بریکنگ نیوز
Home / کالم / صوبائی خو دمختاری کے فوائد

صوبائی خو دمختاری کے فوائد

جب پاکستان میں صرف دو صوبے تھے توحکومتی اخراجات خاصے کم ہوا کرتے تھے یہ اوربات ہے کہ ہم اس وقت آمدنی کے لحاظ سے بھی خاصے خود کفیل تھے اسی لئے ہمارے ہاتھوں میں امریکہ کا ہاتھ ہوا کرتا تھا اور جو گندم ریلوے کے ذریعے صوبہ مغربی پاکستان کے مختلف حصوں میں بھیجی جاتی تھی اس پر امریکہ کے ہاتھ میں پاکستان کا ہاتھ ہوا کرتا تھا یعنی جب تک ہمار اہاتھ کوئی نہ پکڑتا تو ہم آگے جانے کے قابل نہیں ہوسکتے تھے ہاں ایک بات تھی کہ تب کوئی پنجابی ،پٹھان ، سندھی یا بلوچی نہیں ہوا کرتا تھامگر بھلا ہو ہمارے سندھی اور پشتون شاعروں کا کہ اپنی شناخت کروا کر ون یونٹ کو توڑااور ہم ایک ہی رات میں سندھی ‘پنجابی‘ بلوچی اورپٹھان بن گئے بنگالی تو خیر پہلے سے ہی بنگالی تھے تو ہماری شناخت دو سے پانچ میں بدل گئی اس کے بعد صوبائی خود مختاری کی باتیں چلنے لگیں اور کہا گیا کہ مرکز کے پاس صرف دفاع‘ خزانہ اور امور خارجہ کے ادارے ہوں باقی سب کچھ صوبوں کے اختیار میں ہو یہ صوبائی خود مختاری کی تحریکیں چلیں انکی پذیرائی بھی ہوئی اور انکی مخالفت میں بھی دلائل دیئے گئے۔دلائل مغربی صوبوں کیلئے توقابل فہم تھے مگر مشرقی صوبے نے اسکو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور ایک انٹر ویو میں ذوالفقار علی بھٹونے کسی بیرون ملک صحافی کو کہا تھا کہ مشرق حقوق سے بہت زائد مانگ رہا ہے جو اسے نہیں دیا جا سکتا۔

تو خیر وہ قضیہ تو یوں حل ہوا کہ ہم نے اس حصے کو ہی کاٹ کر الگ کر دیا بظاہر تو یہ مشرقی پاکستان کے باشندوں کے حقوق کی جنگ تھی مگر اصل میں ہندوستان نے بڑی مہارت سے اس ڈرامے کے سین سجائے اور خود کو صاف ستھرا رکھ کر پاکستان کو دو لخت کر دیاہم نے سارا ملبہ شیخ مجیب کے سر ڈال کر خاموشی اختیا ر کر لی اور یوں لگا کہ جن لوگوں نے پاکستان کی اولین حمایت کی تھی اور کہہ رہے تھے کہ ہم کیسے ملک کو توڑ سکتے ہیں کہ ہم تو اکثریت میں ہیں مگر جو ہونا تھا وہ ہو گیااب مغربی صوبوں میں خود مختاری کی ہوا چلنے لگی مگر یہاں کبھی جمہوریت ہوتی اور کبھی فوج کی حکومت ہوتی اس لئے فیصلہ نہ ہو سکا کہ خود مختاری کو کیسے ڈیفائن کیا جائے پھر کچھ کوارٹر سے وہی آواز اٹھنا شروع ہوئی کہ مرکز کے پاس صرف تین ہی محکمے ہوں مگر کچھ لوگوں کے سامنے مشرقی بنگال کی صورت حال تھی اسلئے اتنی آزادی تو نہ ملی بس اتنی آزادی البتہ مل گئی کہ صوبے خود کو بڑا چھوٹا کہنے لگے اور بڑے کو غاصب کا لقب دے دیا گیاخود مختاری بھی کافی حد تک مل گئی مگر وہ بھی تیلی کا بیل ثابت ہوئی کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اس خود مختاری کو کیا کیا جائے جہاں کوئی کام مرکز کی طرف سے ہوتا ہے تو صوبہ چیخ اٹھتا ہے کہ اسکی خود مختاری پر حملہ ہوگیا ہے ۔

اگر تعلیمی نظام کو ایک کرنیکی بات ہوتی ہے تو پھر اختلاف کھڑا ہو جاتا ہے کہ ہمارا صوبہ خود مختار ہے اس لئے ہم جو چاہیں تعلیمی نظام رکھیں اب تو باتیں اس طرح کی ہو رہی ہیں جیسے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے سے قبل ہو رہی تھیں ایک صوبہ خصوصاً مرکز کے پیچھے پڑا ہوا ہے جو بھی بات مرکز کی طرف سے ہوتی ہے اسکی خود مختاری مجروح ہونے لگتی ہے جبکہ حال یہ ہے کہ صوبے میں نہ تعلیمی سرگرمیاں ہیں اور نہ صحت کیلئے کوئی کام ہو رہا ہے۔ ایک حصہ عرصے سے قحط میں مبتلا ہے مگر ادھر کسی کی نظر ہی نہیں جا رہی اور بڑے صوبے اور مرکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خدا جانے صوبے کی منتخب حکومتیں کس طرح سوچتی ہیں بجائے اس کے کہ اپنے عوام کی بہتری کیلئے کام ہوں دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب کے پیچھے پڑے ہیں اور جسطرح سے باتیں ہو رہی ہیں ڈر ہے کہ ایک دفعہ پھر ہم کوکوئی دسمبر 71 نہ دیکھنا پڑے ہمارا دشمن باقاعدگی سے ہمارے خلاف منصوبے بنا رہا ہے اور ہم شتر مرغ بنے ہوئے ہیں دشمن اپنے منصوبوں کو چھپا بھی نہیں رہا بلکہ بر ملا پاکستان کو توڑنے کی باتیں کر رہا ہے ۔