153

دماغ کی ’لاشعوری کارکردگی‘ اور یادداشت میں بہتری کیلئے قیلولہ کیجیے ​​​​​​​

 لندن: ایک دہائی کی تحقیق کے بعد ہم جان چکے ہیں کہ نیند دماغی کارکردگی اوراعصابی سکون کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے لیکن دن میں کچھ دیر کی نیند ایک جانب تو دل اور اعصاب کو بہتر حالت میں رکھتی ہے تو جاگتے میں حاصل ہونے والی معلومات، نیند کے ذریعے یادداشت کی گہرائی میں ثبت ہوتی جاتی ہیں۔

2016 میں ماہرین نے اسی مفروضے کی بنیاد پر ایک سروے کیا تھا۔ اس سروے کا خلاصہ یہ تھا کہ امتحانات کی تیاری کرنے والے افراد پڑھتے وقت دن کے اوقات میں قیلولہ کریں تو اس سے سبق اچھی طرح یاد رہتا ہے اور یادداشت بہتر ہوتی جاتی ہے۔

اب یونیورسٹی آف برسٹل کے ماہرین نے کہا ہے کہ دن اور خصوصاً دوپہر میں قیلولہ کرنے سے ہمارا دماغ وہ معلومات بھی پروسیس کرتا ہے جو ہم لاشعوری طور پر ہر طرف سے حاصل کررہے ہوتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں دن کا قیلولہ ہماری مسائل حل کرنے کی قوت کو بھی بڑھاتا ہے۔

اس کے لیے 16 صحت مند بالغان کا انتخاب کیا گیا۔ ان افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروپ کو کنٹرولڈ کام کرنے کو کہا گیا یعنی روایتی انداز میں کسی چیز کے بعد اس کا ردِ عمل دینا تھا مثلاً اسکرین پر سرخ یا نیلا چوکور ڈبہ نمودار ہوکر اس کی کیفیت کو یاد رکھنا تھا۔

دوسرے گروہ کو یادداشت کی جو مشقیں دی گئی تھیں انہیں ’ماسکڈ پرائم ٹاسک‘ کا نام دیا گیا۔ اس میں اسکرین پر ایک سیکنڈ کے لیے کوئی لفظ ظاہر کیا گیا لیکن اس کے بعد یک دم دوسرا لفظ نمودار ہوگیا لیکن وہ صرف 30 یا 40 ملی سیکنڈ کے لیے دکھائی دیا۔ اس کے بعد دھندلے سے ماسک میں XXXXX نامی کوئی تحریر 500 ملی سیکنڈ کے لیے ظاہرہوئی۔ اس طرح تین حصوں میں معلومات نمودار ہوئی جو اس طرح تھی Peace – XXXXX – Joy ۔

اس تمام مشق کا مقصد یہ تھا کہ دیکھنے والا پہلے لفظ کو شعوری طور پر نہ سمجھ پائے تاہم اس نے دماغی ریسپانس کو جگایا ضرور تھا۔ یعنی پہلا لفظ دوسرے سے مختلف تھا تو اس پر دیکھنے والے کا اعصابی ردِ عمل سست تھا لیکن ایک دوسرے سے ملتے جلتے الفاظ پر ردِ عمل تیز تھا۔

اس کے بعد ایک گروہ کو ڈیڑھ گھنٹے دن میں سلایا گیا اور دوسرے کو جگا کر رکھا گیا۔ اس کے بعد ماسکڈ ٹیسٹ والوں نے جو کچھ دیکھا تھا اسے دہرایا اور ان کی رفتار بھی تیز تھی۔ اس بنا پر ماہرین کا خیال ہے کہ دوپہر میں 90 منٹ نیند لینے سے لاشعور میں آنے والی معلومات بھی دماغی پروسیسنگ کا حصہ بن جاتی ہیں۔

اس تجربے میں بعض رضاکاروں نے قیلولے کے بعد وہ الفاظ بھی دہرائے جو ان کے دماغ میں لاشعوری طور پر رجسٹر ہوئے تھے۔