بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ایٹمی ریاستیں کسی بھی تنازع میں ایک دوسرے کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی نہ دیں، امریکا

ایٹمی ریاستیں کسی بھی تنازع میں ایک دوسرے کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی نہ دیں، امریکا


واشنگٹن۔ امریکا نے پاکستان اور بھارت کو خبردار کیا ہے کہ ایٹمی ریاستیں کسی بھی تنازع میں ایک دوسرے کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی نہ دیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جون کربی نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی طاقت کی حامل ریاستوں کو جوہری ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔لائن آف کنٹرول کی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ترجمان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ اوڑی میں بھارتی فوجی مرکز پر حملہ دہشت گردی کی ایک کارروائی تھی اور ہم اس کی شدید مذمت کرچکے ہیں۔آزاد کشمیر میں بھارت کے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعووں کی تصدیق یا تردید کیے بغیر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے رپورٹس دیکھی ہیں اور صورتحال کا نہایت قریب سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم دونوں ممالک پر تحمل اور پرسکون رہنے پر زور دیتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی اور بھارتی افواج آپس میں رابطے میں ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی اس تنا کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ترجمان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم متعدد مرتبہ سرحد پار دہشت گردی سے خطے کو لاحق خطرات کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔انھوں نے کہا، ‘ہم لشکر طیبہ، حقانی نیٹ ورک اور جیش محمد جیسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے پر بھی زور دیتے ہیں’۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج سے منگل 27 ستمبر کو رابطہ کیا اور اوڑی حملے کی مذمت کی، انھوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی اور کشیدگی بڑھانے کے حوالے سے خبردار کیا۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا،’ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کا تعین پاکستان اور ہندوستان کو کرنا ہے اور ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تمام مثبت اقدامات کی حمایت کرتے ہیں’۔

اس سے قبل وائٹ ہاس کی جانب سے بھی اوڑی حملے کو سرحد پار دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد پر زور دیا گیا تھا کہ وہ لشکر طیبہ، جیش محمد اور ان سے منسلک دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس نے بھی اپنے ہندوستانی ہم منصب اجیت دووال کو ٹیلیفون کرکے اوڑی حملے کی مذمت کی۔یاد رہے کہ رواں ماہ 18 ستمبر کو جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے سیکٹر اوڑی میں بھارت کے فوجی مرکز پر حملے کے نتیجے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعدبھارت نے بغیر تحقیقات اور ثبوت کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کیشہادت کے بعد سے بھارت میں جاری حالیہ کشیدگی اور مظاہروں کے نتیجے میں 100 سے زائد کشمیریشہید ، سیکڑوں نابینا اور ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔