بریکنگ نیوز
Home / کالم / گلونہ پیخورمہم

گلونہ پیخورمہم

پشاور میں نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ’’گلونہ پیخور‘‘ کے عنوان سے صفائی مہم چلائی گئی اس مہم کی کامیابی کیلئے ضلع ناظم پشاور سے لیکر صوبائی وزیر بلدیات تک مختلف سیاسی زعماء اور سرکاری حکام نے اپنا اپنا حصہ ڈالا۔اس امر سے قطع نظر کہ مذکورہ مہم کے نتیجے میں کیا تبدیلی واقع ہوئی اور یہ تبدیلی کس قدر دیر پا ثابت ہوگی اصل سوال یہ ہے کہ کیا صفائی کے حوالے سے وقتاًفوقتاً خصوصی مہم چلا لینا صوبائی دارالحکومت کی وہ عظمت رفتہ بحال کر سکتاہے جو پشاور کوپھولوں کے شہرکے لقب سے نوازنے کا باعث رہی تھی سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف سرکاری سطح پر ہونیوالی منصوبہ بندی، انتظامات اور اقدامات ہی سے شہر کے تمام علاقوں کو یکساں طور پر مستقلاً صاف ستھرا رکھا جا سکتا ہے یا اس کے لئے عوام کا تعاون بھی ضروری ہے ؟دنیا کے ان تمام شہروں میں جہاں مقامی باشندے سینی ٹیشن سروسز کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور کوڑا کرکٹ کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں صفائی کا معیار اطمینان بخش ہے جبکہ جہاں جہاں صفائی کے ذمہ دار اداروں کی کوتاہیاں اور مقامی آبادیوں کا عدم تعاون یہ دونوں عوامل یا ان میں سے کو ئی ایک بھی وجود رکھتا ہے وہاں صفائی کی صورتحال ناقص ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ صفائی کے ذمہ دار ادارے جزوی طور پر تو صفائی کی صورتحال بہتر بنا سکتے ہیں تاہم شہروں اور دیہاتوں کو مستقلاًمکمل طور پر صاف ستھرا رکھنے کیلئے اداروں اور عام عوام کاکل وقتی تعاون ناگزیر ہے جہاں تک پشاور یا خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کا تعلق ہے سرکاری ادارو ں کی کوتاہیوں سے ہٹ کر صفائی کی ناقص صورتحال کی بڑی وجہ غیر ذمہ دارانہ عوامی رویے ہیں۔

صوبے کے دیہی علاقوں کی بات تو رہنے دیں شہر وں کے گلی محلوں‘بازاروں‘میدانوں‘تفریح گاہوں‘ سڑکوں وغیرہ سے گزرتے ہوئے بھی اگر گردو پیش پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے تو صاف دکھائی دے جاتا ہے کہ ان تمام مقامات پر جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ میں سب سے زیادہ حصہ کھانے پینے کی ان اشیاء کی باقیات کا ہے جنھیں شہر کے لوگ گھروں سے باہر معمولات زندگی گزارنے کے دوران استعمال میں لاتے ہیں چپس، آئس کریم،ٹافیاں ، چاکلیٹس ‘جوس ‘ کولڈ ڈرنکس‘ فاسٹ فوڈآئٹمز‘ فروٹ وغیرہ وغیرہ ،ایسی اشیاء کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو سپرد شکم کرنے کے بعد ہاتھ میں رہ جانیوالے ریپرز، پیکٹس‘ چھلکوں ، لفافوں اورپلاسٹک شاپنگ بیگز وغیرہ کو بے دردی سے ادھر ادھر اچھال دیا جاتا ہے کوڑا کرکٹ کا گلیوں میں یا گھروں سے کچھ فاصلے پر گندگی کے خود ساختہ ڈھیروں پر پھینک دیا جانا بھی اسی سے جڑا ہوا معاملہ ہے ہم میں سے شاید ہی کوئی ہو جس نے بچوں کو ریپرز کو سر راہ پھینک کر کوڑا کرکٹ میں اضافے کا باعث بنتے نہ دیکھا ہو ۔عوام کی بڑی تعداد تو اس قسم کے مناظر دیکھنے کے باوجود لاتعلق رہنا پسند کرتی ہے البتہ قلیل تعداد میں ایسے شہری موجود ہیں۔

جو اس قسم کی صورت حال سے سامنا ہونے پر گندگی پھیلانے والوں کو کہیں گھور گھور کر دیکھ کے تو کہیں براہ راست مخاطب ہو کر انکی غلطی کو احساس دلاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کچرے کو مناسب انداز سے ٹھکانے لگانے کے حوالے سے اپنی شہری ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں اور ان فرائض کی تکمیل کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ مختصراََ یہ کہ پشاور میں صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومتی یا انتظامی سطح پر کتنے ہی موثر اقدامات کیوں نہ اٹھا لئے جائیں مقصد کا حصول عوام کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے‘با الفاظ دیگرپشاور میں اور دیگر اضلاع میں بھی صفائی کی صورتحال اسی صورت اطمینان بخش حیثیت اختیار کر سکتی ہے جب ایک طرف متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی فرائض کی ادائیگی یقینی بنا دی جائے اور دوسری طرف ہر شہری اس عزم کی تصویر بن جائے کہ اس نے کسی بھی حالت میں کچرا سرعام پھیلانے کا باعث نہیں بننایہ عزم کر لینے کے بعدہر اس شہری کی جو اپنے گھرانے کا سربراہ ہے اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے تمام اہل خانہ خصوصاََ بچوں اور نوجوانوں کو تربیت دے کہ انھوں نے ایسی کوئی چیز جو کوڑا کرکٹ کے زمرے میں آتی ہو سر راہ نہیں پھینکنی ۔ساتھ ساتھ ہی گھر کی صفائی کے نتیجے میں جمع ہونیوالے کچرے کو گلی میںیاگلی سے باہر جگہ جگہ پھینکنے کے بجائے مناسب طریقوں سے ٹھکانے لگانیکی روش اپنانے پر بھی زور دیا جائے کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کا عام طریقہ یہ ہے کہ گھر میں جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کو روزانہ کی بنیاد پرگھر کے کسی کونے میں رکھاجائے اور عملہ صفائی کے گلی میں آنے کا انتظار کیا جائے جب بلدیہ والے آئیں تو جمع شدہ کوڑا کرکٹ انکے حوالے کر دیا جائے ۔