بریکنگ نیوز
Home / کالم / مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ

کوئی ایک خواب ادھورارہنے دو

ایک سویر فون چیک کیا تو حیرت درحیرت‘ انڈیا سے گلزار صاحب کے دو پیغام درج تھے… بہت کوشش کی آپ کا فون نہیں لگ رہا…آپ کہاں ہیں؟ کچھ دیر بعد واٹس ایپ کے توسط سے فون کی سکرین پر گلزار صاحب کا مسکراتا ہوا چہرہ نمودار ہوگیا…ہاتھ میں پنسل …

Read More »

جھیلوں کاشہراورگلزارکافون

میں لمحہ موجود میں امریکہ کی دھوپ بھری ریاست فلوریڈا کے شہر آرلینڈو میں ہوں۔ آرلینڈو جنگلوں اور جھیلوں کا شہر ہے اور یہاں ڈزنی لینڈ کے مکی ماؤس کا راج ہے۔ یوں تو تیسری دنیا کے بیشتر ملکوں میں راج سنگھاسن پر مکی ماؤس ہی براجمان ہیں لیکن ایک …

Read More »

ایک اُداس باپ

کل میری ملاقات ایک اداس باپ سے ہوگئی وہ کس کا باپ تھا ‘کتنوں کا باپ تھا‘ کہاں سے آیا تھا کہاں جارہا تھا یا کہیں جابھی رہا تھا یا نہیں اس کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں‘ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ وہ پارک کے ایک …

Read More »

سکردو سے گلگت

بہت برس پہلے میں شمال کی کسی کوہ نوردی کی تھکن سے نڈھال سکردو سے گلگت کی جانب جا رہا تھا اور وہاں سکردو روڈ کی جان لیوا مسافتوں کے دوران سسی نام کی ایک آبادی کے پس منظر میں یکدم ایک شاندار برف پوش پہاڑ چٹیل چٹانوں کی اوٹ …

Read More »

وحید مراد‘ممتاز مفتی اور آہوچشم راگنی

تو جب کبھی فردوس مارکیٹ کے نواح میں واقع قبرستان میں اپنے والدین اور چھوٹے بھائی زبیر کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتا ہوں تو قریب ہی عوامی اداکار علاؤ الدین کا مدفن ہے اور اس پر کوئی پھول نہیں چڑھاتا قبرستان کے کونے میں وحید مراد کی قبر ہے …

Read More »

سفرالاسکا کہاں سے آگیا

آخر یہ سفر الاسکا کہاں سے آگیا؟وہ سرزمین جہاں بیشتر امریکی بھی نہیں گئے۔ جہاں برف پڑتی ہے اور اسکیمورہتے ہیں جہاں آرکٹک سرکل ہے اور جسے ’’آخری سرحد‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جیسے کے ٹُو کی جانب کوہ نوردی کرتے ہوئے اشکولے تہذیب کا آخری گاؤں ہے اور …

Read More »

شہرت، ایک بے وفا محبوبہ

یہ کوئی کم وبیش دس برس پیشتر کا قصہ ہے کوئٹہ میں یونیسیف کا ایک سیمینار منعقد ہورہا تھا جس میں پاکستان بھر سے میڈیا کے اہم لوگ شرکت کر رہے تھے۔ سیمینار کا پہلا سیشن اختتام کو پہنچا تو ہال کے باہر برآمدے میں منتظر درجنوں لوگ جن میں …

Read More »

یہ زندگی کے میلے

بچپن میں فلمی گانے ہمارے کچے دماغوں اور کچے بدنوں پر بہت اثر کرتے تھے ۔ کوئی فلمی گانا سنا تو خواہ مخواہ پہروں اداس رہے یا بے وجہ خوش ہو گئے ان دنوں محمد رفیع کا گایا ہوا ایک گیت ’یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں …

Read More »

استاد پھل آگروی کی دوپہر کی یاد میں

اردو ادب کی خدمت کرنے والے…خون جگر سے آبیاری کرنے والے.. معاف کیجئے گا آبیاری تو شاید صرف آب یعنی پانی سے ہوتی ہے خون جگر سے تو نہیں ہوتی‘ بہرحال اردو اور اسکے ادب کیلئے زندگی وقف کرنے والے کچھ کردار ایسے ہیں جو فراموش ہوتے جاتے ہیں‘ یہ …

Read More »

سونے کی چڑیا

لاہور کے بعد میرا دل گکھڑمنڈی کی اداس پسماندگی‘ غضب کی گرمیوں‘ پژمردہ شاموں اور کچی گلیوں اور میرے نزدیک گندے مندے بچوں میں کہاں لگنا تھا‘ نہ لگا اور میں لاہور کی یاد میں آنسو بہاتے کسی حد تک ایک نفسیاتی مریض ہوگیا‘ سٹیشن کے باہر والد صاحب کا …

Read More »