بریکنگ نیوز
Home / کالم / بنیادی شرط اوّل

بنیادی شرط اوّل

پاکستان میں کئی ایسے قانون ہیں جنکی تخلیق پچاس یا ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل کی ضروریات کیلئے کی گئی تھی جیسا کہ ’لینڈ ریونیو ایکٹ‘ جو کہ پچاس سالہ پرانا ہے رجسٹریشن ایکٹ جو کہ ایک سو سال قدیم ہے پنجاب کی ضلعی عدالت میں ایسے 13لاکھ مقدمات زیرالتواہیں جو اراضی سے متعلق تنازعات پر مبنی ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں اراضی سے متعلق زیرالتوا مقدمات کی تعداد 30ہزار 970ہے!صوبہ پنجاب 2 لاکھ 5ہزار 344مربع کلومیٹر پر پھیلا ہے‘ جہاں کی اراضی کا ریکارڈ کاغذوں پر اور دستی طور پر محفوظ کیا گیا ہے جبکہ اراضی کے بارے میں قوانین و قواعد کی وجہ سے سینکڑوں ہزاروں تنازعات سالہا سال سے حل نہیں ہو پارہے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اسی خرابی کو دور کرنے کیلئے ’لینڈ ریونیو مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم (ایل آر ایم آئی ایس)‘ متعارف کرایا جس میں کاغذوں پر موجود لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کر دی گئی اس منصوبے کو ’عالمی بینک‘ کی مالی معاونت حاصل رہی اور اِسکے تحت پنجاب کی 140 تحصیلوں اور ذیلی تحصلیوں میں کمپیوٹرائزڈ نظام رائج کردیا گیا ہے اس سلسلے میں 100سروس سٹیشنز بنائے گئے ہیں جو 30 اضلاع میں فعال ہیں اس کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت ’حقداران زمین‘ کے نام سے رجسٹر بنایا گیا ہے جسکی ایک خاص فیس کی ادائیگی پر کسی بھی جائیداد کا کوئی بھی وارث اپنی ملکیت کا ’فرد نمبر‘(ثبوت و تفصیلات) ایک گھنٹے سے کم وقت میں حاصل کر سکتا ہے اسی طرح نقشہ اراضی حاصل کرنے کو ’گوگل میپ‘ سے جوڑ دیا گیا ہے جس کے تحت لاہور‘ لودھراں اور حافظ آباد کے اضلاع کی اراضی کو سیٹلائٹ تصویر کی مدد سے کمپیوٹرائزاڈ کر دیا گیا ہے۔

اراضی ریکارڈ سنٹرز صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک کھلے رہتے ہیں اور یہ ایک ماہ میں اوسطاً ڈیڑھ لاکھ فرد نمبر جاری کر رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اراضی کے معاملات ’پٹوار کلچر‘ کہلاتا ہے لیکن اِسے ختم کردیا گیا ہے۔ پنجاب کا محکمہ مال بدعنوانی کا گڑھ تھا لیکن اِسکا قبلہ درست کر دیا گیا ہے اور یہ سب صرف اور صرف کمپیوٹرائزیشن کی مدد سے ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے طرزحکمرانی اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے سرکاری محکموں سے رشوت و بدعنوانی ختم کرنے اور انکی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے صوبہ پنجاب کمپیوٹرائزیشن پر بھروسہ کر رہا ہے اور محکمہ مال ہی کی طرح ایک ایسا خودکار کمپیوٹرائزڈ نظام مرتب کیا گیا ہے جسکے ذریعے کوئی بھی شخص کسی حکومتی ادارے کی کارکردگی کے بارے میں حکومت کو براہ راست مطلع کر سکتا ہے اس پروگرام کو ’سٹیزن فیڈبیک مانیٹرنگ پروگرام (سی ایف ایم پی) کا نام دیا گیاہے جس کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کی مدد سے طرزحکمرانی کی اصلاح کا ہدف حاصل کرنا ہے صوبہ پنجاب میں اب تک جو خدمات کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت دی جا رہی ہیں ان میں محکمہ صحت‘ محکمہ مال سے ڈومیسائل کاحصول‘کیریکٹر سرٹیفیکیٹس کا حصول‘ ڈرائیوانگ لائسنس کا حصول اور اراضی کی رجسٹریشن۔ سٹیزن فیڈبیک اینڈ مانیٹرنگ پروگرام کے تحت جب کوئی شخص مذکورہ کمپیوٹرائزڈ پروگراموں میں سے کسی بھی ادارے کی خدمات سے استفادہ کرتا ہے ۔

تو اس کے موبائل پر وزیراعلیٰ کی آواز میں ایک پیغام بھیجا جاتا ہے جس میں اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اسے اِس نظام سے کوئی شکایت یا تجویز ہے؟ جیسا کہ ایس ایم ایس کا متن ہوتا ہے کہ ’’محترم صارف کل آپ نے لاہور میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا‘ کیا اِس عمل کے دوران آپ کو کہیں بدعنوانی دکھائی دی یا بدعنوان عناصر سے واسطہ پڑا؟‘‘کمپیوٹرائزیشن کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اِس کے ذریعے ماہانہ کارکردگی رپورٹیں بنا کر پنجاب کے سبھی 36اضلاع میں ’ڈی سی اوز‘ کو ارسال کی جاتی ہیں جہاں کہیں سے عوام کی شکایات موصول ہوتی ہیں تو وہ وزیراعلیٰ کے دفاتر کو ارسال کر دی جاتی ہیں جن پر کاروائی کی جاتی ہے صوبہ پنجاب میں طرزحکمرانی کی اصلاح جن خطوط پر خلوص نیت سے کی گئی ہے اس کا اعتراف غیرملکی ادارے بھی کر رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے اور پنجاب نے جن تجربات سے گزر کر سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوام کے مسائل وشکایات کو حل کیا ہے وہ بطور عملی مثال موجود ہے جس سے ملک کے دیگر صوبے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن اِس کے لئے بنیادی اور پہلی شرط یہ ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ حکمران ایسا چاہتے بھی ہوں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)