بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی سے متعلق اجلاس

وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی سے متعلق اجلاس


اسلام آباد۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دہشتگردی جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے،نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی خاتمے کا روڈ میپ ہے، بلا تعریف من وعن عمل ہو رہا ہے، سی پیک خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے، ہمسایہ ممالک سے مشتریہ مفادات کے تعلقات چاہتے ہیں، امن اور خوشحالی کے جذبے سے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے ملکی سلامتی و داخلی امن و امان کی صورتحال اور خارجہ پالیسی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا، وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال سمیت آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز اور فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد انتہاپسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی ممکنہ حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا جبکہ خارجہ پالیسی کے چیلنجز اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امور بھی زیر بحث آئے جن پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ، مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم محمد نواز شریف سمیت اجلاس کے شرکاء کو ملک میں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز اور امن و امان کی صورتحال سے تفصیلی بریفنگ دی جس پر وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کیا، اعلامیہ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی جن کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں، وزیراعظم محمد نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور موجودہ حکومت ملک سے انتہاپسند ی کا کاتمہ کرکے ہی دم لے گی۔

نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی کے خلاف روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے جس پر من وعن عمل جاری ہے، انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری خطے میں رابطوں اور خوشحالی کا منصوبہ ہے جس کے ثمرات سے خطے کے ممالک مستفید ہو سکیں گے، وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ خطے کے ملکوں کے ساتھ مضبوط مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں اور پرامن بقائے باہمی اور معاشی رابطوں پر مبنی خطہ پاکستان کی خواہش ہے۔ کیونکہ ترقی اور خوشحالی کے جذبے کے ذریعے ہی ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، خیال رہے کہ آرمی چیف سمیت عسکری قیادت کی تبدیلی کے بعد سول و عسکری قیادت کا وزیراعظم کی زیر صدارت یہ پہلا اجلاس ہوا ہے جس میں قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔