بریکنگ نیوز
Home / کالم / قومی اسمبلی کا نیا اپوزیشن لیڈر

قومی اسمبلی کا نیا اپوزیشن لیڈر


لگ یوں رہا ہے کہ باپ بیٹا دونوں قومی اسمبلی کے رکن بننے جا رہے ہیں زرداری صاحب نے اپنے اور اپنے فرزند کے لئے سندھ سے قومی اسمبلی کی دو محفوظ ترین نشستیں خالی کروا لی ہیں جن پر بغیر کسی رکاوٹ کہ وہ بمعہ بلاول کے کامیاب ہو جائیں گے یہ بات بھی چل نکلی ہے کہ ان باپ بیٹے میں کوئی بھی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی جگہ لے سکتا ہے شاہ صاحب نے اپنی ذہنی استطاعت کے مطابق ایک لمبے عرصے تک قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھائیں اب آخری وقت میں کہ جب قومی اسمبلی چند مہینوں کی مہمان ہے اور نئی قومی اسمبلی کیلئے الیکشن اگلے برس کسی وقت بھی متوقع ہے ان کو اپوزیشن لیڈر کے منصب سے ہٹانا کوئی بات نہ ہوگی واقفان حال کا تو یہ کہنا ہے کہ زرداری صاحب اگر ایک طرف رکن قومی اسمبلی بن کر یا پھر اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھال کر ملکی سیاست میں اپنی قدرمیں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ 2018ء کے الیکشن کے وقت تک کسی بھی کرپشن کیس میں ان کے خلاف کوئی آسانی سے کاروائی نہ کر سکے تو دوسری جانب وہ بلاول کو پارلیمنٹ کے مختلف امور سے آشنا کرانا چاہتے ہیں 2018ء کے الیکشن میں زرداری صاحب اور بلاول پی پی پی کو بھرپور طریقے سے حصہ دلوائیں گے اور کامیابی کی صورت میں زرداری صاحب کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ پاکستان کے آئندہ وزیر اعظم بنیں سردست یعنی 2018ء میں وہ بلاول کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر نہیں بٹھانا چاہتے کیونکہ ان کی دانست میں ابھی وہ سیاسی طور پر اتنا بالغ نظر نہیں ہے کہ اس ملک کی گنجلک قسم کی سیاست کے نشیب و فراز سے واقف ہو سکے بلاول کیلئے 2023ء کے الیکشن کے بعد ہی ملک کے وزیر اعظم بننے کا دروازہ کھل سکے گا ۔

یہ تو خیر زرداری صاحب کی سوچ ہے پر انسان سوچتا کچھ اور ہے اور اس کے مقدر میں لکھا کچھ اور ہوتا ہے بے نظیر این آر او کی ڈرائی کلیننگ شاپ سے صاف ہو کر 2008ء کا الیکشن لڑنے آئیں اور بلا شبہ وہ 2008ء کا الیکشن جیت کر اس سال اس ملک کی وزیر اعظم بن جاتیں پر خدا کو یہ منظور نہ تھا۔ میثاق جمہوریت کا پی پی پی اور (ن) لیگ دونوں نے حتیٰ الوسع پاس رکھا ہے پہلے پانچ سال یعنی 2008ء اور 2013ء کے درمیان کا عرصہ زرداری صاحب نے ایوان صدر میں انجوائے کیا اور انہوں نے اپنے دو نہایت ہی وفادار اور منظور نظر افراد سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو اقتدار کے مزے اٹھانے کے مواقع فراہم کئے اس دوران میاں نواز شریف نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا جب 2013ء میں میاں صاحب کی پارٹی اقتدار میں آئی تو زرداری صاحب خاموشی سے گوشہ تنہائی میں چلے گئے۔

اور میاں صاحب کو پورا موقع دیا کہ وہ اب 2018ء تک اقتدار کا لطف اٹھائیں اب 2018ء آنے کو ہے لہٰذا اب اگر زرداری صاحب اور ان کی پارٹی متحرک ہوتی ہے یا ن لیگ کو آنکھیں دکھاتی ہے تو اس میں اچنبے کی کوئی بات نہیں الیکشن میں انہوں نے آخر ایک دوسرے کو آنکھیں تو دکھانی ہی ہیں یہ تو چلو بات ہوئی پی پی پی اور ن لیگ کی آپس میں مفاہمتی سیاست کی ‘ اب ذرا دو چار باتیں ہو جائیں پی پی پی کے اندر دو دھڑوں کی ۔ ایک گروپ کا خیال ہے کہ زرداری صاحب اب اپنے آپ کو پی پی پی سے دور ہی رکھیں تو بہتر ہو جائیں گے آج نہیں تو کل 2018ء نہ سہی تو 2023ء میں پی پی پی ایک مرتبہ پھر اپنا کھویا ہوا مقام ملکی سیاست میں حاصل کر سکتی ہے ایک نیام میں دو تلواریں اکٹھا نہیں رہ سکتیں زرداری صاحب ملک کے صدر رہ چکے ہیں اب اور ان کو کیا چاہئے پر بزرگ کہتے ہیں کہ دولت اور اقتدار یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا نشہ آسانی سے نہیں اترتا ۔