کو بتاتا ہوں کہ میرے خیال میں یہ کینسر ہے تو بے یقینی سے یہی کہتے ہیں کہ اس میں تو درد نہیں ہوتا۔ کینسر کسی بھی جگہ کا ہو، پہلا حملہ خاموشی سے کرتا ہے۔ بسا اوقا ت تو آخری سٹیج میں بھی درد کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ ہاں اسکی زد میں اگر اعصاب آجائیں تو پھر بسا اوقات درد ہو تا ہے۔ مثانے کے بعض کینسر یقینی طور پر بہت درد پیدا کرتے ہیں لیکن اسکی وجہ بھی اعصاب کے گرفت میں آنا ہے۔ ہاں البتہ کینسر کے زیادہ تر علاج کے لئے بہت حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے کہ آپریشن، ریڈیو تھراپی یا کیمو تھراپی کے اثرات زیادہ سخت ہوتے ہیں۔

کینسر کے آخری درجے میں درد ہی وہ پہلورہ جاتا ہے جس کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ تو اس درجے میں مریض کا بچنا مشکل ہوتا ہے۔ مخلص ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جو مریض کے اقارب کو حقیقت بتادے کہ اس مرحلے پر کوئی بھی دوا مرض پر اثر نہیں کرسکتی اس لئے واحد دوا جو تجویز کرنی چاہئے، وہ مریض کی رہتی سانسوں کو آرام دہ بنانے کیلئے ہوتی ہے۔ بسا اوقات تین تین قسم کی درد کُش ادویات دینی پڑتی ہیں۔ افیون کے قبیل کی ادویات بغیر کسی ڈر کے دینی چاہئیں اور ان کے عادی ہونے کا ڈر نہیں ہونا چاہئے۔ اگر مریض منہ سے دوا لینے کے قابل نہیں تو اس کو رگ میں کینولا لگا کر بے شک رگ میں پوری مقدار میں دوا وقتاًً فوقتاً دے سکتے ہیں۔

بعض تکالیف ایسی ہوتی ہیں جن میں درد کُش ادویات کی بجائے دوسری ادویات زیادہ کام آتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو پیشاب کیلئے کیتیٹر یعنی پیشاب کی نالی لگی ہو تو اسے جو تکلیف ہوتی ہے وہ عام درد کش ادویات سے رفع نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس نلکی کے سر پر ایک غبارہ ہوتا ہے جو مثانے میں پڑا ہوتا ہے۔ مثانے کا نچلا حصہ انتہائی حساس ہوتا ہے اس پر معمولی دباؤ بھی انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس پر کوئی درد کُش دوا اثر نہیں کرتی۔ اس کیلئے ایسی دوا کا استعمال ضروری ہوتا ہے جو مثانے کی حساسیت کم کرے جیسے آکسی بیوٹائنین۔ اکثر ڈاکٹر بھی یہ دوا تجویز نہیں کرتے اور نتیجے میں مریض تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔اسی طرح گردے کی پتھری یا پتے کی پتھری کا درد ایسے ادویات سے رفع ہوتا ہے جو ان کے عضلات کو آرام دیں جیسے بسکوپان قسم کی ادویات۔

سردرد ایک عام شکایت ہے تاہم اگر یہ جلدی جلدی عود آئے تو ضروری ہے کہ اسکی تشخیص کسی ماہر نیورالوجسٹ سے کی جائے۔ ایک سردرد جسے درد شقیقہ یا مائیگرین کہا جاتا ہے، کئی لوگوں کو زندگی سے بے زار کردیتا ہے یہ درد کسی ٹریگر سے شروع ہوتا ہے، جیسے ٹی وی کی لہریں یا تیز لائٹ۔ میرے جیسے کئی لوگ جو بھوک میں بروقت کھانا نہیں کھاتے ، ان کو بھوک سے بھی شروع ہوجاتا ہے۔ اس درد میں مریض کو سردرد کے ساتھ ساتھ اُلٹیاں بھی آتی ہیں یہ درد شروع ہونے سے قبل مریض کو اشارات دے دیتا ہے۔ جیسے ان کو آنکھوں کے سامنے روشنی کے کوندے لپکنے لگتے ہیں۔ اگر اس موقع پر درد کی گولی لی جائے تو درد کی شدت کم ہوجاتی ہے ورنہ جب تک مکمل اندھیرے میں دو تین گھنٹے آرام نہ کیا جائے تو مریض درد سے تڑپتا رہتا ہے۔ اگر اس قسم کا سردردروزمرّہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کردے تو پھر اس کیلئے احتیاطاً مستقل علاج بھی ضرور ی ہوجاتا ہے جو نت نئی ادویات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ شدید سردرد جو بار بار ہوتا رہے ، میں دماغ کی رسولی کو بھولنا نہیں چاہئے۔

کان میں پھوڑا نکل آئے تو وہ بھی نہایت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے اور اسکے لئے ایسی دوا موثر ثابت ہوتی ہے جو پھوڑے کی سوجن کم کرے۔ گلے کی خراش کیلئے ایسی چوسنے والی گولیاں ہیں جو گلے کو سُن کردیتی ہیں۔ جلد معمولی سی جل جائے تو اسکے لئے سن کرنے والی مرہم ملتی ہے جو فوری آرام پہنچاتی ہے۔ ہڈی ٹوٹنے یا پٹھے کے اکڑنے کیلئے ایسا انتظام ضروری ہے جو ہڈی یا جوڑ کو حرکت نہ کرنے دے۔صرف ہلنے سے بچانے پر بھی مریض کو کافی آرام آجاتا ہے۔
درد کو رفع کرنے کیلئے یوں ، ضروری ہے کہ اسکی وجہ معلوم ہو اور پھر اسکے مطابق ہی علاج کیا جائے تو مریض کو بلاسبب تکلیف سے نجات مل جاتی ہے۔