82

حواس گُم قیاس گُم

حکومت کے کپتان عمران خان کے بارے میں یہ تو خیر کبھی بھی نہیں سوچاگیا تھا کہ وہ ایک تجربہ کار منتظم ہیں ان سے یہی توقع رکھی گئی تھی کہ نہ وہ بدعنوان ہیں اور نہ کسی کو بدعنوانی کرنے دینگے دوسری شہرت انکی یہ تھی کہ اپنی ٹیم میرٹ پر اور بہت اچھی سلیکٹ کرینگے اور اس سے کام بھی لینگے مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ دونوں توقعات پوری نہیں ہوپائیں‘ ہوسکتا ہے کہ خود عمران خان کرپٹ نہ ہوں ان پر کوئی ایسا الزام بھی نہیں ہے مگر ان کے اردگرد ایسے لوگ ضرور موجود ہیں جو اب بھی نیب کو مطلوب ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کو کس وجہ سے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے یہ واضح نہیں کیونکہ یہ لوگ کسی شعبے میں ماہر بھی نہیں جہاں تک کابینہ میں وزراء کی سلیکشن ہے تو صرف چند وزیر ہی ایسے ہیں جو متعلقہ وزارت میں مہارت رکھتے ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں جو سب سے اہم وزارتیں ہیں ان پر ناتجربہ کاراور وزارتی کام سے ناآشنا لوگ بٹھا دیئے گئے ہیں اور اسکا خمیازہ بھی حکومت بھگت رہی ہے‘ سب سے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر کو ہی دیکھیں وہ الیکشن سے بھی پہلے وزیر خزانہ نامزد ہوگئے تھے الیکشن کے بعد اور حکومت قائم ہونے سے پہلے ہی اسد عمر نے وزارت خزانہ کا چارج لے لیا تھا اور ایف بی آر وغیرہ میں اجلاس کرنے لگے تھے ان کا دعویٰ تھا کہ محض سادگی اپنانے اور بچت کرنے سے وہ مالی مشکلات پر قابو پالیں گے اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑیگی‘ یہی دعویٰ دراصل انکی معیشت سے ناواقفیت ظاہر کرتا تھا۔

بنیادی طورپر وہ کارپوریٹ سیکٹر کے اور مارکیٹنگ کے ماہر ہیں‘ کہاجاتا ہے کہ سیاست میں آنے سے پہلے وہ ایک بڑی پیداواری کمپنی کے سی ای او تھے مگر ایک ملک کی معیشت چلانا اس سے بالکل ہی مختلف کام ہے انہوں نے ابھی تک جو بھی فیصلے کئے انکے متوقع نتائج نہیں نکل سکے بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں انکی کوئی شناسائی نہیں اسحاق ڈار بھی اکانومسٹ نہیں تھے مگر انکی ساکھ ایسی تھی کہ عالمی ادارے انکی بات سن لیتے تھے‘ کئی بار انہوں نے ملک میں ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے ہی آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرضہ لے لیا حتیٰ کہ سعودی عرب سے کسی زیادہ محنت کے بغیر ہی ایک ارب ڈالر کا عطیہ لے لیا تھا اب اسد عمر کسی دوسرے کو اپنے مسائل بتانے اور اس امداد کے خرچ کا پروگرام بھی نہیں دے سکتے‘گزشتہ ماہ وزیراعظم اپنی پوری ٹیم کیساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر گئے اس دورے کی جتنی بھی توجہات پیش کی جائیں اصل مقصد ان سے امداد لینا ہی تھا‘وہاں سے پہلی بار ہوا کہ پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی اور اسی دورے کے فالواپ کے طورپر سعودی وزیرخزانہ گزشتہ ہفتے پاکستان آیامگر ہمارے وزیرخزانہ اور دیگر وزراء ان کو پھربھی قائل نہ کر سکے حتیٰ کہ تین ماہ کے ادھار پر بھی تیار نہیں ہوئے‘ انہی کیساتھ ہی آئی ایم ایف کا وفد بھی آیا ہوا تھا مگر ہم انکے ساتھ بھی معاملات طے نہ کرسکے حالانکہ اب تک یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ کسی قرضے کے بغیر حالات سدھر نہیں سکتے مگر پھر بھی کسی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں مل سکی اب اسد عمر انڈونیشیا آئی ایم ایف سے قرضے کا پیکج لینے کیلئے گئے ہیں ‘اللہ کرے کوئی رحم کھا کر کچھ دے ہی دے کیونکہ معیشت کی خراب حالت دیکھ کر ڈالر بھی آپے سے باہر ہوگیا ہے۔

اس سے ملک میں ایک معاشی افراتفری مچی ہوئی ہے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ اس بحران سے کیسے نکلا جائے‘ ان حالات میں عوام کو حوصلہ دینا اور بہتری کی امید دلانا وزارت اطلاعات کا کام ہوتا ہے مگر یہاں بھی ایک ایسے وزیر صاحب لائے گئے ہیں جو ماضی میں مختلف پارٹیوں میں رہ کر مخالفین کو برا بھلا ہی کہتے رہے انہوں نے وزیر اطلاعات کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا کام ہی یہ کیا کہ میڈیا کا ناطقہ بند کردیا حالانکہ میڈیا ہی وزارت اطلاعات کی ٹیم ہوتی ہے اسکو مضبوط کرنا اور اسی کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنا ہوتا ہے مگر اب صورتحال یہ ہے کہ بڑے بڑے مالکان اپنے اداروں میں چھانٹی کر رہے ہیں اخبارات صفحات کم کر رہے ہیں اور ورکنگ صحافی بے روزگاری سے دوچار ہوکراحتجاج کر رہے ہیں ملک میں پہلی بار ہوا ہے کہ میڈیا اداروں کے مالکان اور صحافی دونوں ہی بے چین اور سراپا احتجاج ہیں‘ یہ وزیر اطلاعات کا ہی کارنامہ ہے کہ ایک بکھری ہوئی اپوزیشن کو متحد کردیا ہے انہوں نے اپنے زوربیان سے حکومت کیخلاف محاذ قائم کروادیئے ہیں اب کسی طرف سے حکومت کے لئے کلمہ خیر کہنے یا تعاون کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی اس کارکردگی پر بھی وزیر خزانہ کسی سے مشاورت کرنے کو تیار ہیں نہ ہی وزیر اطلاعات کسی کی سننے کو راضی ہیں‘حکومت مختلف ٹاسک پر کمیٹیوں پر کمیٹیاں بنا رہی ہے مگر کسی کے مشورے پر عمل نہیں ہو رہا‘یہی صورتحال رہی تو حکومت کیلئے اپنی میعاد پوری کرنا مشکل ہو جائیگا ایک بڑی سچائی یہ بھی ہے کہ ان حالات کی ساری ذمہ دار موجودہ حکومت نہیں مگر یہ بات بتانے اور عوام کو سمجھانے والا کوئی ہو تو تب بات بنے‘وزیر اطلاعات اینٹی میڈیا مہم چلارہے ہیں اور اپوزیشن کو چھیڑ رہے ہیں نیب اور عدالت کے فیصلوں کو اپنے سرلیکر اپوزیشن کو انتقام کا تاثر دے رہے ہیں۔