بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیا سال اور حکومتی حکمت عملی

نیا سال اور حکومتی حکمت عملی

نئے سال کی آمد کی مناسبت سے وزیر اعظم نے قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس سال جن منصوبوں کی تکمیل یا تکمیل کی جانب تیز ترپیش قدمی کا عندیہ دیا ہے ان میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ،چشمہ ایٹمی بجلی گھر ،ہزارہ موٹر وے‘ پورٹ قاسم اور ساہیوال کول پاور پراجیکٹس،شور کوٹ ملتان موٹر وے،تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ،ملک میں 50بڑے ہسپتالوں کی تعمیر‘ نیشنل ہیلتھ پروگرام میں تو سیع،کسانوں اور نوجوانوں کیلئے خصوصی پیکجز میں اضافہ اور دیگر متعدد منصوبے شامل ہیں۔یعنی وفاقی حکومت 2017ء کو قومی تعمیر و ترقی کا سال بنانا چاہتی ہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چین سے واپسی کے بعد اپنے دورہ چین کو خیبر پختونخوا کیلئے انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین میں سی پیک کی مشترکہ تعاون کونسل کے اجلاس میں انھوں نے اپنے صوبے کی بھر پور انداز میں نمائندگی کی جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کیلئے سات میگا پراجیکٹس کو سی پیک کا حصہ بنایا گیا ہے‘ ان منصوبوں میں پشاور ، چارسدہ ‘ مردان ، نوشہرہ اور صوابی سرکل ریلوے کا منصوبہ، پانی سے 1700میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا منصوبہ ، پشاور ڈی آئی خان ریل اور دورویہ سڑک کا منصوبہ جسے سی پیک کے مغربی روٹ سے ملایا جا ئے گا ،پشاور کراچی ریلوے ٹریک کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ ،حویلیاں سے گلگت دو رویہ شاہراہ کا منصوبہ شامل ہے علاوہ ازیں دیا مر بھا شا ڈیم کی تعمیر کو بھی سی پیک میں شامل کیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے بھی صوبے کی ترقی کیلئے متعدد منصوبوں کا آغاز کر چکی ہے جن پر کام کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا ۔ مطلب یہ ہوا کہ صوبائی حکومت بھی نئے سال ( 2017) میں خیبر پختونخواہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا ہدف حاصل کرنے کی خواہش مند ہے‘ مذکورہ اعلانات سے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں کا مقصد آنے والے عام انتخابات میں عوام کی زیادہ سے زیادہ حمایت کے حصول کی راہ ہموار کرنا ہے۔ چونکہ عوام اپنے گرد وپیش نئے اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار میں تیزی کا مثبت اثر لیتے ہیں اوراس عمل کو حکومت کی بہتر کارکردگی قرار دیتے ہیں لہٰذا وفاقی اورصوبائی حکومتوں کا ترقیاتی منصوبوں پر فوکس کرنا نہ صرف عوام میں ان حکومتوں کی ساکھ بہتر بنانے کا زریعہ بن سکتا ہے تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں حق حکمرانی سے سرفراز کرنے والے رائے دہندگان کب سے اس امر کے متمنی ہیں کہ ان کے منڈیٹ کا احترام کرتے ہو ئے موجودہ صوبائی حکومت آنے والے عام انتخابات تک خیبر پختونخوا میں وہ کچھ کردکھائے جو اِن ووٹرز کو سر اٹھا کر یہ کہنے کے قابل بنا دے کہ’’ مئی 2013ء میں حق رائے دہی کا وزن پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈالنا ان کا درست فیصلہ تھا‘‘۔

دریں اثناء عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جامع پروگرا مز پی ٹی آئی کے منشور کا بھی حصہ ہیں اور (ن) لیگ کے منشور کا بھی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں جماعتیں عوامی مسائل کے حل ، عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور درپیش چیلنجوں سے مقابلے کے میدان میں کارکردگی کی بنیاد پر ایک دوسرے پے سبقت لے جانے کی کوشش کریں‘ مبینہ انتخابی دھاندلی کیخلاف 11مئی 2014ء سے شروع ہونیوالی تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک نے جس سیاسی کشیدگی کو جنم دیا اس نے کافی عرصے تک سیاسی قوتوں کیساتھ ساتھ عوام کے مختلف طبقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے رکھا‘اسلام آباد دھرنے کے اختتام کے بعد بھی کئی مواقع پر مذکورہ سیاسی کشیدگی کبھی کم اور کبھی زیادہ شدت سے اپنے وجود کا احساس دلاتی رہی ہے جبکہ پانامہ لیکس کے تناظر میں پی ٹی آئی کا طرز عمل اور مسلم لیگ (ن) کی جوابی حکمت عملی پھر سے دونوں جماعتوں کو ٹکراؤ کی کیفیات سے دوچار کرچکی۔تنقید دنیا کا سب سے آسان کا م ہے مشکل ہے تو تعمیر کا عمل سو مقابلہ تنقید میں نہیں بلکہ تعمیر کے میدان میں ہونا چاہئے۔یوں مسلم لیگ (ن) کی وفاقی و پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی کی ’’کے پی کے‘‘ حکومت اپنے اپنے دائرہ اختیار میں توانائیاں تعمیر و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے پر خرچ کریں تو عوام کی خوشحالی و اطمینان ایک پیمانہ بن کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر ڈالیں گے۔