بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھارتی چالوں کاجواب!

بھارتی چالوں کاجواب!

بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کی سرپرستی کے حوالے سے برسرزمین حقائق سے زیادہ بڑا ثبوت کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا تاہم ’کلبھوشن یادیو‘ کے بارے میں دستاویزی ثبوت نیویارک مشن کو بھیج دیا گیا ہے جس میں بھارتی جاسوس کی پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کے ثبوت موجود ہیں‘ دو جنوری کے بعد اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کو پیش کردیئے جائیں گے۔ ثبوتوں میں سی پیک کی جاسوسی کرنے والی پاکستانی پانیوں میں بھارتی آبدوز کا بھی ذکر ہے اور بھارتی آبدوز کے وڈیو ثبوت بھی ہیں جبکہ ’کلبھوشن یادیو‘ کا اعترافی بیان اور متعلقہ دستاویزات بھی ڈوزیئر کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے بھارت کو بھی خط لکھ دیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کلبھوشن کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔

بھارتی حکومت کی پالیسی ہے کہ پاکستان کو جنوبی ایشیاء کے دیگر ملکوں کی طرح دھمکیاں دے کر اور مرعوب کرکے اپنی شرائط پر مذاکرات کئے جائیں لیکن پاکستان نے بھارت کی دھونس اور دھمکیوں کو مسترد کیا ہے پاکستان بھارت سے برابری کی سطح پر مذاکرات چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اِن مذاکرات میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہونا چاہئے۔ نواز شریف حکومت نے پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات قائم کرنیکی پالیسی اپنائی تھی لیکن بدقسمتی سے مودی حکومت نے پاکستان کی پالیسی کا مثبت جواب نہیں دیا الٹا اسنے پاکستان کیخلاف دہشتگردی کی سرپرستی کرنے کا الزام لگاکر ایک مہم چلائی اس نے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنیکی کوشش کی اور پھر سندھ طاس منصوبہ کے تحت پاکستان کو اسکے حصے کا پانی بند کرنیکی دھمکی دی پاکستان کو امید تھی کہ اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد افغانستان کیساتھ تعلقات بہتر ہونگے اشرف غنی نے 2014ء میں پاکستان کا دورہ کیا جسکے بعد افغانستان کیساتھ توقعات کے مطابق تعلقات بہتر ہوتے نظر آئے مگر بھارت کے ایک ہی دورے سے وہ بھارت کی زبان بولنے لگے‘ اسکے بعد اشرف غنی بھی حامد کرزئی کی طرح افغانستان کے داخلی مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہیں انکا الزام ہے کہ پاکستان طالبان کی حمایت کررہا ہے۔

نائن الیون کے بعد حالات تبدیل ہوچکے ہیں پاکستان اب طالبان کی حمایت نہیں کررہا ضرب عضب آپریشن میں بلاامتیاز تمام گروپوں کے خلاف کاروائی اس بات کا بین ثبوت ہے پاکستان نے حقانی سمیت تمام گروپوں پر واضح کیا کہ انہیں پاکستان کی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال کرنیکی اجازت نہیں دے گا اسکے بعد ضرب عضب میں زد پر آنے سے حقانی نیٹ ورک افغانستان منتقل ہوگیا جو وہیں سے آپریشن کررہا ہے اسکے باوجود افغانستان نے داخلی تشدد جوکہ دوہزار سولہ میں بہت بڑھ گیا‘ کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہا ہے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سات جولائی کو پاکستان میں مذاکرات کا پہلا اور دوسرا دور بھی ہوا۔ تیسرے دور سے قبل ملاعمر کی موت کی خبر آگئی جس سے یہ عمل معطل ہوگیا اس کے بعد ملا اخترمنصور کی موت نے امن عمل کو نقصان پہنچایا۔ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا حامی ہے لیکن افغانستان پاکستان کیخلاف بھارت کی ایما پر بے بنیادپراپیگنڈہ کررہا ہے۔

بھارت اور افغانستان دونوں ملک ملکر راہداری اور گوادر پورٹ منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں بھی کرتے ہیں انکو انہی منصوبوں کیخلاف کارستانی کرنے کیلئے پاکستان سے ایجنٹ بھی دستیاب ہو گئے جو کبھی دبے لفظوں میں اور کبھی کھل کر راہداری اور گوادر پورٹ کیخلاف زہر اگلتے ہیں بھارت کا تو اوّل و آخر مشن ہی پاکستان کو تباہی و بربادی سے دوچار کرنا ہے۔ وہ ایسا پاکستان میں دہشت گردی‘ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرنیکی کوشش کرتا ہے تو کبھی ایل او سی پر جارحیت سے اور عموماً کشمیر سے آنیوالے پانی کو استعمال کرکے کرتا ہے پانی وافر ہو تو پاکستان کو ڈبونے اور کم ہو تو قحط سالی سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جولائی 2016ء میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت میں مظفروانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کو نئی مہمیز ملی کشمیریوں کی جدوجہد نقطۂ عروج پر پہنچی‘ قربانیوں کی ایک نئی اور لازوال داستان رقم ہونے لگی تو بھارت بوکھلا گیا اس نے اس پر بھی پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا اور پاکستان کے خلاف لغو الزامات اور پراپیگنڈے کا بازار گرم کردیا‘ دھمکیاں دی جانے لگیں‘ ایل او سی پر جارحانہ کاروائیوں میں تیزی آئی اور مودی نے سندھ طاس معاہدے کے خاتمے اور پاکستان آنیوالے پانی کا آخری قطرہ تک روکنے کے منصوبے کا اعلان کردیا اس منصوبے پر عمل تو جب ہونا‘تب ہونا ہے‘ وہ اپنے ڈیمز کے ذریعے پاکستان کے حصے کے پانی پر کنٹرول حاصل کررہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے برخلاف پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر کررہا ہے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک معاندانہ فیصلے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں تینتیس دریا انٹرلنک کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے منافی ڈیموں کی تعمیر پر پاکستان نے عالمی بینک سے رجوع کیا تو اس نے پاکستان اور بھارت کو معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ دیاپاکستان نے ایسے تمام مراحل طے کرنے کے بعد ہی عالمی بینک سے رجوع کیا تھا۔

بھارت مقبوضہ کشمیر‘ اس سے نکل کر پاکستان آنے والے دریاؤں پر بند باندھنے کے حوالے سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ ایسے میں عالمی بینک کا کسی حتمی فیصلے سے گریز بھارت کی حمایت کے مترادف ہے۔ امریکہ چاہے تو نہ صرف بھارت اور پاکستان کے مابین بھارت کی ہٹ دھرمی سے پیدا ہونے والا پانی کا تنازعہ بلاتاخیر طے ہوسکتا ہے بلکہ ایسے دیگر تنازعات کی بنیاد‘ مسئلہ کشمیر بھی حل ہوسکتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: شہریار شاہد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)