بریکنگ نیوز
Home / کالم / ملکی قرضے: خطرے کی گھنٹی!

ملکی قرضے: خطرے کی گھنٹی!


خطرے کی پہلی گھنٹی: ماہ جولائی سے ستمبر کے درمیان وفاقی حکومت کی آمدنی 369 ارب روپے تھی لیکن اِسی عرصے کے دوران وفاقی حکومت کو قرضوں کی اقساط کی واپسی کے لئے 413 ارب روپے درکار تھے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی آمدنی اِس حد تک کافی نہیں کہ اس سے ملک کے واجب الادا قرضوں کی اقساط بروقت ادا کی جا سکیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی حکومت کی آمدنی اِس حد تک کم نہیں ہوئی۔صورتحال یہ ہے کہ وفاقی حکومت کو ملک کے دفاع جیسی اہم ضرورت کے لئے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح پنشن کی ادائیگی کیلئے بھی کوئی دوسری صورت نہیں لیکن یہ کہ قرض لیا جائے سول اور ملٹری اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کیلئے قرض لینا پڑیں گے ملک میں امن و امان قائم رکھنے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بھی مالی وسائل قرضوں ہی سے پورے کئے جائینگے تحفظ ماحول کیلئے قرض درکار ہوگا آنیوالے دنوں میں صحت کی سہولیات کیلئے قرض لینا پڑے گا ثقافت اور مذہبی امور کی وزارتیں فعال رکھنے کیلئے قرض لینا ہوگا الغرض سماجی بہبود و تحفظ ہر ایک شعبے کی فعالیت کیلئے درکار مالی وسائل قرضوں سے حاصل کئے جائیں گے۔خطرے کی دوسری گھنٹی: رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ملک سے جانیوالا زرمبادلہ 591ملین ڈالر رہا جبکہ اِس عرصے کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 460ملین ڈالر رہا۔

نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان نے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے ہوئی آمدنی سے 131ملین ڈالر زیادہ ادا کئے اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک زیادہ تعداد میں ڈالر باہر جا رہے ہیں اور پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری ضرورت کے مقابلے کم ہے یہ صورتحال خطرناک ہے اور اقتصادی ناپائیداری کی جانب اشارہ کر رہی ہے جس سے اگر کوئی ملک دوچار ہو جائے اور وہ اِس حالت میں سدھار لانیکی کوشش نہ کرے تو حتمی طور پر وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔خطرے کی تیسری گھنٹی: رواں مالی سال کے ماہ جولائی سے نومبر کے درمیان پاکستان کی کل برآمدات کا حجم 8.7 ارب ڈالر رہا جبکہ اِسی عرصے کے دوران ہماری درآمدات کا کل حجم 17.3 ارب ڈالر تھانتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کو درآمدات و برآمدات میں خسارے کا سامنا ہے اور یہ خسارہ 8.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اگر ہم سال بہ سال ہونے والے اِس تجارتی خسارے کی بات کریں تو اعدادوشمار کے مطابق ہر سال پاکستان کو 91 فیصد خسارہ ہو رہا ہے جو کسی بھی طور معمولی نہیں اِسی طرح پا کستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کا سالانہ خسارہ 6 ارب ڈالر کے مساوی ہے یہ صورتحال خطرناک ہے اور اقتصادی غیرپائیداری کی جانب اشارہ کر رہی ہے جس سے اگر کوئی ملک دوچار ہو جائے اور وہ اِس حالت میں سدھار لانیکی کوشش نہ کرے تو وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ خطرے کی چوتھی گھنٹی: جون 2013ء سے جون 2016ء حکومت نے ڈالروں کی صورت ’ورلڈ بینک‘ ایشیائی ترقیاتی بینک‘ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے قرض لیا جس کا مجموعی حجم 9.7 ارب ڈالر ہے۔

اِس کے علاوہ آئی ایم ایف سے 6.2 ارب ڈالر قرض لئے گئے 3.6 ارب ڈالر کے قرض حسنہ ہیں پاکستان کے بانڈز کی فروخت سے 3.5 ارب ڈالر حاصل کئے گئے ملک کے کمرشل بینکوں سے 1.85ارب ڈالر قرض لیا گیا اور جب اِس تمام کو جمع کیا جائے تو یہ گذشتہ تین برس کے دوران لگ بھگ 25ارب ڈالر قرض بنتا ہے اس تین سالہ عرصے میں قرضوں کی اقساط کی واپسی پر 11.95ارب ڈالر خرچ کئے گئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ڈالروں کی صورت حاصل کئے جانے والے قرضوں کی واپسی بھی ڈالر ہی کی صورت لازماً کی جاتی ہے یعنی جس کرنسی میں قرض لیا گیا اسی میں اِسے واپس لوٹایا جائیگا لیکن جب ہماری برآمدات کم ہو رہی ہوں اور ہمارے پاس موجود زرمبادلہ مقابلتاً زیادہ تعداد میں بیرون ملک منتقل ہو رہا ہو تو یہ صورتحال خطرناک ہے اور اقتصادی غیرپائیداری کی جانب اشارہ کر رہی ہے جس سے اگر کوئی ملک دوچار ہو جائے اور وہ اِس حالت میں سدھار لانے کی کوشش نہ کرے تو حتمی طور پر وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔خطرے کی پانچویں گھنٹی: 13اکتوبر کے روز عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ نے 6.2 ارب ڈالر قرض کے حوالے سے ایک توسیعی معاہدہ کیا جس کامطلب یہ ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2017-18ء کا بجٹ ’آئی ایم ایف‘ کی ہدایات کی روشنی میں مرتب کریگی اور بجٹ کا خسارہ 3.8 فیصد سے کسی صورت زیادہ نہیں کیا جائے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت جن شعبوں میں سبسڈی دے رہی ہے اسے ختم یا کم کیا جائے گا اور قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہ راست عوام کو منتقل کرنے کے سوا کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہی۔ ’آئی ایم ایف‘ کی جانب سے اقتصادی بہتری کا تقاضا بھی ایک حد تک ہے اور آئندہ عام انتخابات کا مرحلہ بھی درپیش ہے فی الوقت تو اس بات پر دھیان دینا چاہئے کہ ایک ایسا بجٹ پیش ہوگا جس میں حکومت کا غیرمعمولی مالی خسارہ ملک کی اقتصادی ابتری اور عوام کی غربت میں اضافے کا باعث بنے گا! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)