بریکنگ نیوز
Home / کالم / امّی کی خواہش اور اپنی شادی

امّی کی خواہش اور اپنی شادی

سہیل کا والد فوت ہوا تو اسکی عمر محض دس سال تھی اسکا خاندان تین بھائیوں اور والدہ پر مشتمل تھا والد کی آمدن ایک دکان پر ملازمت سے تھی چند ماہ تک تو دکان کا مالک محض ایک بیوہ اور چار یتیم بچوں کی مدد کے طورپر مرحوم کی تنخواہ کے لگ بھگ رقم بھیجتا رہا لیکن آخر کار دکاندار نے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔ لے دے کے چند ایک رشتہ دار تھے جو خود بھی غریب تھے لیکن اپنی بس کے مطابق مدد کردیتے تھے جوں جوں وقت گزرتا گیا ان یتیموں کا دامن خالی ہوتا گیا تاہم انکی ماں نے ہمت نہ ہاری پرائے کپڑے سی کر، دوسروں کے گھر برتن مانجھ کر گھر چلاتی رہی ایک عہد اس نے یہ کیا تھا کہ بچوں کو سکول سے نہ اٹھائے گی سہیل چونکہ بڑا تھا اسلئے اسے حالات کا ادراک پہلے ہی ہوگیا تھا اسلئے سکول سے آکر ماں کا ہاتھ بٹھانے لگا سکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو گلی میں چھولوں کا تھال لگالیا۔ ماں رات کو چھولے پانی میں بھگو کر چولہے پر چڑھادیتی اور صبح تک وہ پک چکے ہوتے سہیل تھال لیکر اپنے ہی محلے میں ایک دکان کے سامنے سیڑھیوں پر بیٹھ جاتا اور دوپہر تک اچھی خاصی بکری ہوجاتی۔ آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد سہیل نے اپنی ماں کو قائل کرلیا تھا کہ باقی پڑھائی وہ پرائیویٹ طالب علم کے طور پر مکمل کرلے گااور ساتھ ساتھ دوسرے بھائیوں کی تعلیم میں غفلت نہیں برتے گا۔

سہیل کے محلے کیساتھ ہی ایک بچوں کے ڈاکٹر کا کلینک تھا جو اب بڑھتے بڑھتے ایک چھوٹا موٹا ہسپتال بن گیا تھا سہیل نے اپنی تھال اٹھاکر کلینک کے آگے لگادی۔ رفتہ رفتہ ایک تھال سے کام نہیں بنا چنانچہ اس نے بھی تعداد بڑھالی اب صبح سے سہ پہر تک چھولوں کے کئی تھال بِک جاتے تھے اس دوران سہیل نے اپنے بھائیوں کی تعلیم پر پوری توجہ دی۔ تینوں بھائیوں نے ایم اے یا ایم ایس سی کرلی۔ سہیل ان دنوں دن بھر میں نو سو ہزار روپے آسانی سے کمالیتا تھا۔ یاد رہے کہ اسّی کی دہائی میں مجھ جیسے ڈاکٹر کی تنخواہ تین ہزار روپے تھی اسکے مقابلے میں سہیل ہر ماہ پولیس اور دوسرے اداروں کا بھتہ ادا کرکے بھی آسانی کیساتھ پچیس ہزار روپے بچا لیتا تھا سہیل نے اسی چھابڑی سے نہ صرف تینوں بھائیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کروالی بلکہ انکی شادیاں بھی کروادیں خود سہیل نے سب کے بعد شادی کی حامی بھری۔

بقیہ تین بھائیوں کی کہانی بھی بہت دلچسپ لیکن افسوسناک ہے پڑھائی کے بعد تینوں ’مناسب‘ نوکری کی تلاش میں بے روزگار رہے، کافی عرصے تک تو سہیل انکے بچوں کی نگہداشت بھی کرتا رہا میں اسے بار بار کہتا تھا کہ اب ان بھائیوں کو گھر سے الگ کردو تاکہ ان پر کوئی ذمہ داری آئے۔ لیکن انکی امّی نے کبھی اسکی اجازت نہ دی آخر کار ایک ایک کرکے تینوں بھائیوں کو نوکری بھی مل گئی لیکن اسکے باوجود ان تعلیم یافتہ بھائیوں نے بڑے بھائی کی محنت مزدوری میں اسکا ساتھ دینے سے انکار کردیااب بھی بچوں کو سکول پہنچانا ہو یا بھابھیوں کو ہسپتال پہنچانا، سہیل نہ ہو توتینوں بھائی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔

سہیل کی کہانی ہمارے معاشرے کی عام کہانی ہے محنت مزدوری اور کاروبار ہی سے کوئی خاندان ، غربت کے چنگل سے نکل سکتا ہے تاہم جب جدید تعلیم خاندان میں آجاتی ہے تو محنت مزدوری کو معیوب اور دکانداری کو بنیا پن سمجھا جانے لگتا ہے تعلیم کے عام ہونے سے نوجوانوں کی پوری فوج ڈگری یافتہ تو ہوگئی ہے لیکن وہ اب ہاتھ پاؤں کی مزدوری یا معمولی پیمانے کے کاروبار کو اپنی حیثیت سے گرا ہوا سمجھتے ہیں یہی نوجوان ہیں جو روزگار کی تلاش میں جوتے چٹخاتے پھرتے ہیں اور سرکاری نوکریوں کیلئے ہاتھ میں درخواستیں لئے پھرتے ہیں حالانکہ تھوڑے پڑھے لکھوں اور ان پڑھ نوجوانوں کیلئے کبھی روزگار مسئلہ نہیں رہا زیادہ دور کی بات نہیںیہی دو تین دہائیاں قبل افغان مہاجرین آئے تو کئی لوگوں نے ناک بھوں چڑھائی کہ پاکستانیوں کے روزگار پر قبضہ کریں گے لیکن ہم نے دیکھا کہ تجارت و کاروبار میں ان کی شمولیت سے روزگار بڑھا اور کمائی کے نت نئے رستے نکلے۔

دوسری طرف میں اپنے ایک دوسرے جاننے والے کا حال بتاکر ایک تضاد دکھانا چاہتا ہوں میرے یہ جاننے والے سمجھ لیں ہمایون ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے مجھے بار بار پیغامات بھیج رہے ہیں۔ موصوف چھتیس برس کے ہیں بتاتے ہیں کہ ان کے والد اور والدہ دونوں محنت مزدوری کرکے ان کو پڑھاتے رہے لیکن گزشتہ برس ان کے والد فوت ہوگئے ہیں اسلئے اپنے آپ کو یتیم بتاتے ہیں والدہ کا روزگار بھی ختم ہوگیا ہے اور ہمایون کی عارضی نوکری بھی چھوٹ گئی ہے ہمایون کی والدہ کی شدید خواہش ہے کہ اسکی شادی اسکے جیتے جی ہوجائے اب نہ ہمایون کی کوئی مستقل آمدنی ہے اور بے چاری ماں بھی بے روزگار ہوگئی ہے لیکن ماں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہمایون صاحب شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں دوست احباب سے مدد کے خواستگار ہیں شادی کے بعد بیگم کو کہاں سے کھلائیں گے، بچوں کو کہاں سے پالیں گے پوسیں گے، گھر بار کیسے سنبھالیں گے اسکی کوئی فکر نہیں بس امّی کی خواہش ہے کہ مرنے سے قبل بیٹے کے سر پر سہرا بندھا دیکھ سکیں بیگم کو بیمار ماں کی خدمت کیلئے نوکرانی کے طور پر بھرتی کرنا ہے کیا؟ اب میں نے لڑکیوں کے جہیز کیلئے فنڈ جمع کرتے تو سنا تھا لیکن چھتیس سالہ یتیم نوجوان کی شادی کیلئے فنڈ حاصل کرنا میری سمجھ سے باہر ہے۔

موجودہ دور ہنر اور پروفیشنل تعلیم کا دور ہے محض گریجویشن اور اردو، اسلامیات ،سوشل سٹڈیز میں ایم اے کرنا کوئی منافع بخش کام نہیں رہا بے شک اپنے شوق کیلئے ان میں پی ایچ ڈی تک کرسکتے ہیں لیکن اس سے کمائی کا خیال دل سے نکال دیں۔ انجینئر بنیں تو اس میں مہارت حاصل کریں نہ کہ کمیشن کیلئے سرکاری نوکری کے پابند رہیں ڈاکٹروں کیلئے سرکاری نوکری سے کہیں زیادہ پرائیویٹ اداروں میں کمائی ہے اور اسی وجہ سے اب حکومت کو مقابلہ کرنے کیلئے ڈاکٹروں کی تنخواہیں بڑھانی پڑ رہی ہیں تعلیم برائے تعلیم کا زمانہ ختم ہوچکا ہے بعض مضامین میں تو پی ایچ ڈی کی بجائے اگر موٹرکار مکینک کا ڈپلومہ بھی حاصل ہوجائے تو اس سے زندگی زیادہ کار آمد گزرسکتی ہے۔ اس وقت پورا یورپ جرمنی کی اکانومی پر چل رہا ہے اسکی بنیادی وجہ جرمنی میں ٹیکنیشن کے بہترین کورسز کا اجرا ہے طلبہ کا نوے فیصد انہی ڈپلوموں میں داخلہ لے کر کار آمد کاریگر بنتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں اب انٹر پرانیورشپ کی دھوم دھام ہے اور نوجوان طلبہ اپنی تعلیم درمیان میں چھوڑ کر کاروبار میں کود رہے ہیں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں اس لئے میری گزارش ان نوجوانوں سے ہے جوگریجویشن اور ماسٹر کی تعلیم کے بعد نوکریوں کی تلاش میں جوتے چٹخارہے ہیں، براہِ کرم کوئی چھوٹے سے چھوٹا کاروبار ہی شروع کردیں حکومت تمام نوجوانوں کو نوکری دینے سے رہی۔