77

خسارے کا بوجھ

پاکستان کی حصص مارکیٹ میں پی آئی اے کے شیئرز کی خریدوفروخت 3 ماہ کیلئے معطل کر دی گئی ہے‘ یہ اقدام قواعد کی رو سے اسلئے کرنا ضروری ہو گیا تھا کیونکہ گذشتہ 2برس سے پی آئی اے نے اپنی سالانہ آمدن و اخراجات کی تفصیلات جمع نہیں کروائی تھیں‘ رواں ہفتے ہوئی اس پیشرفت سے پی آئی اے میں مالی و انتظامی نظم و ضبط کے فقدان سے پیدا ہونیوالی صورتحال کا اندازہ لگانا قطعی دشوار نہیں رہا۔ قواعد کی رو سے اگر کوئی کمپنی سالانہ اجلاس نہ بلائے یا مالی سال کیلئے سالانہ اکاؤ نٹس آڈٹ جمع نہ کروائے تو اسے ڈیفالٹر سیگمنٹ میں ڈال دیا جاتا ہے‘ یہاں پی آئی اے سے رعایت کرتے ہوئے اسے دو سال کا وقت دیا گیا۔ قومی پرچم بردار فضائی کمپنی کا تنظیمی ڈھانچہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں مرتب ہوا‘ اس وقت کسی ائر لائن کا ڈھانچہ نہایت ہی سادہ ہوا کرتا تھا‘ ائر لائنز کے زیراستعمال طیارے چھوٹے ہوا کرتے تھے‘ جنکی مرمت‘ دیکھ بھال اور مارکیٹنگ آسان تھی‘ ائر لائنز کی پرواز کے لئے حکومتوں کے درمیان معاہدے تھے‘یوں ہر ملک کی قومی پرچم بردار فضائی کمپنی کو خصوصی تحفظ حاصل تھا‘ حالیہ دور میں ایوی ایشن انڈسٹری میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں طیاروں کی ساخت تبدیل ہوچکی ہے‘ عالمی ایوی ایشن قوانین اور اس سے منسلک ٹیکنالوجی میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں مگر پی آئی اے کا انتظامی 1960ء کی دہائی اور کاروباری ڈھانچہ 1980ء کی دہائی میں پھنسا دکھائی دیتا ہے!پی آئی اے کے خسارے کی ایک وجہ ملازمین کی تعداد ہے‘۔

1980ء کی دہائی میں اسے ملازمتی ادارہ سمجھ لیا گیا‘یوں سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر اہلیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملازمتیں دینے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا‘ سیاسی حکومتیں ہوںیامارشل لاء‘ پی آئی اے حکمرانوں کے منظورنظر افراد کو نوازنے کا ذریعہ بن گئی‘ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پی آئی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر رہے پی آئی اے کو خیر باد کہنے کے بعد انہوں نے اپنی ائر لائن کمپنی (ائر بلو) بنائی اور مقام حیرت ہے کہ ان کے دور میں پی آئی اے کے خسارے میں اضافہ ہوا لیکن ائر بلیو آج بھی منافع بخش ادارہ ہے!پی آئی اے 300ارب روپے سے زائد کا مقروض ہے اور اس کا ماہانہ خسارہ پانچ ارب روپے ہے‘ اگر موجودہ حکومت پی آئی اے کو خسارے سے منافع بخش ائر لائن بنا بھی دیتی ہے تب بھی اس پر قرض اتارنا مشکل اور طویل مرحلہ ہوگا‘ اگر سالانہ ایک ارب روپے قرض کی ادائیگی کی جائے تو تین سو سال لگ جائیں گے‘اگر ماہانہ پی آئی اے ایک ارب روپے قرض کی ادائیگی کرتی ہے تو بھی کم از کم پچیس سال درکار ہوں گے جو کہ ممکن نہیں! اس قرض کے حوالے سے حکومت متعدد اقدامات کر سکتی ہے‘۔

سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ حکومت نے جس طرح توانائی کے شعبے کیلئے پانچ سو ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے ختم کئے تھے‘ اسی طرح پی آئی اے کے قرض کو بھی حکومتی قرض میں شامل کر دیا جائے اور پی آئی اے کو قرض سے پاک ائر لائن بنا دیا جائے‘ پی آئی اے کے اکثریتی شیئرز حکومت کے پاس ہیں اور ائر لائن کے منافع بخش ہونے سے حکومت کو ہی ڈیوڈنڈ کی صورت میں منافع منتقل ہوگا لیکن اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ اگر ایک مرتبہ پی آئی اے کا قرض ختم کر دیا جائے تو یہ دوبارہ پیدا نہیں ہوگا؟ دوسری صورت میں حکومت پی آئی اے پر دیوالیہ قوانین کا اطلاق کرتے ہوئے اس کو قرض دینے والوں کے حوالے کر دے اور قرض دینے والے اداروں کو شیئر کی ملکیت منتقل کر دے‘ اس معاملے میں سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ مالیاتی ادارے ائر لائن بند کر کے اثاثوں کی فروخت کا فیصلہ کر سکتے ہیں‘تیسری ممکنہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پی آئی اے حکومتی ضمانت پر قرض کو بانڈز میں تبدیل کر دے جنہیں پانچ سال بعد یا تو سود کیساتھ کیش کروایا جاسکے یا پھر انہیں شیئرز میں تبدیل کروایا جاسکے‘اس تمام صورتحال میں پی آئی اے کی ملکیت میں حکومتی شراکت داری خود بخود کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔ 9 اکتوبر کے روز وفاقی حکومت نے معروف اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کو وزیراعظم کا مشیر برائے اقتصادی امور تعینات کیا ہے‘ جو اس سے قبل ہمیشہ قومی اداروں کے خسارے اور انہیں ختم کرنے کے حوالے سے تجاویز دیتے آئے ہیں‘امید ہے کہ وفاقی وزیر کے مساوی مراعات و اختیارات رکھنے والے ڈاکٹر فرخ سلیم کی سمجھ بوجھ سے پی آئی اے سمیت قومی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو گی جس سے قومی خزانے پر خسارے کے بوجھ میں خاطرخواہ کمی آئیگی اور یہی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے!