بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نیب اور ایف بی آر ملک کے ادارے ہیں ، تحقیقات کرنا ان کاکام ہے،عمران خان

نیب اور ایف بی آر ملک کے ادارے ہیں ، تحقیقات کرنا ان کاکام ہے،عمران خان

اسلام آباد۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ شواہد کی روشنی میں پاناما کیس میں دو ہفتوں کے دوران دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانا چاہیے،قطری شہزادے کا خط بہت بڑا فراڈ تھا سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا گیا، میاں صاحب اپنے آپ کوصحیح سمجھتے ہیں تو آئی سی آئی جے کوعدالت لے کر جائیں ہم نے کام کردیا اب عدالت جانے اور نواز شریف، سپریم کورٹ کا بینچ جو بھی فیصلہ کرے گا ہم تسلیم کریں گے، پانامہ لیکس میں وزیراعظم کا نام آیا ہے ہم نے نہیں لیا، نیلسن اور نیسکول کی اصل مالکہ مریم نواز ہیں لیکن انہوں نے عدالت میں کہا ہے یہ ہماری نہیں ہیں، مریم نواز کے پاس مے فئیر کے 4 اپارٹمنٹس لینے کا پیسہ کدھر سے آیا؟، مریم نواز نے کہا کہ یہ پیسہ فیملی کا تھا یعنی یہ پیسہ نواز شریف کا تھا جو منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر گیا، ہم نے تمام ثبوت آئی سی آئی جے سے حاصل کئے لہذا اب کوئی نہ کہے کہ ثبوت نہیں لائے، پیسہ میرا نہیں عوام کا چوری ہوا ہے تاہم میں بہت مطمئن ہوں کیونکہ اب تلاشی شروع ہوچکی ہے۔

وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے 5سالوں کے دوران اپنے والد کو 74کروڑ روپے دیے، ٹرمپ کے فون اور وکیل بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نیب اور ایف بی آر ملک کے ادارے ہیں اور ان کا کام ہے کہ تحقیقات کریں یہ ہمارا کام نہیں ہے۔وہ منگل کو یہاں پریس کانفرنس کررہے تھے ۔عمران خان نے کہاکہ (ن )لیگ کے لوگ بار بار کہہ رہے تھے کہ ہم نے ثبوت نہیں دیئے،سیاسی پارٹی کا کام ثبوت دینا نہیں ہوتا،ملک کا پیسہ لوٹا جائے تو سیاسی جماعت حکومت سے جواب طلب کرتی ہے،ملک کے اداروں کا کام ہے ثبوت دینا۔انھوں نے کہاکہ یہاں ڈکٹیٹرجمہوری ور جمہوری ڈکٹیٹر بننا چاہتا ہے،یہاں کسی کو پتہ نہیں ہے کہ جمہوریت کے آداب کیا ہیں۔

پاکستان میں سیاست تحائف پر چلتی ہے،نوازشریف اور ان کے اہلخانہ کا نام آئی سی آئی جے میں آیا،ہم نے آئی سی آئی جے سے سارے پیپر نکالے،پانامہ لیکس میں نامآنیوالوں میں سے کسی نے آئی سی آئی جے سے رابطہ نہیں کیا،سپریم کورٹ میں سناتھا کہ مریم کو دوکروڑ گاڑی کا تحفہ مل گیا۔عمران خان نے کہاکہ مریم نواز کمپنیوں کی ٹرسٹی نہیں تھیں،قطری کا خط بہت بڑا فراڈ تھا،سپریم کورٹ میں جھوٹ بول کر فراڈ کیا گیا،نوازشریف نے پارلیمنٹ اور پھر سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا،مریم نواز کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟،مریم نواز کے پاس 4ارب روپے کہاں سے آگئے،مریم نواز 2اآف شور کمپنیوں کینیلسن اور نیسکول کی اونر تھیں،ٹرسٹ ڈیڈ اور قطری شہزادے کا خط بہت بڑافراڈ تھا،پیپرز سے پتہ چل گیا کہ مریم نوا ز مریم نیلسن اور نیسکول کی اصل مالک تھیں۔انھوں نے کہاکہ اسحا ق ڈار نے منی لانڈرنگ پر عدالت میں بیان دے رکھا ہے ،منی لانڈرنگ کا پیسہ باہر گیا پھر رقم واپس پاکستان بھیجی گئی،1992کے ریفارمز ایکٹ کے تحت بلیک منی وائٹ کی گئی۔عمران خان نے کہاکہ نئے ثبوتوں کیلئے اوورسیز پاکستانیوں نے ہماری مدد کی اگر آئی سی آئی جے غلط ہے تو حکومت اس کو عدالت لے جائے،سرحد پار پاکستانیوں نے ہمیں دستاویزات فراہم کیں،اب ہمیں کوئی نہ کہے کہ ثبوت نہیں ہیں،سپریم کورٹ میں نوازشریف کی تلاشی کیلئے بڑی جدوجہد کی،حکمرانوں کے احتساب کیلئے احتجاج کیا اور ڈنڈے کھائے،ہم نے پیسے کی مکمل ٹریل دی ہے،دوہفتے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجانا چاہیے،بینچ جو بھی فیصلہ کرے گا قبول کریں گے،میرا نہیں پاکستانی قوم کا پیسہ چوری کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ثابت ہوگیا کہ قطری شہزادے کا خط فراڈ تھا،خط لکھنے اور لکھوانے والے دونوں کو جیل میں ڈالناچاہیے،ہم نے دستاویزات آئی سی آئی جے سے حاصل کیں اگر دستاویزات غلط ہیں تو آئی سی آئی جے کو عدالت لے جائیں۔ عمران خان نے کہاکہ ٹرمپ کے فون اور وکیل بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نیب اور ایف بی آر ملک کے ادارے ہیں اور ان کا کام ہے کہ تحقیقات کریں یہ ہمارا کام نہیں ہے، اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم سے پولیس نے خود تحقیقات کی ہیں اور وہ بھی صرف تحفے ملنے پر لیکن یہاں ساراکام ہی تحفوں پر چلتا ہے۔ مریم نواز کے پاس مے فئیر کے 4 اپارٹمنٹس لینے کا پیسہ کدھر سے آیا۔انھوں نے کہاکہ میاں صاحب اپنے آپ کوصحیح سمجھتے ہیں تو آئی سی آئی جے کوعدالت لے کر جائیں ہم نے کام کردیا اب عدالت جانے اور نواز شریف جب کہ سپریم کورٹ کا بینچ جو بھی فیصلہ کرے گا۔

ہم تسلیم کریں گے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے ثبوتوں کے حوالوں سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ موساک فونیسکا نے خط لکھا کہ مریم نواز کمپنی کی مالک ہیں،12جون2012کو خط لکھا گیا،22جون کو جواب آیا اور کہانی کیسے بنائی گئی ہمارے پاس پوری ای میل چین موجود ہے،موساک فونیسکا منرواکمپنی سے اصل مالک کا پوچھا،منروا کے جواب کے مطابق مریم نیسکول ور نیلسن کی مالک ہیں،جواب میں کہا گیا کہ کمپنی کسی ٹرسٹ کے تحت نہیں چل رہی خط میں اعتراف کیا گیا کمپنی کسی ٹرسٹ سے منسلک نہیں،منروا کمپنی کی طرف سے جواب میں پتہ ماڈل ٹاؤن کا درج ہے،مریم نوازشریف کا پاسپورٹ بھی منسلک ہے،ساری کہانی میں حسین نوازشریف کا نام کہیں نہیں ہے،منروا کمپنی کی طرف سے جواب میں پیسے کو خاندانی دولت قرار دیا گیا اس کہانی میں صرف مریم صفدر کا ذکر ہے،جو کمپنیوں کی مالک ہیں،منروا کا مریم صفدر سے تعلق 3دسمبر 2005سے ثابت ہوتا ہے۔