بریکنگ نیوز
Home / کالم / اچھی کتاب۔ اچھا ساتھی

اچھی کتاب۔ اچھا ساتھی

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ایک اونس لکھنے کیلئے ایک ٹن پڑھنا پڑتا ہے کتاب یوں ہی نہیں لکھی جاتی اس کو لکھنے کیلئے خون جلانا پڑتا ہے، بلاشبہ اگر کوئی کسی کا بہترین دوست ثابت ہوسکتا ہے تو وہ صرف کتاب ہی ہے جس قوم میں کتاب پڑھنے کا شوق ماند پڑجائے تو سمجھ لیجئے وہ ذہنی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے، زندگی کے ہر شعبے میں آج وہی قومیں اور ممالک اوج ثریا تک پہنچ چکے ہیں کہ جن کے ہاں لائبریریوں کا جال ہے جہاں ہر فرلانگ کے فاصلے پر آپ کو لائبریری نظر آئے، ایک ہم ہیں کہ بقول کسے ہمیں پڑھنے لکھنے سے عداوت ہے، کتابوں پر جیسے ہم نے خودکش حملہ کیا ہو،کیا ہمارے کسی بلدیاتی حاکم کو خیال آیا کہ کم ازکم وہ ان لائبریریوں کو ہی اپنی اصلی حالت میں بحال کرائے کہ جو فرنگیوں کے وقت موجود تھیں اور آج ان کا ذکر صرف تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے، رضا علی عابدی براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں ایک معتبر نام ہے، جو لوگ ریڈیو سننے کے شوقین ہیں وہ ان کے نام اور کام دونوں سے بخوبی واقف ہیں، وہ کئی برس تک بی بی سی اردو ریڈیو سروس کے ساتھ منسلک رہے، برصغیر کے کروڑوں ریڈیو کے سامعین تقریباً روزانہ ان کی آواز میں خبریں اور تبصرے اور دستاویزی نوعیت کے پروگرام سنتے ، رضا علی عابدی کو خدا نے ایک دلکش آواز سے بھی نوازا اور ان کا تلفظ بھی غضب کا ہے انہوں نے بی بی سی سے ہی ایک پروگرام براڈکاسٹ کیا کہ جو قسطوں میں تھا اور جس میں برصغیر میں ریل کی آمد کی کہانی کو نہایت ہی دلچسپ انداز میں پیش کیاگیااس پروگرام کی خصوصیت یہ تھی کہ رضا علی عابدی ہر اس مقام اور ہر اس ریلوے سٹیشن پر ریل میں خودسفر کرکے گئے کہ جہاں سے یہ ریل سٹارٹ ہوئی اور جہاں پر اختتام پذیر۔

اسی طرح رضا علی عابدی نے دریائے سندھ پر شیردریا کے نام سے ایک دستاویزی ریڈیو فلم بنائی اس دریا کے ماخذسے لیکر اس کے کنارے واقع آخری شہر تک وہ ہر شہر بنفس نفیس ریڈیو کے مائیک کیساتھ پہنچے اور ان شہروں کا بھی ذکر کیا کہ جو دریائے سندھ کے دہانے پر آباد ہیں رضا علی عابدی صاحب نے پھر کمال یہ کیا کہ ریڈیو کی ان ٹرانسکرپٹس کو انہوں نے کتابی شکل دیدی، ایک کانام ریل کہانی اور دوسری کا شیر دریا‘ اور یہ دونوں کتابیں قارئین نے ازحد پسند کیں اچھا براڈ کاسٹر وہ ہوتا ہے کہ جو عام فہم سادہ زبان استعمال کرے اور الفاظ کے تلفظ کا بہت خیال رکھے رضا علی عابدی ان خاصیتوں میں ید طولیٰ رکھتے ہیں، پر آج ہم ان کی جس کتاب کا ذکر کرنے لگے ہیں وہ ذرا عام موضوعات سے ہٹ کر ہے اسکانام حضرت علیؓ کی تقریریں ۔ یہ کتاب نہایت ہی سلیس اور سہل زبان میں ہے، یہ کتاب 253 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں درج مضامین نہج البلاغہ سے چنے گئے ہیں۔

اسکی ابتدااسلام کے چوتھے خلیفہ کے ایک فرمان سے کئی گئی ہے کہ اے لوگوجو باتیں چاہو مجھ سے پوچھ لو، اس سے پہلے کہ میں نہ رہوں، میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمان کے راستوں کو جانتا ہوں‘‘رضا علی عابدی نے اس کتاب کا دیباچہ بالکل بجا تحریر کیا ہے کہ ’’اب یہ بحث فضول ہے کہ نہج البلاغہ میں جو خطبے شامل ہیں وہ اصلی ہیں یا جعلی اور یہ کہ وہ حضرت علیؓ ہی کا کلام ہے یا انہوں نے اپنی طرف سے لکھ دیئے‘‘جن لوگوں نے نہج البلاغہ پڑھی ہے وہ جب رضا علی عابدی کی زیر تبصرہ کتاب کو پڑھیں گے تو نہج البلاغہ کے مندرجات کو عابدی صاحب نے جس سلیس اور سہل زبان میں پیش کیا ہے اس کا لطف اٹھائیں گے،آپکی معلومات کیلئے عابدی صاحب کی کتاب سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں’’ان لوگوں سے کچھ سیکھو جو کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں آخر انہیں لادکر مقبروں تک پہنچایاگیا اور ایسے نہیں جیسے وہ کسی سواری پر جارہے ہوں انہیں قبروں میں اتارا گیا تو ایسے نہیں جیسے کسی جگہ مہمان اترتے ہیں، پتھروں سے ان کی قبروں کو بند کردیا گیا اور مٹی کے کفن ان پر ڈال دیئے گئے، گلی سڑی ہڈیاں انکی پڑوسی ٹھہریں، یہ سب ایسے پڑوسی ہیں کہ کوئی پکارے تو جواب نہیں دیتے، کسی پر ظلم ہو تو اسے روک نہیں سکتے اور کوئی روئے تو انہیں پروا بھی نہیں، اگر ان پر بارش ہو توخوش نہیں ہوتے قحط پڑ جائے تو انہیں دکھ نہیں ہوتا، کہنے کو یہ سب ایک جگہ ہیں مگر اکیلے ہیں ہمسائے ہیں مگر دور دور کہنے کو قریب ہیں مگر ملاقات بھی نہیں کرسکتے، نزدیک ہیں لیکن پاس ہونے میں کچھ مزہ نہیں، ایسے بردبار بنے پڑے ہیں کہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑا تک نہیں، ایسے بے خبر ہیں کہ ساری مخالفت اور دشمنی مٹ گئی۔