بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت کو ایک اور شکست

بھارت کو ایک اور شکست

بھارت کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کی اپنی قرار داد مسترد ہونے پر ایک بار پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے ‘ بھارت کی پیش کردہ قرار داد مسترد بھی بھاری اکثریت کیساتھ ہوئی‘ پابندی کمیٹی میں جمع کرائی گئی1267 ویں قرار داد میں بھارت نے پاکستان پر داعش اور القاعدہ کی مدد کا الزام لگایا اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ قرار داد بھار ت نے محض اپنا سیاسی ایجنڈا پورا کرنے کیلئے جمع کرائی ‘ ادھر بھارت نے 2017ء کے آغاز پر ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے شہری علاقوں پر گولہ باری کیپاک فوج نے اس بلا اشتعال کاروائی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی توپیں خاموش کر ادیں ‘خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستانی موبائل ہیک کرنے کی کوشش بھی کی یہ کوشش آبی اور سرحدی جارحیت کے بعد آئی ٹی کے شعبے میں دہشتگردی ہے‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ دہشتگردی بھارت کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے اور پاکستان بھارتی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار ہے ‘خود بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس کا ثبوت ہے جس کا اعترافی بیان بھی موجود ہے۔

بھارت ایک بار پھر اپنے جاسوس تک قونصلر رسائی طلب کر رہا ہے پاکستان نے بھارتی مداخلت کے مزید ثبوت اقوام متحدہ کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں تک پاکستان پر دہشتگردی کا الزام عائد کرکے اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کرنے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بھارت پاکستان پر الزامات عائد کرکے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے ان حربوں کے ساتھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی بھونڈی کوشش بھی کر رہا ہے یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ بھارت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے سخت تکلیف ہے اور اس منصوبے کے آغاز سے ہی اس کی پریشانی سامنے آنا شروع ہو گئی تھی اس ساری صورتحال کے تناظر میں سلامتی کونسل میں بھارتی قرار داد کا مسترد ہونا انتہائی خوش آئند ہے عالمی برادری کو ایک قدم اور آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کیلئے بھارت پر دباؤ بھی بڑھانا چاہئے ۔

بجلی اور گیس کی کمی

سردی کی شدت میں اضافے کیساتھ قدرتی گیس کے پریشر میں کمی اور بعض علاقوں میں مکمل بندش نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے ‘ دوسری جانب بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے خبر رساں ایجنسی کے مطابق بجلی کا گردشی قرضہ660 ارب روپے سے بھی بڑھ گیا ہے‘ بجلی کی پیداوار میں کمی کا حجم6 ہزار میگا واٹ بتایا جا رہا ہے پاور پلانٹس اور آئل کمپنیوں کو ادائیگیاں نہیں ہو پا رہیں جس سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے ‘طلب کے مقابلے میں بجلی اورگیس کی رسد میں کمی ایک بڑا چیلنج ضرور ہے تاہم اس سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی سے گریز نہیں ہونا چاہئے‘ بحران کی اس کیفیت میں سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو فوری ریلیف کا ذریعہ بنے اس مقصد کیلئے عوام کی منتخب قیادت کے ذریعے بچت اور مینجمنٹ کا پلان بنایا جا سکتا ہے ضرورت صرف اس ضمن میں احساس وادراک کی ہے کہ جو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔