Home / کالم / مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ

خوش رہنے والے لوگ

ہمارے ہاں عام طور پر مسکرانے سے گریز کیا جاتاہے اور اگر مسکرانا پڑجائے تو مسکراہٹ میں ایک ہلکا سا طنز شامل کرلیا جاتا ہے تاکہ دوسرا شخص آپ کو ایک غیر سنجیدہ شخصیت نہ سمجھ لے ایک قوم کی حیثیت سے بھی ہم مسکرانے والے لوگوں میں شامل نہیں …

Read More »

جھیل کے پانیوں کے پار……

ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آرہے ہیں… ویران ریسٹ ہاؤس یونانی دیومالا کا ایک’’ لوٹس آئے لینڈ‘‘ تھا…افیونیوں کا ایک جزیرہ تھا‘ یہاں آپ کو شمال کی بہترین روایتی خوراک ملتی تھی اور اس کے باغ بہاراں میں ملتی تھی اور ذرا سی ہوا کے چلنے سے …

Read More »

محبت کی کونپلیں اور اُداسی کے کانٹے

ہم فراموش کر دیتے ہیں‘ یکسر بھول جاتے ہیں‘ وہ جو بچھڑ جاتے ہیں ہماری یادداشت سے زائل ہوتے جاتے ہیں کہ یہ انسانی خصلت ہے‘ اگر ایسا نہ ہو تو ہم دن رات ماتم کرتے رہیں‘ آہیں بھرتے‘ اپنے ہونٹ چباتے مرنے والوں کے ساتھ زندگی بھرمرتے جائیں‘ ایک …

Read More »

ستاروں سے آگے ایک جہاں اور بھی ہیں

کبھی کبھار برس دو برس بعد کوئی ایسی خبر آجاتی ہے کہ مجھے ایک انسان ہونے پر فخر ہونے لگتا ہے کہ بے شک ہم مسلمانوں نے پچھلے شاید پانچ سو برس سے ایک نیل کٹر بھی ایجاد نہیں کیا ٗکوئی ایسی دوا دریافت نہیں کی جو نسل انسانی کی …

Read More »

اس میں ایک پھول کھلے گا…….

اگرآج ہمیں روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی‘ مستقبل کی جانب دیکھنے سے ڈر لگتا ہے…ہر کوئی سوال کرتا ہے‘ کل کیا ہوگا‘ کل آئے گا بھی یا نہیں‘ اس سرزمین کو گدھوں نے نوچ کھایا ہے‘ کبھی سیاست‘ کبھی عقیدے اور کبھی جمہوریت کے نام پر…اور ہر کوئی …

Read More »

تو پھر انسان کو اور کیا چاہئے….

میں تذکرہ کر رہا ہوں امیتابھ گھوش کے نئے ناول’’فلڈ آف فائر‘‘ یا’’آگ کا سیلاب‘‘ کا جس نے مجھے بہت مایوس کیا کہ گھوش ایک بڑا ناول نگار ہے اور مجھے اس سے بہت توقعات تھیں…یہ ناول دراصل اسکے پچھلے ناولوں کے کچھ کرداروں کا تسلسل ہے جن سے میں …

Read More »