بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایک بہادر فنکار

ایک بہادر فنکار

اوم پوری بھی اب قصہ پارینہ ہو گئے ‘ بعض مرنے والے دم دیتے وقت بالکل زیادہ وقت نہیں لگاتے بس آناً فاناً دنیا سے آنکھیں موڑ لیتے ہیں وہ زندگی کی کٹھن اسیری سے بہت جلد اپنی روح کو آزاد کروالیتے ہیں بزرگوں کا تو یہ کہنا ہے کہ اچھے لوگ قوموں کو انعام میں دیئے جاتے ہیں اوم پوری بلاشبہ ایک عظیم اداکار تو تھا ہی لیکن اس سے بڑا وہ ایک عظیم انسان بھی تھا سمندر میں رہ کر بھلا کوئی شخص مگر مچھوں سے بیر رکھ سکتا ہے ؟ لیکن اوم پوری نے ایسا کیا جن سنگھی او رنریندر مودی کے سر پھرے جنونی متعصب ہندو حواری مسلمانوں کے خون کے پیاسے ٹھہرے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو مسلمان اور پاکستان دشمنی سے باز رکھنے کی تلقین کرنا کوئی آسان کام تھوڑی ہی تھا لیکن اوم پوری ووہ بہادر شخص تھا کہ جس نے نہ اپنے فلمی کیرئیر کی پروا کی اور نہ جان کی اور جنتا پارٹی کے انتہا پسندوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا فن کی دنیا کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی مذہب نہیں ہوتا کوئی مسلک نہیں ہوتا فن کی دنیا انسان اور انسانیت کے گرد گھومتی ہے اوم پوری کو آپ لیفٹسٹ کہہ سکتے ہیں فلمی دنیا میں اس کا تعارف متوازی سنیما سے ہوا تھا وہ اس گروپ میں شامل تھا کہ جس میں نصیر الدین شاہ ‘ شبانہ اعظمی‘ جاوید اختر اور مہیش بھٹ جیسے روشن خیال فنکار شامل تھے ان فنکاروں کا خیال تھا کہ جب تک برصغیر میں بسنے والے کروڑوں غریب عوام کی معاشی حالت نہیں بدلتی اس خطے میں امن پیدا نہیں ہو سکے گا اوم پوری بنیادی طور پر تھیٹر کے اداکار تھے جب بھارت میں پٹھان کوٹ کا واقع ہوا اور بھارتی میڈیا نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر اس واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تو اوم پوری نے اسے کہا کہ بغیر ثبوت کے وہ پاکستان پر کسی قسم کا الزام نہ لگائے۔

اگر آپ برصغیر میں فلم انڈسٹری کے ارتقاء کے وقت سے آج تک یعنی1930ء کے وسط سے لیکر 2017ء تک عرصے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو آپ کو کیریکٹر ایکٹروں کی ایک لمبی علیحدہ صف نظر آتی ہے اس قطار میں کھڑے اداکاروں کی ایک خصوصیت ان کی مردانہ گرجدار اور بارعب آواز بھی ہے وہ جب بولتے تھے تو لگتا تھا کہ واقعی کوئی بادشاہ‘ جرنیل‘ مہاراج ‘ٹھاکر بول رہا ہے جب تک بھارتی سیاست میں جنتا پارٹی جیسا انتہا پسند سیاسی عنصر پیدا نہیں ہوا تھا شاذ ہی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہو کہ بالی وڈ میں کام کرنے والے کسی مسلمان فنکار کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کی کوشش کی گئی ہو ہم تو عرصہ دراز سے دیکھ رہے ہیں کہ ہر دور میں بالی وڈ میں ہمیشہ مسلما ن ہی نمایاں رہے ہیں بھلے وہ اداکار تھے یا اداکار ائیں یا موسیقار یا نغمہ گار یا ہدایت کار غرضیکہ فلم کے ہر شعبے میں مسلمانوں کا ہی طوطی بولتا رہا ہے ۔

بلا شبہ بھارتی کانگریس پارٹی میں بھی سردار پٹیل کے انتہا پسند نظریات کے حامیوں کی بھی ایک تعداد موجود تھی لیکن ان کو اتنی جرات کبھی بھی نہ ہوئی کہ وہ کسی مسلمان ایکٹر کو دھمکیاں دیں یا ان کے ساتھ وہ سلوک روا رکھیں کہ جس کا مظاہرہ آج کل کیا جا رہا ہے بھارتی جنتا پارٹی کے ورکرز کے ذہنوں میں بالکل اس طرح کے جراثیم پیدا ہو گئے ہیں کہ جس قسم کے جراثیم ہٹلر نے نازی پارٹی کے ورکروں کے ذہن میں پیدا کر دیئے تھے یا جس طرح اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی نے اپنے پیروکاروں کے ذہن میں پیدا کر دیئے تھے اس کا نتیجہ پھر کیا نکلا؟ہٹلر اور مسولینی خود بھی تباہ و برباد ہوئے ایک نے خودکشی کی تو دوسرے کو اٹلی کے لوگوں نے روم میں پبلک چوک پر الٹا لٹکا دیا؟ وہ خود بھی ڈوبے اور اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی لے ڈوبے ‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری بھلے وہ بالی وڈ ہو یا لالی وڈ اس کی بقا صرف اس صورت میں ہے کہ اوم پوری جیسے افکار و خیالات رکھنے والے اداکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔