بریکنگ نیوز
Home / کالم / دوہزار سولہ…. آروان وقت

دوہزار سولہ…. آروان وقت

تصور کیجئے سال گذشتہ کٹہرے میں کھڑا ہے وکیل استغاثہ کے ہاتھ میں الزامات کی طویل فہرست ہے وہ پہلا الزام لگاتا ہے کہ یکم جنوری دو ہزار سولہ کے دن سعودی عرب میں پینتالیس افراد کو پھانسی دی گئی ان میں ممتاز شیعہ رہنما نمرالنمر بھی شامل تھے ایران میں سخت احتجاج ہوا اور تہران میں سعودی عرب کا سفارت خانہ جلا دیا گیا اسکے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے اس موقع پر وکیل صفائی نے کچھ کہنے کی اجازت مانگی اور کہا کہ آج دو ہزار سترہ کا پہلا دن ہے نئے سال نے ابھی پوری طرح آنکھ بھی نہیں کھولی اور استنبول کے ایک نائٹ کلب میں اڑتالیس افراد ہلاک اور بہتر زخمی کر دےئے گئے ہیں کیا اس کا الزام نئے سال کو دیا جا سکتا ہے جس طرح یہ خون نئے سال کے ماتھے پر تھوپنا ناانصافی ہے اسی طرح ٹھیک ایک سال پہلے پینتالیس افراد کی پھانسی کا الزام بھی میرے موکل کو نہیں دیا جا سکتا وکیل صفائی کی بات ختم ہوتے ہی کٹہرے سے زنجیروں میں جکڑا ہوا پچھلا سال پکار اٹھتا ہے

یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر راہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر کوئے یار چلے گئے

عالی مقام جج اسے خاموش رہنے کا حکم دیتا ہے وکیل صفائی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان کے ہاتھ پر لگا ہوا خون وقت کی پیشانی پر نہیں لگایا جا سکتا جو خون انسان نے بہایا ہے اس کی سزا اسی کو ملنی چاہئے وقت تو ایک معصوم اور مجبور قدر ہے اسے انسان کے کئے دھرے کی سزا دینا ناانصافی ہے وقت کا وکیل اپنے موقف کی اصابت میں ایک شعر سناتا ہے
عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

وکیل استغاثہ درخواست کرتا ہے کہ اشعار سنا کر عدالت عظمیٰ کا وقت ضائع نہ کیا جائے مقدمہ سننے والے تین ججوں میں سے ایک فکر انگیز لہجے میں کہتا ہے کہ شعرا ‘ مورخین اور فلاسفہ کے افکار پیش کئے جا سکتے ہیں وکیل صفائی اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان کی برپا کی ہوئی جنگوں کا ذمہ دار وقت کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا وقت تو زمانے کی ایک رو ہے جس میں نہ دن ہے نہ رات بقول علامہ اقبال اس میں ماضی‘ حال اور مستقبل اپنی علیحدہ شناخت رکھنے کے باوجود ایک ہی منظر کے دو روپ ہیں وکیل استغا ثہ جواب دیتا ہے کہ کسی بھی مقصد یا نتیجے تک پہنچنے کیلئے وقت اور تدریجی عمل کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہر واقعہ ایک مخصوص لمحے میں رونما ہوتا ہے کسی حادثے کی تمام تر ذمہ داری فرد واحد پر نہیں ڈالی جا سکتی وقت کو بالائے طاق رکھ کر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جا سکتے وہ توجہ دلاتا ہے کہ بیس جنوری دو ہزار سولہ کے دن چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کر کے انیس طالبعلم ہلاک اور سترہ زخمی کر دےئے گئے تھے اس المیے کا ذکر کرتے وقت آخر کیسے اس تاریخ اور اس دن کے حوالے کو ہذف کیا جا سکتا ہے وکیل صفائی کہتا ہے کہ اس دلخراش سانحے کی ذمہ داری بیس جنوری کے ذمے نہیں ڈالی جا سکتی اس سے پہلے یہ واردات کرنے والا پاکستان تحریک طالبان کا جیدار گروپ سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کو آرمی پبلک سکول میں بھی بربریت کا مظاہرہ کر چکا تھا وکیل کہتا ہے کہ ان سانحات کے آب رواں میں بہت سے پربتوں کی برف کا پانی شامل ہے اسے اس کے موکل کے سر نہ دھرا جائے وہ سانحات کی گہرائی میں جھانکنے کی درخواست کرتے ہوئے کہتا ہے کہ باچا خان کے معبد علم پر حملہ دراصل انڈیا کی پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملے کا انتقام تھا وکیل استغاثہ جواب دیتا ہے کہ ایئر بیس پر حملہ دو جنوری کو ہوا تھا ۔

اور اس حملے کی ذمہ داری اس کے موکل پر نہیں ڈالی جا سکتی وکیل صفائی کہتا ہے کہ یہ دونوں حملے نہ صرف ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں بلکہ انکا تعلق صدیوں پرانی ہندو مسلم دشمنی سے بھی ہے اس لئے ان وارداتوں کو سال گذشتہ کے نامۂ اعمال میں شامل نہیں کیا جا سکتا وہ پھر ایک شعر سناتا ہے۔
ایک حلقہ میں ہوں اسکا دوسرا حلقہ ہے تو
دور تک پھیلا ہوا ہے سلسلہ زنجیر کا

حکومت کا وکیل شکایت کرتا ہے کہ دلیل پیش کرنے کی بجائے شعر پڑھنا دانشوری کی افسوسناک شکل ہے عالی مرتبت جج ایک مرتبہ پھر اس کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا سرکاری وکیل بیان جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ ستائیس مارچ کے دن گلشن اقبال پارک لاہور میں ایسٹر کے موقع پر ایک سنی عسکریت پسند تنظیم نے حملہ کر کے 75 افراد ہلاک اور 340 زخمی کر دئے تھے صرف یہ ایک واقعہ ہی پچھلے سال کو قاتل اور خونخوار ثابت کرنے کے لئے کافی ہے وکیل صفائی جواب دیتا ہے کہ جہاں مسلکی اختلافات کی بناء پر ہزاروں ہم مذہبوں کو قتل کر دیا جاتا ہو وہاں کسی دوسرے مذہب کے پیرو کاروں کے قتل عام کا ذمہ دار وقت کو کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے مخالف وکیل اسے الزام تراشی قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان المیوں کے کینوس کو پھیلا کر اگر ان میں حلب کی خوفناک تباہی اور اسکے ساتھ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بہنے والے انسانی خون کو شامل کیا جائے تو 2016 کو تاریخ کے بھیانک ترین سالوں میں شمار کیا جا سکتا ہے وہ ملزم کی طرف قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ اس جیسا وحشی اور خونخوار سال کسی ہمدردی اور رعایت کا مستحق نہیں۔ دو ہزار سولہ بھرائی ہوئی آواز میں امجد اسلام امجد کی مشہور نظم کا یہ شعر سناتا ہے

تم مجھے نہ دیکھو آب روان وقت سے پوچھو
جیون کے اس پل نیچے سے کتنا پانی گذر چکا ہے

ملزم فریاد کرتا ہے کہ ذی وقار و عالی مرتبت جج صاحب وہ انسان کی مٹھی میں بند ایک حقیر لمحہ ہے شاعر نے یہ شعر اس کیلئے نہیں کہا مگر وہ اسکی گواہی دینا ضروری سمجھتا ہے
مجھ میں جو اک شخص تھا زندہ وہ تو کب کا بکھر چکا ہے
میں تو فقط رستہ ہوں اسکا دریا تھا جو اتر چکا ہے
چیف جسٹس صاحب مقدمے کی کاروائی ایک ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے عدالت برخاست کر دیتے ہیں۔