بریکنگ نیوز
Home / کالم / مقدمات اور میڈیا

مقدمات اور میڈیا


کوئی بھی مقدمہ جو کسی بھی عدالت میں زیر سماعت ہواس کو فیصلے سے قبل عوام کی عدالت میں لے جانا کسی بھی طور مناسب نہیں ہوتا۔ میڈیا کے ٹرائل اور عدالت کے ٹرائل میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کوئی بھی مقدمہ جو بظاہر ہماری نظر میں جس انجام کو پہنچنا چاہئے وہ ویسا نہیں ہوتا۔۔ اس لئے کہ عدالت کے سامنے ایک مقدمے کی مماثلت رکھتے ہوئے کئی مقدمات کے فیصلے ہوتے ہیں جن پر عدالت عظمیٰ یا عدالت عالیہ نے فیصلے سنائے ہوتے ہیں۔ ججز اُن فیصلوں کو بھی اپنے سامنے رکھتے ہیں اور وکلاء عدالتوں کی اس ضمن میں معاونت بھی کرتے ہیں۔دوسری بات کہ جب آپ ایک مقدمے کو عوامی عدالت میں لے جاتے ہیں اور وہ ( فیصلے سے قبل ) میڈیا میں زیر بحث لایا جاتا ہے تو اس میں حق اور مخالفت کے دلائل سامنے آتے ہیں مگر یہ دلائل تعصب سے پاک نہیں ہوتے۔ ہر تجزیہ کار ایک نہ ایک طرف سے متاثر ہوتا ہے اس لئے اُسے اپنی پارٹی کے مخالف دلائل سننے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا اور دونوں فریق یعنی مقدمے کے حق والا اور مقدمے کی مخالفت والا اپنے علاوہ کسی کی نہیں سنتا۔ اور یوں وہ عوام کے ذہن کو غلط راہ پر لے جاتا ہے۔ا ورجو کچھ عدالت نے کرنا ہے وہ تو ٹھوس وجوہات کی بنا پر کرنا ہے۔ اگر آپ عدالت کے سامنے ٹھوس دلائل لے کر جاتے ہیں۔

اور عدالت کی معاونت میں دل سے تیار ہوتے ہیں تو آپ کے دلائل اور اُن کے متعلق پہلے مقدمات کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت فیصلہ سنائے گی اور اگر آپ نے عوم کی عدالت میں غلط بیانیوں سے کیس کی نوعیت ایسی بنا دی ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتی تو ججز مفت میں بدنام ہوں گے اور ایک وکیل کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ اُس کی وجہ سے عدالت پرحر ف آئے ۔ اس لئے کہ بار اور بینچ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور وکیل کسی بھی صورت میں ( چاہے فیصلہ اُس کے حق میں ہو یا اُس کے خلاف ہو )، عدالت کو برا بھلا نہیں کہتا۔ وہ اپنی اصلاح ضرور کرتا ہے کہ کن نقاط کی وجہ سے وہ اپنا مقدمہ ہارا ہے۔مگر اس میں وہ عدلت کو کبھی بھی ملوث نہیں کرے گا۔وہ اپنے کلائنٹ کو تو ہمیشہ تسلی دے گا کہ چلو یہ عدالت نہ ہی اس سے بھی بڑی ایک عدالت ہے ہم وہاں سے اپنے لئے فیصلہ لیں گے اور یوں کلائنٹ کو بھی تشفی ملتی ہے او ر اور وکیل بھی اپنے پیشے کی توہین نہیں ہونے دیتا۔ جو بڑے وکیل ہوتے ہیں وہ اپنے کلائنٹ کو باور کرواتے ہیں کہ عدالت نے اس بات کو نہیں سوچا تھا اس لئے ہم اس سے بڑی عدالت میں جائیں گے اور وہاں سے مقدمہ جیتیں گے۔پھر وہ اپنے کلائنٹ کو سمجھاتا ہے کہ فلاں پوائنٹ کی وجہ سے ہم مقدمہ ہارے ہیں اور اس سے بڑی کورٹ میں ا س خاص پوائنٹ پر اپنا کیس جیتیں گے۔مگر یہ کبھی نہیں ہوتا کہ مقدمہ پریس کانفرنسوں میں زیر بحث لایا جائے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں بار کونسلوں کے صدور اور خود عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے محترم ججز صاحبان کو نوٹس لینا چاہئے اور زیر بحث مقدمے کے کسی بھی حصے کی جو عدالت میں زیر بحث آ چکا ہے اُس پر کوئی پریس کانفرنس کریں یا وہ اپنے کلائنٹ سے بھی زیر بحث لائیں۔ خیر کلائنٹ کی تسلی کے لئے تو ہر وکیل ہی اُسے سمجھاتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ مقدمہ ہم ہی جیتیں گے مگر پریس کانفرنس میں مقدمے کو اور مقدمے میں جو ریمارکس ججز دیتے ہیں اُن کو زیر بحث لا نے کی کسی بھی طور کسی بھی فریق یا فریق کے وکیل کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ کلا کلاں اگر عدالت اُس کے خلاف فیصلہ سناتی ہے تو وکیل بھی او ر اُن کے کلائنٹ بھی عدالت پر چڑھ دوڑتے ہیں۔

اور پھر عدالت کے فیصلوں پر بھی لوگ سڑکوں پر نکلتے یا نکلنے کی دھمکیاں دیتے ہیں جو کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔ اگر ہم توہین عدالت کے زمرے میں نہ آتے ہوں تو ججز سے بھی عرض کریں گے کہ وہ مقدمے کے دوران ریمارکس سے پرہیز ہی کیا کریں۔ اس لئے کہ جج کے ریمارکس نہیں بلکہ فیصلے بولا کرتے ہیں۔اگر جج صاحبان جانب سے کوئی ریمارکس ایسے آتے ہیں جو بعد میں فیصلے سے میل نہیں کھاتے تو بات صحن سے کوٹھے پر چڑھ جاتی ہے اور پھر ججز پر الزامات لگانے سے بھی لوگ باز نہیں آتے جو ایک جج کے کسی بھی طور شایان شان نہیں ہے۔ خدا جانے یہ ریمارکس کی رسم کہاں سے اور کب سے عدالتوں میں رواج پا گئی ہے ورنہ ایسا ہوا نہیں کرتا تھا۔اس لئے کہ یہ تو فیصلے سے پہلے فیصلہ سنانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔عدالتوں کو اس طرف توجہ دینے کے ضرورت ہے۔