بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک کے فریم ورک میں توسیع

سی پیک کے فریم ورک میں توسیع


چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں 9 صنعتی زون بنانے پر اتفاق ہوا ہے خیبرپختونخوا میں مجوزہ زون رشکئی میں ہوگا جبکہ قبائلی علاقوں میں مہمند ماربل سٹی کو اقتصادی زون قرار دیا جائے گا۔ منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں پراجیکٹ سے متعلق جو تفصیلات بتائی ہیں ان کے مطابق سی پیک میں نئے شامل ہونیوالے منصوبوں میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب کا 210 کلو میٹر سیکشن کراچی پشاور ریلوے ٹریک ‘ پشاور میٹرو بس ‘ گلگت شندور تا چکدرہ سڑک کی تعمیر بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے یہ اطمینان بھی دلایا ہے کہ وزیر اعظم جلد تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر سی پیک کے حوالے سے بریفنگ دینگے۔ دریں اثناء وزیر اعظم نواز شریف نے اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں سی پیک میں صوبوں کی نمائندگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پراجیکٹ میں صوبوں کا مساوی حصہ اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی منصوبے پر وفاق سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ ان کے تحفظات دور ہو گئے ہیں ۔ خیبرپختونخوا کی سطح پر پشاور میں ریلوے ٹریک کا طریقہ کار وضع کرنیکا حکم دیا گیا ہے ۔

وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ہم نے پورے صوبے کو باہم مربوط کرنا ہے اس میں پشاور ‘ نوشہرہ ‘ چارسدہ ‘ مردان اور صوابی پر مشتمل سرکلر ریلوے ٹریک بدستور شامل ہو چکا ہے ۔ جہاں تک صوبوں کے تحفظات کا تعلق ہے تو وزیر اعظم کا یہ کہنا قابل اطمینان ہے کہ وہ جلد سیاسی جماعتوں کو بلا کر بریفنگ دینگے اس کے بعد ضرورت صرف ایسی جامع حکمت عملی کی رہ جاتی ہے جس پر عمل کرکے اس منصوبے کے ثمرات کو زیادہ سے زیادہ سمیٹا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں ضروری امر مرکز اور صوبوں کے ذمہ دار محکموں کے درمیان رابطوں کے ساتھ صوبوں میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور افرادی قوت کی تیاری بھی ہے ۔ اس سب کیلئے ہمیں اپنے انتظامی دفاتر کی کارکردگی میں بھی نکھار لانا ہوگا یہاں وقت کی ضرورت کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ہونگی ۔مانیٹرنگ کا نظام بہتر اور فول پروف بنانا ہوگا تاکہ حکومتی اقدامات پر عملدرآمد بروقت ہوسکے ۔اس مقصد کیلئے ساری منصوبہ بندی میں زمینی حقائق اور ضروریات کی بناء پر فیصلے کرنا ہونگے ۔

پارکنگ کا انتظام ناگزیر ہے

پشاور شہر کے وسطی علاقے نمکمنڈی میں کار پارکنگ پلازہ بنانے کا منصوبہ قابل اطمینان ہے تاہم شہر کے متعدد دیگر علاقوں میں بھی پارکنگ ایک اہم مسئلے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اس وقت صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ کے شعبہ حادثات اتفاقیہ تک پہنچنے میں ٹریفک جام ایک بڑی رکاوٹ ہے کیجولٹی کے لئے عارضی بنیادوں پر بنا پارکنگ ایریا ہسپتال اور بازار کی ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے ہسپتال کے تمام دروازوں اور خصوصاً کیجولٹی گیٹ کے قریب ایک مکمل پارکنگ پلازہ ناگزیر ہے۔ پارکنگ کیلئے ہسپتال کے اندر مختلف مقامات بھی مختص ہیں تاہم یہاں ضرورت انڈر گراؤنڈ انتظامات کی بھی ہے اسی طرح ڈبگری میں پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں آنیوالے مریضوں کے رش کو مد نظر رکھتے ہوئے پارکنگ کیلئے خصوصی انتظام ضروری ہے تاکہ علاج گاہوں تک پہنچنے والے راستے کھلے رہیں ۔