بریکنگ نیوز
Home / کالم / نئے منظروں کی آہٹ

نئے منظروں کی آہٹ

نئے سال کی آمد کے موقع پر دنیا ایک نئے سفر کا آغاز کرنا چاہتی ہے نئے منظروں کی آہٹ اسے اپنی طرف بلا رہی ہے مگر سال گزشتہ کے حادثات و سانحات اسکے پاؤں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں وہ اسے آگے نہیں جانے دیتے انسان دو لمحوں کے سنگم پر کھڑا اس منظر کو بے بسی کے عالم میں دیکھ رہا ہے شاعر نے شایداس جیسے ہی کسی آشوب کے بارے میں کہا تھا
میری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیح روزو شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ
اس پس و پیش کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گذشتہ سال تین بڑی جنگوں میں بہنے والا خون اپنا خراج وصول کرنا چاہتا ہے ان جنگوں میں آتش و آہن جھونکنے والے اب ان میدانوں سے کوچ کرنا چاہتے ہیں مگرانہیں واپسی کا راستہ نظر نہیں آ رہاہر راستے میں دشمن کھڑا ہے وہ تازہ دم ہے اس نے طویل عرصے تک خاموشی سے ان جنگوں کا تماشا کیا اب وہ پرانا حساب کتاب بیباک کرنا چاہتا ہے لڑ جھگڑ کے نہیں بلکہ لین دین کر کے وہ کہہ رہا ہے کہ
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

وقت تو بہت سا گزر چکا ہے کئی لاکھ لوگ زیر زمین جا چکے اور کئی لاکھ زخموں سے کراہ رہے ہیں مگر برسوں تک کشت و خون کرنے والے اب مل جل کر ایک نئے سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اک پرانے میدان میں نصف صدی تک مشت و گریبان رہنے والے غنیم اب مال غنیمت کی تقسیم پر آمادہ ہیں چند روز پہلے امریکی صدربراک اوبامانے جب روس کے پینتیس سفارتکار اپنے ملک سے نکالے تو ولادیمیرپیوٹن کی طرف سے جوابی کاروائی کا امکان تھا مگر انہوں نے کہا کہ وہ حساب برابر کرنے کی بجائے وائٹ ہاؤس میں نئی قیادت کی آمد کا انتظار کریں گے اس پر نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا move Smart جمعرات کے دن سولہ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ جیمز کلیپر نے سینٹ آرمز سروسز کمیٹی کو بتایا کہ انکے پاس اس بات کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ روس نے ہیلری کلنٹن کی مخالفت کر کے امریکی انتخابات میں بھرپور مداخلت کی ہے اگلے روز انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور ان سے بھی یہی کچھ کہا ہفتے کے روز نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ خفیہ ایجنسیوں والے اپنے نئے باس سے یہ کہنے گئے تھے کہ روس نے صدارت حاصل کرنے میں انکی مدد کی ہے واشنگٹن کی فارن پالیسی اسٹیبلشمنٹ جس میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور کئی تھنک ٹینک شامل ہیں روس کی مخالفت میں سی آئی اے اور پینٹاگون کی ہمخیال ہے وہ اس پرانے دشمن سے سینگ پھنسائے رکھنا چاہتی ہے براک اوبامااور ہیلری کلنٹن اس گروپ کے سربراہ ہیں دوسری طرف ریپبلکن پارٹی کا ایک دھڑا جس کی قیادت سینیٹر جان مکین کر رہے ہیں۔

ولادیمیر پیوٹن کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا اس لحاظ سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے با اثر ارکان کی قابل ذ کر تعداداور واشنگٹن کے سرکاری اداروں میں روس کے مخالفین کا ایک مضبوط اتحاد موجود ہے مگر نو منتخب صدر روس کی حمایت میں اس اتحاد کی بھرپور مخالفت کر رہے ہیں ہفتے کو انہوں نے جیمز کلیپر سے ملاقات کرنے سے پہلے روس کی حمایت میں تین ٹویٹ کئے ان میں سے ایک میں لکھا تھا Having a good relationship with Russia is a good thing, not a bad thing.Only stupid people would think that it is bad.
اس سے کچھ دیر بعد دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ دونوں ملک مل کر دنیا کو درپیش کئی بڑے مسائل حل کر سکتے ہیں صاف ظاہر ہے کہ شام اور افغانستان کی جنگوں کو امریکہ اور روس مل کر ختم کر سکتے ہیں اسی طرح عراق جنگ بھی ایران کی مدد سے سمیٹی جا سکتی ہے امریکہ کو اس سمت میں لے جانے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ریپبلکن پارٹی کے فار رائیٹ دھڑے کی بھرپور حمایت حاصل ہے اس میں حیران کن بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا فار لیفٹ حصہ بھی روس کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی کو بہتر سمجھتا ہے۔
چند روز پہلے واشنگٹن میں خارجہ اور دفاعی امور کے لبرل دانشوروں کے سیمینار میں امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی پر کئی فکر انگیز مضامین پڑھے گئے یہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ربع صدی پر محیط یک قطبی دور امریکہ کیلئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوا ہے اس دور میں تین ایسی طویل جنگیں شروع ہوئیں جو ابھی تک جاری ہیں کئی تباہ ہونے والے ملکوں سے لاکھوں مہاجرین یورپی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ان ماہرین کی رائے میں اب دنیا کو ایسے ملٹی پولر یا کثیرالقطبی دور کا آغاز کرنا چاہئے جس میں امریکہ ‘روس اور چین مل کر عالمی مسائل حل کرنیکی ذمہ داری نبھائیں۔ ان مظامین میں سے کچھ بائیں بازو کے ہفتہ وار جریدے دی نیشن کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں ان میں سے ایک مضمون دفاعی امور پر کئی کتابوں کے مصنف مائیکل کلئیر نے لکھا ہے ان کی رائے میں بڑی طاقتوں میں سے کسی ایک میں بھی دوسری طاقت کو نیچا دکھانے کی صلاحیت نہیں ہے لیکن ان میں سے ہر کوئی اپنے مد مقابل کے عزائم کو تہہ و بالا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں سفارتکار رہنے والی مصنفہ ہیلری مین لیورٹ نے لکھا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی نے بے پناہ تباہی اور انتشار پھیلانے کے علاوہ دنیا بھر میں عسکریت پسندی اور تشدد کے رجحانات میں اضافہ کیا ہے کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس نے لکھا ہے کہ کرپٹ امریکی خارجہ پالیسی کے استعماری حربے امریکہ کیلئے بھی اور دنیا بھر کیلئے بھی خطرناک ہیں ان استعماری حربوں کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سات جنوری کو فلوریڈا کے فورٹ لاڈرڈیل ائیر پورٹ پر ہونے والے حملے کو کھینچ تان کر داعش کی کاروائی بتایا جا رہا ہے یہ حملہ ایک چھبیس سالہ امریکی ایستیبان سینتیا گو نے کیا تھا وہ آرمی نیشنل گارڈ میں رہنے کے علاوہ ایک سال تک عراق جنگ میں بھی حصہ لے چکا تھا اس حملے میں پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے امریکی حکومت اگر یہ تسلیم کر لے کہ سنتیاگو ایک ذہنی مریض تھا اور اس کی اس بیماری کی وجہ عراق جنگ تھی تو پھر اس حملے کی ساری ذمہ داری یہ جنگ شروع کرنیوالوں پر عائد ہوتی ہے یہ حوصلہ کیونکہ عنقا ہے اسلئے ہر واردات داعش کے سر مونڈھ کر مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے جب تک یہ جبر اور منافقت جاری رہے گی اصلاح احوال ممکن نہیں تجزیہ کار اور دانشور نئے منظروں کی آہٹ کی نوید سناتے رہیں گے مگر افق لہو رنگ ہی رہے گا۔