بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک بھارت کشیدگی: علاقائی تعلقات

پاک بھارت کشیدگی: علاقائی تعلقات

پاک بھارت کشیدگی سے پیدا ہونیوالی صورتحال علاقائی تعاون و تعلقات پر اثرانداز ہو رہی ہے‘ جس میں بہتری کیلئے جاری کوششوں میں تیزی کی تمام کوششیں کسی نہ کسی مرحلے پر اگر ناکافی ثابت ہوتی ہیں تو اِن میں تیزی وقت کی ضرورت ہے۔ بھارت کی پاکستان مخالف حکمت عملی اور اقوام متحدہ میں پاکستان پر پابندی لگانے کی کوششیں ایک قرارداد کی صورت ناکام ہوئی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے بقول ’’پاکستان مخالف قرارداد کا مسترد ہونا اہم فورم پر بھارتی ایجنڈا مسترد ہونا ہے۔‘‘ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت کا پاکستان کے بارے میں ہمیشہ سے جارحانہ رویہ رہا ہے‘ اس نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم کیا نہ اسے برداشت کرنے پر تیار ہے‘ بھارت پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا بڑا ملک ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بڑی منڈی ہونے کے ناطے بھارت دنیا کیلئے زیادہ کشش رکھتا ہے۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے دروغ گوئی بھارتی قیادت کا وطیرہ رہا ہے۔ اپنے جھوٹے اور بے بنیاد پراپیگنڈے سے وہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس میں وہ کئی بار کامیاب بھی ہوچکا ہے۔

دنیا کے بااثر ممالک کچھ بھارت کے پاکستان کیخلاف گمراہ کن پراپیگنڈے اور کچھ بھارت کیساتھ وابستہ مفادات کے باعث پاکستان کیلئے معاندانہ‘ نہ ہی سہی‘ جانبدارانہ روئیوں کا اظہار ضرورکرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کا پالا ایک شاطر‘ عیار اور مکار ملک سے ہے‘ اسے دنیا کے کئی طاقتور اور عالمی فیصلوں پر اثرانداز ہونیوالے ممالک کی تائید حاصل ہے۔امریکی صدر‘ وزیر دفاع‘ برطانوی وزیراعظم‘ فرانسیسی صدر اور ان ممالک کے دیگر وزرأ بھارت کے دورے کے موقع پر پاکستان کے خلاف بھارتی زبان میں گفتگو کرنے کو شاید اپنا منصبی فرض سمجھتے ہیں۔ ایسے حالات اور دشمن کے مقابلے کے لئے پاکستان کو اس سے اتنے گنا زیادہ محنت‘ فعالیت اور جدوجہد کی ضرورت ہے جتنے گنا بھارت پاکستان سے بڑا ملک ہے۔ گو بھارت کو امریکہ جیسے طاقتور ممالک کی تائید و حمایت حاصل ہے تاہم پاکستان کے ساتھ چین‘ ترکی اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک کھڑے ہیں۔ روس بھی بھارت سے دوری اختیار کرکے پاکستان کے قریب آرہا ہے‘ کامیاب خارجہ پالیسی کا دارومدار فعال سفارتکاری اور سفارتکاروں‘ دفتر خارجہ اور حکومت و پارلیمان کی محنت شاقہ پر بھی ہے جس کے باعث کئی بار بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشیں ناکام بنائی جاچکی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے کی قرارداد کا مسترد ہونا ہے۔

اقوام متحدہ میں رسوائی اور بے توقیری سے بھارت غصے سے پاگل ہوا جارہا ہے۔ وہ اس بے عزتی پر خاموش نہیں بیٹھے گا‘ اس نے پاکستان کے مفادات کو زک اور سفارتی سطح پر نقصان پہنچانے کے لئے سازشوں کی تیاری شروع کردی ہوگی۔ اس کی پاکستان دشمنی کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اس نے نئے سال کے پہلے روز بھی پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات سے گریز نہیں کیا اور نئے سال کا تحفہ کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی صورت میں دیا‘ جس سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا‘ البتہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھارت کا خبث باطن کھل کر سامنے آگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت سے مظفروانی کی شہادت کے بعد اب پاکستان کی سفارتکاری متحرک ہورہی ہے۔ یہ ٹمپو جاری رہتا ہے تو کشمیریوں کو آزادی صبح کی نوید جلد ملنے کا یقین ہے۔ چین بعض اوقات پاکستان کے مفادات کی خاطر اس حد تک بھی چلا جاتا ہے‘ جہاں تک خود پاکستانی حکام اور حکمران بھی نہیں جاپاتے۔ مسئلہ کشمیر پر چین پاکستان سے بھی زیادہ واضح مؤقف رکھتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے شہری کے لئے چین میں انڈین ویزہ قبول نہیں کیا جاتا‘ مقبوضہ وادی کے شہری کو سادہ کاغذ پر دی گئی درخواست پر ویزہ جاری کردیا جاتا ہے۔

چین ہی نے مولانا مسعود اظہر کو اقوام متحدہ میں دہشت گرد قرار دلانے کی بھارتی کوشش کو ویٹو اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ناکام بنایا ہے۔ چین نے بھارت کی یہ تیسری کوشش ناکام بنائی ہے‘ بھارت مزید کوششیں بھی کر سکتا ہے۔ جسے ناکام بنانے کیلئے پاکستان کی ٹھوس اور مضبوط خارجہ پالیسی ہی مؤثر جواب ہو سکتا ہے۔ آج دنیا بدل رہی ہے‘ ممالک کے روئیوں میں تبدیلی آرہی ہے‘ پالیسیوں پر نظرثانی ہورہی ہے۔ امریکی انتظامیہ اپنے ہی نومنتخب صدر کے خلاف الگ سے محاذآرائی میں مصروف ہے۔ جس نے بیک جنبش قلم سینتیس روسی سفارتکاروں کو امریکہ سے نکال باہر کیا مگر حیران کن طور پر روس نے جواب میں ایک بھی امریکی سفارتکار کو بے دخل نہیں کیا۔ ٹرمپ اور پیوٹن قدیم دشمن ممالک کو قریب لارہے ہیں۔ سلامتی کونسل میں پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور ہوئی ہے۔ امریکہ نے کسی بھی فریق کا ساتھ دینے کے بجائے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ اسرائیل امریکہ سے ویٹو کی توقع کررہا تھا‘ وہ امریکہ کے رویئے پر شدید غصے میں ہے۔ بدلتے حالات میں پاکستان کو اقوام متحدہ میں اڑسٹھ سال سے پڑی قراردادوں پر عمل کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کرنا ہوں گی‘ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دنیا کو اپنے جائز موقف پر قائل کرنے کے لئے اگر بھارت کے ساتھ قطع تعلق نہیں کرتے تو اس کے ساتھ تجارت تو ختم کردینی چاہئے جو کبھی منافع بخش نہیں رہی۔ اس کے ساتھ بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے مصدقہ اور ناقابل تردید ثبوت بھی عالمی برادری کے سامنے رکھتے ہوئے اس کے خلاف پابندی لگانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)