68

زندہ ہے ضمیر اپنا؟

عمران خان پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم بنے اور مبارکبادیں ملنے کا سلسلہ ابھی رکا بھی نہیں اور نہ ہی تحریک انصاف اپنی انتخابی و حکومت سازی سے جڑی کامیابیوں کا جشن ہی منا سکی تھی کہ مالی مشکلات نے حکمرانوں کو امتحان میں ڈال دیا‘ مجموعی طور پر اٹھارہ اگست سے دس اکتوبر تک 54 روزہ کارکردگی میں قابل ذکر امور کو دیکھا جائے تومنی بجٹ میں حکومت نے بعض ٹیکسوں میں رعایت کا اعلان کیا‘ تو بعض چیزوں پر ٹیکس میں اضافے سے بحث و مباحثے کا نیا موضوع چھیڑ دیا‘ سب سے نمایاں بات پٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ ٹیکس میں 100ارب روپے کی کمی ہے لیکن یہاں تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹیکس کی کمی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں فوری کمی نہیں آئی بلکہ ٹیکس چھوٹ صرف اسی صورت کارآمد ہوگی جب پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمت خاص حد سے تجاوز کر جائے‘ جسکا امکان کم ہے! تحریک انصاف کیا تھی اور آج کیا ہے‘ اس بارے میں عام آدمی کی رائے میں پہلے جیسی گرمجوشی نہیں جس کی نظریں پہلے 100 دن پر ٹکی ہیں‘ جسکا نصف عرصہ بہرحال گزر چکا ہے اور اس عرصے کے دوران ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہے! تحریک انصاف کے قائدین کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے پہلے 100دن نامی حکمت عملی کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا‘ جس سے مراد ملک اور طرزحکمرانی کی سمت متعین کرنے کے علاوہ وہ سب وعدے پورے کرنے کی بنیاد رکھنا ہے۔

جن پر چل کر بہتری لائی جائیگی لیکن تحریک انصاف اپنے بارے میں خیرسگالی اور مثبت رائے پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور عمومی عوامی سطح پر یہ حکومت کے درست سمت آگے بڑھنے سے متعلق تحفظات پائے جاتے ہیں‘جن معاملات سے متعلق تحریک انصاف نے اصلاحاتی منصوبہ پیش کیا تھا اسکی سیاسی تاریخ میں مثال نہیں ملتی لیکن اگر وہ انہیں عملی جامہ نہ پہنا سکے تب بھی سیاسی تاریخ میں ایسی مثال قائم نہیں ہوگی جس میں کوئی حکومت یوں ناکام ثابت ہوئی ہو۔ قومی مسائل کی نشاندہی کی حد تک تحریک انصاف نے بطور حزب مخالف کی ایک جماعت کے اپنا کرداربخوبی سرانجام دیا ہے لیکن بطور حکمران جماعت عوام کے اعتماد پر پورا اترنے اور تبدیلی کے نعرے کو عملی جامہ پہنانا یقیناًمشقت و توجہ طلب ہے۔ وفاقی حکومت نے کئی روز کی ہچکچاہٹ اور سوچ بچار کے بعد بالآخر قرض کے حصول کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کے بارے میں زیادہ تر منفی رائے پائی جاتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور عوامی حلقے آئی ایم ایف سے قرض لینے کیخلاف ہیں؟ پاکستانیوں کی اکثریت آئی ایم ایف کے کردار کو منفی انداز میں کیوں دیکھتی ہے اور خود عمران خان ایک موقع پر یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ’اگر وہ وزیراعظم ہوں اور حکومت کو قرض لینے کیلئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑا‘ تو ایسا وقت آنے سے پہلے وہ خودکشی کر لیں گے۔‘‘ سیاسی رہنماؤں کے بیانات قابل اعتبار نہیں ہوتے جیسا کہ نواز لیگ کے سربراہ شہباز شریف کا یہ کہنا کہ ’’اگر اُن پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو پھانسی کی سزا دے دی جائے‘‘ تو کیا وہ اپنے ہی الفاظ کی روشنی میں پھانسی چڑھا دینے چاہئیں؟ رہنماؤں کا سیاسی بیانیہ اور برسرزمین حقائق میں موجودتضاد ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

قائدین ہر حال میں سچ بولیں تاکہ عوام گمراہ نہ ہوں اور سمجھیں کہ آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے جہاں بہت سے نقصانات ہیں‘ وہاں کچھ خاص فوائد بھی ہیں‘ جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے‘پاکستان نے پہلی مرتبہ 1970ء کی دہائی میں آئی ایم ایف سے قرض لیا‘ اس کے بعد سے اب تک ہر حکومت نے قرض کی مے چکھی‘ سوائے فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں‘ جب افغان جنگ کی وجہ سے ڈالروں کی اتنی ریل پیل ہوا کرتی تھی کہ پاکستان کو قرض لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ آئی ایم ایف قرض کیساتھ جڑی شرائط میں شامل ہے کہ پاکستان اپنی آمدن و اخراجات میں موجود عدم توازن ختم کریگا‘ جس کی بڑی وجہ سبسڈی کا وہ نظام ہے جو کئی دہائیوں سے نافذ ہے‘سبسڈی کو بجلی کی مثال سے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت دس روپے ہے لیکن صارفین سے حکومت فی یونٹ چھ روپے لیتی ہے یعنی باقی کے چار روپے حکومت سرکاری خزانے سے ادا کرتی ہے۔

یہ سبسڈی ہی گردشی قرضے کا باعث بنتی ہے جو ہر دور میں صرف بجلی ہی نہیں بلکہ گیس‘ پٹرولیم مصنوعات پر حکومتیں دیتی آ رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ ایسی تمام سبسڈیز ختم کی جائیں۔ ’آئی ایم ایف‘ کا ہمیشہ سے دوسرا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ سرکاری اخراجات میں کمی کے ذریعے ادائیگیوں کا توازن بحال کیا جائے ‘آئی ایم ایف کی تیسری شرط روپے کی قدر کو فطری سطح پر لانا ہوتا ہے‘یہی وجہ ہے کہ رواں ہفتے کے آغاز پر اچانک روپے کی قدر میں آٹھ سے دس فیصد کمی ہوئی۔ آئی ایم ایف روپے کی قدر میں مزید کمی کا مطالبہ کر سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو لامحالہ حکومت کو آئندہ چند ماہ میں روپے کی قدر میں مزید 10فیصد تک کمی لانا پڑیگی‘ضمیر زندہ ہو تو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنا ممکن ہے‘ قومی خزانے پر خسارے کے بوجھ میں کمی اور پیداوار کے ذریعے روزگار و برآمدات میں اضافہ اگر ناممکن نہیں توآسان راستہ ہی کیوں اختیار کیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی ہر جائز و ناجائز شرط من و عن مان لی جائے۔’’زندہ ہے ضمیر اپنا ابھی‘ سامنے اُس کے ۔۔۔ اپنا سر تسلیم جھکا بھی نہیں سکتا۔ (احمد علی برقی اعظمی)۔‘‘