بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / عدالت عظمیٰ کے ریمارکس

عدالت عظمیٰ کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں قومی احتساب بیورو کو کرپشن کرنے والوں کا سہولت کار قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ نیب قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے ۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس عظمت سعید کا کہنا ہے کہ ایک نائب قاصد کو اڑھائی سو روپے رشوت لینے پر جیل بھیج دیا جاتا ہے جبکہ اڑھائی کروڑ روپے لینے والے کو چھوڑ دیا جاتا ہے جسٹس امیر ہانی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ نیب ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کے اختیارات ایک ہی ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو نے قانون نہیں بنایا جس پر جسٹس امیر ہانی نے ریمارکس دیئے کہ نیب قانون کا غلط استعمال ضرور کر رہا ہے ۔ عین اسی روز قانون و انصاف سے متعلق سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پلی بارگین پر شدید تنقید کی گئی کمیٹی کا مؤقف ہے کہ نیب آرڈیننس نے پارلیمنٹ کی شکل تک نہیں دیکھی اجلاس میں احتساب قوانین میں تبدیلی کے لئے حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ۔

وزیر قانون کا کہنا ہے کہ حکومت نیب قوانین پر نظر ثانی کیلئے کمیٹی جلد قائم کر دے گی اس دوران نیب کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ احتساب آرڈیننس میں پلی بارگین کی شق شامل ہونے پر نیب کے حکام نے اس کی شدید مخالفت کی تھی قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پلی بارگین کی شق موجود ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ رضا کارانہ واپسی سے 285 ارب اور تفتیش کے ذریعے 18.46 ارب روپے وصول ہوسکے ہیں کسی بھی ریاست میں اداروں کیلئے قاعدے قوانین پر برسرزمین حالات اور ضروریات کے مطابق نظر ثانی اور انہیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ایک جاری عمل ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس ‘نیب اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی کا مؤقف بھی سامنے ہے ۔ان سب کی روشنی میں قاعدے قانون میں تبدیلی کیلئے مشاورت ہو سکتی ہے جس میں حقائق کی روشنی میں ہر پہلو کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ ایسے قوانین وضع ہوں جن پر عملدرآمد کا میکنیزم فول پروف اور وقت کی ضروریات کے مطابق ہو۔

سی این جی نرخ ‘ گیس کی قلت

سردیوں کی شدت میں اضافے کے ساتھ گیس کی قلت بڑھتی چلی جا رہی ہے ایسے میں سی این جی 3 روپے فی کلو مہنگی بھی کر دی گئی ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ اوگرا کی جانب سے سی این جی نرخ ڈی ریگولیٹ ہونے کے بعد سٹیشنز مالکان نے کیا جن کا مؤقف ہے کہ سی این جی کی قیمتیں چار سال سے نہیں بڑھی تھیں دنیا میں کسی سیکٹر کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ ہونے پر اوپن مارکیٹ میں مقابلے کا رجحان بڑھتا ہے اور کوالٹی کیساتھ نرخ بھی صارفین کیلئے پرکشش بنائے جاتے ہیں ۔

حکومت کی جانب سے اوگرا کے ریٹ تو ڈی ریگولیٹ ہو چکے ہیں اب ضرورت یہ دیکھنے کی بھی ہے کہ سی این جی مہنگی ہونے پر کرایوں اور فارورڈنگ چارجز کو کس طرح سے قاعدے قانون میں رکھا جاتا ہے ہمارے ہاں کسی چیز کی قیمت کم ہونے کا ثمر صارف تک پہنچنے میں طویل وقت لیتا ہے تاہم کوئی چیز مہنگی ہونے پر عام شہری پر اس کا بوجھ کئی گنا زیادہ ہو کر پڑتا ہے سی این جی کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ ایڈمنسٹریشن کو اپنے لیول پر نظر رکھنا ہوگی ورنہ ترسیل کا خرچہ بڑھنے پر پوری مارکیٹ متاثر ہوگی۔