بریکنگ نیوز
Home / کالم / انتظامی اداروں کی کارکردگی!

انتظامی اداروں کی کارکردگی!

تجویز تھی جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حکومت ریگولیٹری اتھارٹیزختم کر کے اِن کے تمام انتظامات عملی طور پر اپنے ذمے لینا چاہتی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر ان اتھارٹیز سے متعلقہ تمام شعبوں کے لئے یقیناًیہ تباہ کن صورتحال ہوگی مگر فی الوقت ایسا کچھ واقع نہیں ہوا ہے اِس مسئلے پر زیادہ ہنگامہ کھڑا کرنیوالوں میں سے زیادہ تر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ داؤ پر لگی ریگولیٹری اتھارٹیز میں سے سب سے اوّل توانائی کے شعبے کی ریگولیٹر نیپراہے جو اس وقت سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کے منصوبوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں مصروف ہے حکومت کی جانب سے جاری ہونیوالا نوٹیفکیشن جس میں پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کو اپنی متعلقہ وزارتوں کے انتظامی کنٹرول کے ماتحت کر دیا گیا ہے‘ حقیقت میں ایک معمولی اقدام سے زیادہ کچھ نہیں یہ ریگولیٹری اتھارٹیز پر قبضہ کر لینے کے مترادف نہیں جیسا کہ تاثر عام ہے اور وفاقی حکومت پر الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔ اصل مسئلہ نیپرا ایکٹ (1997ء) میں مجوزہ ترامیم کا ہے جنہیں حکومت پہلے ہی ترتیب دے چکی ہے اور اگر نیپرا کے آزادانہ حیثیت میں کام کرنے کے اختیارات کم کرنے والی ترامیم کی منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا تو پھر ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ اقدام ریگولیٹری اتھارٹی کے اختیارات پر قبضہ کرنیکی جانب ایک اقدام ہے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایکٹ میں ترمیم صرف پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے اگرچہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایسا ممکن ہے مگر وہ آرڈیننس بھی نوے دن تک ہی نافذ العمل رہ پائیگا‘ جسکے بعد اِس کی پارلیمنٹ سے منظوری لازم ہے ایک دوسرا راستہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی ہے۔

جہاں حکومت اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ترامیم منظور کروا سکتی ہے اسلئے ابھی تو ’اختیارات پر قبضے‘ سے ہم بہت دور ہیں مگر پھر بھی اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے اسکی اہم وجہ یہ ہے کہ ایسی خبریں آ چکی ہیں کہ نیپرا کے اختیارات محدود کرنے کے حوالے سے مجوزہ ترامیم تک رسائی اب تک صرف ایک محدود حلقے کو ہے حالیہ دنوں میں ترامیم مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کی گئیں جہاں فوراً ہی اعتراضات اٹھنے شروع ہو گئے اور ایجنڈے سے ترامیم کو خارج کر دیا گیا مجھے اب تک ایسا کوئی شخص نہیں ملا‘ جس نے ان ترامیم کو دیکھا ہو مگر ان ترامیم پر نیپرا کی جانب سے دیئے جانے والے تبصرے رپورٹ ہوئے ہیں اور اس کیساتھ ساتھ اہم نکات کے خلاصے پر مبنی خیبر پختونخوا حکومت کی سمری بھی موصول ہوئی ہے اگر تبصرے ایماندارانہ طریقے سے نقل کئے گئے ہیں تو نیپرا کی زبانی یہ ترامیم کافی پریشان کن ہیں جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کی سمری میں کچھ باریکیاں موجود ہیں مثلاً یہ کہ نیپرا کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کے بعد اسے حکومتی اداروں کی ریگولیشن کی اجازت نہیں ہوگی نیپرا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ ترامیم 1992ء میں کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے پروگرام کو عملًا ختم کر دینگی اور پچیس سال کے طویل عرصے میں مشکلوں سے توانائی کے شعبے میں لائی گئی اصلاحات واپس ہوجائیں گی یہ بات بھی کسی ستم ظریفی سے کم نہیں کہ ان اصلاحات کا آغاز بھی 1991ء میں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں ہوا تھا اور ان اصلاحات کے تحت مطلوبہ قانون سازی بھی 1997ء میں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں کی گئی تھی۔

یہ فہرست اور بھی طویل ہے مگر خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد صرف توانائی کی پیداوار کو لائسنس سے عاری کرنا ہے اور لائسنس کی شرط کو صرف قومی گرڈ تک کنکشن کی صورت تک محدود کرنا ہے اس طرح آزادانہ یا کنٹرول شدہ توانائی کی پیداوار کیلئے بڑی سطح پر سرمایہ کاری ممکن ہوگی‘سمری کے مطابق یہ ترامیم صرف بجلی کی مارکیٹ میں تجارت کو ممکن بنانے کی کوشش کر رہی ہیں‘ جس کا خود بخود مطلب یہ بنتا ہے کہ نرخوں کے تعین میں نیپرا کے کردار کو دوبارہ سے ترتیب دینے کی ضرورت ہوگی کیونکہ زیادہ سے زیادہ نرخوں کا تعین یا تو آزاد تجارت کے ذریعے سے یا پھر مسابقتی لحاظ سے مارکیٹ کے اصولوں پر ہونا چاہئے پھر یہ مسئلہ ہے ’’پالیسی معاملات میں واجب التعمیل ہدایات عوامی مفاد کے ابھرتے مسائل کو حل کرنے کیلئے مطلوب ہوں گی‘‘ عوامی مفاد کے معاملات میں توانائی کے شعبے کی کمپنیوں کا قائم رہنا اور استحکام دونوں شامل ہیں سمری کے مطابق‘ اضافی سرچارج نافذ کرنیکا اختیار بھی متعارف کروایا جا رہا ہے‘ جو کہ ممکن ہے کہ قانونی چیلنجز کو حل کرنے کیلئے ہو رہا ہو جن میں ابھی کئی موجودہ سرچارج الجھے ہوئے ہیں اور یوں حکومت کو وصولیوں کا خسارہ پورا کرنے کیلئے بلوں میں جب چاہے درستگی کرنے کا زیادہ اختیار مل جائے گا۔ ایسا اقدام صارفین کے مفاد کے برعکس ہو گا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: خرم حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)