بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / فلسطین کیلئے مسلم و غیر مسلم ممالک کی امداد میں کمی

فلسطین کیلئے مسلم و غیر مسلم ممالک کی امداد میں کمی

غزہ۔ فلسطینی حکومت نے غیر ملکی امداد کم ہونے کے بعد مالی مشکلات کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی امداد میں ہونے والی نمایاں کمی کی وجہ سے رواں برس بجٹ خسارہ بڑھ کر ایک ارب 6 کروڑ ڈالر ہونے کا امکان ہے جس سے بے روزگاری بڑھنے سمیت دیگر مسائل جنم لیں گے۔ بر طا نو ی خبررساں ایجنسی نے عرب اخبار ’القدس‘ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ فلسطین کے وزیر اعظم رامی حمد اللہ نے کابینہ اجلاس کے بعد بتایا کہ فلسطین کو رواں برس ایک ارب 20 کروڑ امریکی ڈالر یعنی فلسطین کے 4 ارب 12 کروڑ شیکلز ملنے کی امید تھی مگر اب تک انہیں صرف 60 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالرز ہی مل سکے ہیں۔کابینہ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی طویل عرصے سیفلسطینیو ں کے اہم اور قابل اعتماد حامی رہے ہیں ۔

مگر حالیہ مہینوں میں ان تینوں ممالک کی جانب سے امداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔حکومتی بیان کے مطابق عام طور پر سعودی عرب فلسطین کو ہر ماہ 2 کروڑ امریکی ڈالر کی امداد فراہم کرتا تھا مگر سعودی عرب نے گزشتہ برس اپریل سے مستقل طور پرفنڈ دینا بند کردیے ہیں۔سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے بجٹ کی مد میں دیے جانے والے براہ راست فنڈز بھی کم کردئیے گیے ہیں،ان کی جانب سے مخصوص علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی مد میں فنڈز کی فراہمی جاری ہے۔کابینہ کے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق سال 2017 میں بیرونی امداد کا شارٹ فال 70 کروڑ 65 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

جس کی وجہ سے حکومت مختلف سرکاری اداروں کے فنڈز کم کرنے سمیت کفایت شعاری اپنانے پر مجبور ہوجائے گی۔فسلطین کے محکمہ خزانہ کے مطابق فلسطین کے بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے، فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ایک لاکھ 56 ہزار ملازمین ہیں جن میں ڈاکٹرز، اساتذہ، پولیس اہلکار اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کی معیشت میں 2015 میں ایک اعشاریہ 5 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح 27 اعشاریہ 4 فیصد رہی۔اس کے علاوہ غزہ میں بے روزگاری کی شرح 42.7 فیصد جبکہ مغربی کنارے میں 18.7 فیصد رہی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں بے روزگاری کی شرح کم جب کہ فلسطین میں زیادہ ہے ۔