بریکنگ نیوز
Home / کالم / مذہبی رواداری

مذہبی رواداری


پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا اگر یہ بات نہ مانی جائے تو پاکستان کے وجود میں آنے کا جواز ہی باقی نہیں رہتایہ ایک جمہوری مذہبی ریاست کے طور پر اپنی پہچان سکھاتا ہے جس میں مسلمان اکثریت کو اپنے مذہب کے حوالے سے حکومت کا نظام چلانا تھامگر ہوا یہ کہ جو حصہ مسلمان اکثریت کے طور پر پاکستان کے حصے میں آیا اس میں بوجوہ مسلمانوں کو دینی اور دنیوی تعلیم سے بے بہرہ رکھا گیا تھا اس میں ہمارے آقاؤں یعنی انگریزوں کا اور سیاستدانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ انگریزوں نے چونکہ حکومت مسلمانوں سے حاصل کی تھی اس لئے انہوں نے اس ریس کو نیچا دکھانے کے لئے ہر طرح کی تعلیم اور سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا اس کے مقابلے میں ہندو کو ہر معاملے میں آگے لے جانے کیلئے ہر طریقہ استعمال کیا ہمارے دینی حلقوں نے انگریز کے بائیکاٹ کے نام سے اپنی قوم یعنی مسلمانوں کو تعلیم سے چاہے وہ دنیوی تھی یادینی دور رکھاہندو اثرات کی وجہ سے مذہب کی تعلیم کو ایک مخصوص طبقے تک محدود کر دیا جیسے ہندو ازم میں مذہب کا حصول صرف برہمن تک مخصوص ہے اور یہاں تک ہے کہ اگر کسی شودر کے کان میں گیتا وغیرہ کے اشلوک کی آواز بھی پڑ جاتی تو اس کے کانوں میں سیسہ ڈال کر بہرہ کر دیا جاتا تھا ۔

ان ہی خطوط پر ہمارے رہنماؤں نے بھی اسلام کی تعلیمات کو ایک طبقے تک محدود کر دیا یہ تو پاکستان بننے کے بعد ہوا کہ ہمارے ہاں بھی قران فہمی کا شوق بڑھا اور نئی نسل نے دینی تعلیمات کو پڑھا سمجھا اور ساتھ ہی دنیوی تعلیم میں بھی پیش رفت کی۔متحدہ ہندوستان میں مذہب کا راستہ تو روکا ہی گیا تھا انگریزی تعلیم حاصل کرنے کو بھی کفر سمجھا جاتا تھا اور دوسری جانب ہندو مسلمانوں کو انگریزی پڑھنے سے روکتا تھاجسکے سبب پاکستان میں شامل ہونے والے خطے میں تعلیم کی بے حد کمی تھی وہ بنگال ہو، سندھ ہو بلوچستان یا سرحد ( کے پی ) ہو تعلیمی لحاظ سے بہت پسماندہ تھے صرف ایک صوبہ پنجاب ایسا تھاکہ جس میں ایک حد تک لوگ پڑھے لکھے تھے جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد مغربی خطے میں علم کی روشنی پھیلائی اسی طرح کچھ لوگوں نے مذہبی علوم کو عام لوگوں میں پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیااور لوگوں کے ذہنوں سے یہ بات نکالنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی کہ مذہب اسلام کسی ایک طبقے کے لئے نہیں بلکہ اسکی تعلیم سارے مسلمانوں پر لازمی ہے پھر بھی پنجاب کے بیشتر حصوں میں مذہبی لحاظ سے لوگ پرانے ہی طریقے پر چل رہے ہیں کے پی میں البتہ بڑی حد تک لوگ دین کے معاملات پر پابندی سے عمل پیرا ہوتے ہیں جہاں تک سندھ کا تعلق ہے تودیہی سندھ میں تو لوگ ابھی تک وڈیروں اور ہندو مہاشوں کے زیر تسلط ہیں وہاں تو اب بھی وڈیرے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہونا پڑ تاہے۔

دیکھا جائے تو مذہبی طور پر یہ خطہ خصوصاً دیہی علاقے بہت دور دکھائی دیتے ہیں ان لوگوں پر ہندو رسم و راج کا بھی زیادہ اثر دکھائی دیتا ہے غربت میں بھی یہ صوبہ باقی ملک کے مقابلے میں زیادہ ہے جس کا سبب وڈیرہ شاہی ہے اس لئے کہ جاگیر دار کو اپنی زمینیں سنبھالنے کیلئے جس کھیپ کی ضرورت ہوتی ہے اس کا جاہل ہونا ضروری ہے اس لئے کہ جب لوگ پڑھ لکھ جائیں گے تو وہ اپنے حقوق سے واقف ہو جائیں گے اور یہ بات جاگیر دار کو منظور نہیں ہو سکتی۔ ادھر ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو رواداری کو بدہضمی کی حد تک لے جا رہا ہے ہمیں مذہبی رواداری کی جتنی ضرورت ہے اس کا ہما ر ا آئین بھی حکم دیتا ہے اور ہمارا مذہب تو ہے ہی فلاح کا مذہب اس لئے ہم مذہبی طور پر ہر مذہب کو اپنے ملک میں آزادی کیساتھ اختیار کرنے کو انسان کا حق سمجھتے ہیں مگر دوسرے مذہب کی رسومات کو اختیار کرنا جائز نہیں سمجھتے۔سیاست اپنی جگہ مگر مذہب کے معاملے میں سیاست کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے ہم ہر مذہب کے تہواروں کو ان کیلئے آزادی کیساتھ منانے کے حق میں ہیں اس لئے کہ سارے لوگ پاکستان کے شہری ہیں اور ان کو اپنے مذہب پر کاربند رہنے کی ہر طرح سے آزادی ہے مگر ان کیساتھ مل کر ان کے بتوں کی پوجا کسی بھی طرح ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔اس کو ہم رواداری کے زمرے میں نہیں گن سکتے۔