بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکومتی رٹ کا فقدان

حکومتی رٹ کا فقدان

ریاست اور ریاستی اداروں کا کسی زمانے میں ایک رعب ہوا کرتا تھا ‘ایک رٹ ہوا کرتی تھی جو اب نا پید ہے حکومت منتوں سماجتوں سے نہیں کی جاتی کوئی بھی نظام حکومت ہواس کو چلانے کیلئے قوانین اور ادارے وضع کئے جاتے ہیں حاکم وقت کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ دیکھے کہ ہر ادارہ اپنی حدود وقیود کے اندراندر رہ کر اپنے فرائض آئین کے مطابق اداکر رہا ہے ہم تو نیب کی سالانہ رپورٹ کو لاف زنی ہی کہیں گے کہ نیب نے لوٹے گئے285 ارب روپے برآمد کرکے خزانے میں جمع کروائے بھئی اس قسم کے لغو بیانات سے آپ کس کو بے قوف بنانا چا رہے ہیں ؟ یہ تووہی بات ہوئی نا کہ آپ نے کسی ڈاکو کو رنگے ہاتھوں دس کروڑ روپے چراتے پکڑا اس نے اعتراف جرم اس شرط پر کرلیا کہ اگر وہ آپ کو ان دس کروڑ روپوں سے دو کروڑ روپے ادا کر دے تو آپ اس کو رہا کر دیں گے باالفاظ دیگر دو کروڑ اد ا کرنے کے بعد پھر بھی اس کے پاس 11 کروڑروپے بچ جائیں گے یہ کونسان انصاف ہے ؟ یہ کونسان قانون ہے اس قسم کا قانون تو لوگوں کو شہ دے رہا ہے کہ کرپشن کرو لوٹی ہوئی رقم میں سے تھوڑی رقم سرکاری خزانے میں جمع کراؤ پھر تمہاری گلو خلاصی ہو جائیگی ‘ قانون وہ اچھا قرار دیا جاتا ہے کہ جو انصاف کے تقاضے پورے کرے جس سے عوام سبق لیں نیب کی پلی بارگین کی شق پر جب بھی تنقید کی گئی تو نیب کے کرتا دھرتوں نے یہ کہہ کر اس کا دفاع کیا کہ اس سے لوٹے ہوئے خزانے کی کچھ رقم تو حاصل ہو جاتی ہے۔

بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی اس قسم کا دفاع لغو ہے پلی بارگین چوروں ‘ ڈاکوؤں کو راہ فرار مہیا کرتی ہے اور چونکہ بڑے بڑے مالیاتی سکینڈلوں میں اشرافیہ ہی ملوث ہے لہٰذا اس نے کبھی کھل کر اس شق کو حذف کرانے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی ‘ ہم نے اس کالم کی ابتدائی سطور پر میں حکومتی رٹ کے زوال کا ذکر کیا ایک دور تھا کہ پولیس تھانے کا ایس ایچ او بمعہ ایک دو پولیس کانسٹیبلوں اور چند ایک ہتھکڑیوں کے ملزمان کو گرفتار کرکے پیدل یاتانگے پر بٹھا کر تھانے لے جایا کرتا کسی کی کیا مجال کہ وہ پولیس کو گرفتاری نہ دے یا اسے کوئی زور زبردستی سے پولیس سے چھڑوانے کی کوشش کرے آ ج پولیس کی کارکردگی اور حکومتی رٹ کا یہ عالم ہے کہ پنجاب میں چھوٹو گینگ کو پولیس گرفتار نہیں کر سکتی تھی اور مجبوراً رینجرز کو اس مقصد کیلئے استعمال کرنا پڑا ہمارے کوتاہ نظر حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر پولیس اور انتظامیہ غیر سیاسی ہو گی اور ان میں بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر ہوں گی۔

تو لا محالہ ان میں جو لوگ منتخب ہوں گے وہ کئی درجے ان لوگوں سے بہتر ہوں گے کہ جن کو سیاسی پرچیوں پر چنا جاتا جس طرح کہ کراچی کی پولیس کا حال ہے کہ جس میں میڈیکلی ان فٹ لوگوں کو بھی سیاست دانوں کی سفارش پر چنا گیا جن لوگوں نے زندگی بھر کبھی بندوق یا پستول کا منہ تک نہ دیکھا تھا ‘ ان کو استعمال کرنا تو کجا ان کو بندوق ہاتھوں میں تھما کر بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کے خاتمے کی ڈیوٹی پر مامورکر دیا گیا تھا جب سندھ کے آئی جی خواجہ نے بھرتیوں کے اس نظام کو بدلا تو وہاں کے تمام سیاست دانوں نے شور و غوغا کرکے الٹی ان کی ہی چھٹی کروا دی یہ تو بھلا ہو عدالت عظمیٰ کا کہ اس کی مداخلت سے سردست خواجہ صاحب کو اپنے منصب پر رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس دن اس ملک کے حکمرانوں نے یہ جان لیا‘ محسوس کر لیا کہ ایک مکمل طور پر آزاد ‘ خود مختار اور غیر سیاسی بنیادوں پر منتخب کی گئی سول ایڈمنسٹریشن اور پولیس ہر حکومت کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہے اس دن سے اس ملک میں صحیح معنوں میں گڈ گورننس کا آغاز ہو جائے گا۔

امن عامہ سے متعلق جو بھی کام ہو وہ سول انتظامیہ کے حوالے کیا جائے اور سول انتظامیہ کو واضح ہدایت جاری ہوں کہ وہ اپنے فرائض کی بجا آوری میں صرف اور صرف قانون کی کتاب کو مد نظر رکھیں نہ کہ کسی ایم پی اے یا ایم این اے کی سفارش کو‘ حکمرانوں نے انتظامیہ اور پولیس کے کاموں میں پے درپے سفارش کرکے انتظامیہ اہلکاروں میں خود اعتمادی کا جذبہ یا صلاحیت ختم کر دی ہے وہ جب دیکھتے ہیں کہ حکمرانوں کی سفارش نہ ماننے پر پولیس افسروں کی پیٹیاں اتار کر انہیں لائن حاضر کر دیا جاتا ہے ‘ وہ جب دیکھتے ہیں کہ سول افسروں کو اہم انتظامی عہدوں سے ہٹا کر او ایس ڈی لگا دیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے حکام بالا کے ناجائز احکامات کی تعمیل سے انکار کیا ہوتا ہے تو پھر وہ اس دن کو پچھتاتے ہیں کہ جب انہوں نے دن رات کتابیں پڑھ کر مقابلہ کا امتحان پاس کرکے سول سروسز یا پولیس کو جوائن کیا ہوتا ہے تاکہ وہ قوم کی خدمت کر سکیں۔