بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان میں موجود افغانیوں کو عارضی قیام کے کارڈ جاری کئے جائیں،شاہ زین بگٹی

پاکستان میں موجود افغانیوں کو عارضی قیام کے کارڈ جاری کئے جائیں،شاہ زین بگٹی


رحیم یار خان۔ جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) کے سربراہ نواب زادہ شاہ زین بگٹی نے کہا ہے کہ اس وقت سینٹ آف پاکستان ،قومی اسمبلی اور کے پی کے و بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں بڑی تعداد میں افغانی موجود ہیں اس لیے وزیر اعظم نواز شریف اور مقتدر اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں بڑی تعداد میں موجود افغانیوں کو عارضی قیام کے کارڈ جاری کریں تاکہ مردم شماری میں ان کی بحثیت پاکستانی رجسٹریشن نہ ہونے سے ان کا پاکستان میں مستقل قیام کا خواب پورا نہ ہو سکے ۔گزشتہ روز وائس چیئر مین ضلع کونسل چوہدری محمد نعیم شفیق کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں موجود افغانی اس مردم شماری کے تحت پاکستانی بن گئے۔

تو پھر کے پی کے اور بلوچستان کے بعض حصوں میں ’’منی افغانستان‘‘ کے قیام کو کوئی نہیں روک سکے گا جس سے پاکستان کی سالمیت کو شدید خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیاں دور کیے بغیر بلوچستان سے علیحدگی پسندی کی تحریکیں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں ۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی محرومیوں کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل کوئٹہ میں ہونے والے تخریب کاری کے دو بڑے واقعات میں زخمی ہونے والوں کو کوئٹہ کے ہسپتال میں مناسب طبی سہولتیں نہ ہونے کے باعث کراچی کے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا جبکہ بلوچستان کے کسی بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اپینڈکس جیسے معمولی آپریشن کی بھی سہولتیں میسر نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس سے بلوچستان کے سوا پورا ملک روشن ہے لیکن بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں لوگ آج بھی لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کے گیس رائلٹی کی مد میں عرصہ دراز سے 3 ہزار 900 ارب روپے ادا کرنے ہیں ۔

لیکن وہ ادا نہیں کیے جا رہے جس سے بلوچستان کی محرومیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ انہیں بلوچ علیحدگی پسند براہمداغ بگٹی اور مہران مری کے بھارتی شہریت لینے پر کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ اکثر پاکستانی دوسرے ملکوں کی شہریت لیتے رہتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران بلوچستان میں قائم ہونے والی حکومتوں کے تمام ایم پی ایز کو وزیر بنا کر بلوچی عوام کی محرومیوں میں مزید اضافہ کیا اور ان وزراء نے بلوچستان کی محرومیاں دور کرنے کیلئے ملنے والے ترقیاتی فنڈز عوام پر خرچ کرنے کی بجائے اپنی جیبوں میں ڈالے لیکن ان کے خلاف کسی حکومت نے ایکشن نہیں لیا ۔انہوں نے سی پیک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں مقامی لوگوں کو نئی نوکریوں میں ترجیح دینی چاہیے جبکہ گوادر میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں میں گوادر کے لوگوں کو نوکریاں نہیں دی جا رہی جس کی کسی بھی وقت کوئی منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں ۔