بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وفاق نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا،مولا بخش چانڈیو

وفاق نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا،مولا بخش چانڈیو


کراچی۔ مشیر اطلاعت سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا جبکہ مدارس سمیت غیرقانونی اسلحہ پر قابو پانے پر بھی توجہ نہیں دیتا ،کالعدم تنظیموں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا، کئی تنظیموں کو وفاقی حکومت کی حمایت حاصل ہے،وفاق سندھ کے ساتھ پنجاب کے شہروں میں بھی بے امنی پھیلانا چاہتی ہے ، جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے سکون کا سانس لیا ہے،سندھ میں اداروں کو لڑانے کی کوشش کی گئی لیکن ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے یہ تاثر ختم ہوگیا ہے۔ان خیالات کا اظہار مولا بخش چانڈیو نے سندھ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کی جبکہ کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز سندھ، میجر جنرل محمد سعید، آئی جی سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ اور دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔ مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کارکردگی کے حوالے سے باتیں ہوئی ہیں۔ جرائم میں واضح کمی آئی ہے۔ صورتحال میں واضح بہتری ہے۔

ساری چیزوں کا جائزہ لیا گیا اور اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ تمام اداروں حکومت سندھ، افواج پاکستان اور خاص طور پر سابق کورکمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز اور ہماری ایجنسیوں نے بے پناہ محنت کی، بے پناہ قربانیاں دیں۔ بہتر تعلقات قائم ہوئے اور امن وامان کے حوالے سے بہتر نتائج سامنے آئے۔ اداروں کی لڑائی کی افواہیں پھیلائی گئیں کہ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے لیکن ساری افواہیں غلط ثابت ہوئیں۔ ایک بہتر صورتحال اداروں کے درمیان لڑائی کا تاثر ختم ہوا تمام اداروں نے مل کر صوبہ میں امن وامان کے لئے کوششیں کیں اور کراچی میں واضح تبدیلی نظر آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر کراچی بڑے نرم مزاج، شائستہ اور پیار بھرے انسان ہیں۔ ڈی جی رینجرز کا بھی بڑے خوشگوار انداز میں آغاز ہوا ہے۔ یہی یقین دہانی ہے کہ بہتر تعلقات میں کام ہو گا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے تحفظات کا اظہار کیا کہ وفاق آپریشن اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا جو مدد کرنی چاہئے وہ بالکل نہیں کرتا جس قسم کا ردعمل دینا چاہئے وہ بالکل نہیں کرتا۔ اب بھی جن جن جگہوں پر کمزوری نظر آ رہی ہے وہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اگر مدرسوں کے حوالے سے بات ہوئی تو سندھ میں بہت کچھ ہو چکا ہے۔

وفاقی حکومت اس کام کی ذمہ دار ہے اس نے کوئی نگرانی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی پیش رفت نہیں کی۔ پیمرا کے حوالے سے بھی وفاق کی ذمہ داری تھی۔ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کہاں گئے ہیں۔ اسلحہ کی بات چلی۔ سندھ حکومت، رینجرز اور پولیس جتنا بھی اسلحہ پکڑے گی یہ ختم نہیں ہو گا۔ غیرقانونی اسلحہ بنانے والوں کو کنٹرول کرنا وفاق کا کام ہے۔ وفاق کیوں توجہ نہیں دیتا۔ اسلحہ یہاں نہیں بن رہا اسلحہ آ رہا ہے۔ ذمہ داری وفاق کی ہے۔ ان کو کرنا چاہئے۔ پیمرا کے حوالے سے وہ نہیں کرتا۔ مدرسوں کے حوالے سے وہ نہیں کرتا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن تنظیموں پر پابندی ہے۔ اس حوالے سے وفاق کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ وہ کچھ نہیں بتاتے۔ مدرسوں کے حوالے سے بہت باتیں کرتے ہیں مگر کچھ کرتے ان کی جان نکلتی ہے۔ کالعدم تنظیموں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا۔ کئی تنظیموں کو وفاقی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ ہم سندھ میں جتنی بھی کوشش کریں مگر جہاں سے وہ آرہے ہیں وہاں ان کا راستہ نہیں روکا جاتا تو کس طریقہ سے کام چلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو منتقل کرنے کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے کارروائی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس مسئلہ پر کنٹرول کے لئے وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس اور دیگر اداروں کو ٹارگٹ دیا ہے۔ باقی تمام نکات وفاق سے متعلقہ ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو تحفظات ہیں دیگر تمام افراد نے بھی اس کی تصدیق کی کہ قومی ایکشن پلان کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے سکون کا سانس لیا ہے۔ سارے فیصلوں سے دستبردار ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے اخبار میں پڑھا فوجی عدالتوں کے حوالے سے بھی وزیراعظم کوئی فیصلہ کرینگے۔ تمام چیزیں واپس لے رہے ہیں میں سمجھتا ہوں سندھ کے ساتھ پنجاب کے بھی کئی شہروں کو بدامنی کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس کرنے اور دکھانے کو کچھ نہیں رہا ہمارے حکمران ہنگامی بنیادوں پر سیاست کرتے ہیں جو ایشو سندھ کی تنقید کا آ گیا وہ لے لیتے ہیں وہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔آج آئی جی سندھ اجلاس میں بیٹھے تھے۔ ہم نے جو تعیناتیاں کی ہیں اس پر کورکمانڈر، ڈی جی رینجرز، اداروں اور آئی جی سندھ کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آئی جی سندھ بار بار کہہ رہے تھے یہ سندھ حکومت ہے۔ یہ سندھ حکومت نے کیا ہے، مجھ پر سندھ حکومت کا کوئی دباؤنہیں۔ مولا بخش چانڈیو کا کہناتھا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ قیادت کے سامنے جائے گا۔ میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا پہلے جب عدالتوں کے قیام کا معاملہ آیاتھا پارٹی کے کئی رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن وسیع مفاد میں پیپلزپارٹی نے مانا یہ ہمارے مزاج کے خلاف ہے۔ ہماری سیاست کے خلاف ہے، ملک کے حالات اس قسم کے تھے اور پی پی نے اس کا ساتھ دیا۔ آئی جی سندھ گئے اور واپس آ گئے اجلاس میں خوش خوش لگ رہے تھے۔ اگر وہ نا خوش ہیں تو ان سے پوچھ لیں، مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ جن جگہوں پر چھاپے پڑے نہ وہ انور مجید کے گھر تھے اور نہ دفاتر تھے، پھر بھی ہم نے تحفظات کا اظہارکیا۔ معاملہ تحقیقات کے دائرہ میں ہے، بات چیت ہو چکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ مقابلہ جمہوریت کا حسن ہے۔ ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں اگر کوئی بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف الیکشن لڑتا ہے وہ علاقے کون سے ہیں وہاں کون جیتے نسل در نسل وہاں پیپلزپارٹی جیت رہی ہے۔ اگر کوئی کھڑا ہوتا ہے تو اس کو آزادی ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر اور ڈی جی رینجرز کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ یہ سیاسی معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت جو ان کی مدد کرنی چاہئے جو تعاون کرنا چاہئے جو ان کی ذمہ داریاں ہیں وہ وفاقی حکومت نے پوری نہیں کیں۔