127

سیاسی حدت‘ معیشت‘ وزیراعظم کا خطاب

وطن عزیز میں سیاسی ماحول کی حدت کا گراف روزبروز بڑھتا چلا جارہا ہے‘ حزب اختلاف پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پارلیمان کی سیڑھیوں پر طلب کررہی ہے جبکہ اس سے ایک روز قبل پنجاب اسمبلی کے باہر ن لیگ نے دھرنا بھی دیا اور ارکان نے رکاوٹیں توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش بھی کی‘دریں اثناء سپیکر اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس 17اکتوبر کو طلب کرلیا ہے‘ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان 50لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے اور اس پر عمل درآمد کیلئے ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہیں‘ وزیراعظم ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ پاکستان کو 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے‘ ایسے میں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قیامت نہیں آئے گی‘ وہ مشکل دور کو مختصر قرار دیتے ہوئے عوام سے حوصلہ رکھنے کا کہتے ہیں‘ تادم تحریر اوپن مارکیٹ سے ڈالر کی قدر میں اضافے کی رپورٹس ہی آرہی ہیں جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال اگلے دو سال میں بھی غیر مستحکم رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے‘ بینک کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری سرمایہ کاری سے جڑی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پیداوار بھی بڑھے گی‘ اقتصادی منظرنامے میں اس وقت بھی سالانہ 10ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو رہی ہے۔

سرمایہ کاری سے متعلق عالمی بینک کے ساتھ آئی ایم ایف کا یہ کہنا ہے کہ چین کی سرمایہ کاری سے پاکستان کو فائدہ ونقصان دونوں ہوسکتے ہیں‘ اس ساری صورتحال میں یہ حقیقت رد نہیں کی جاسکتی کہ کسی بھی ریاست میں سرمایہ کاری اور صنعتی پیداواری سرگرمیاں اسی وقت فروغ پاسکتی ہیں جب وہاں مجموعی طورپر استحکام ہو‘ حقیقت یہ بھی رد نہیں کی جاسکتی کہ ریاست کا استحکام والا ماحول سیاسی استحکام سے جڑا ہوتا ہے‘حکومت اقتصادی شعبے میں اصلاحات اور ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کیلئے اقدامات کیساتھ سیاسی گرماگرمی کا گراف نیچے لانے کی کوشش کرے‘ اس سب کیساتھ اہم سیاسی معاملات پر مشترکہ فیصلوں کو یقینی بنایاجائے۔

صفائی مہم اور کچرا؟

وطن عزیز میں صاف اور سرسبز پاکستان مہم وزیراعظم کے احساس کی عکاس ہے‘ مہم کے دوران یقیناًصفائی بھی ہوگی جبکہ پودے لگانے کا کام جاری ہی ہے‘ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی آبادی میں اضافہ ریکارڈ کا حصہ ہے‘ شہر کا پھیلاؤ اور آلودگی بھی سب کے سامنے ہے‘ اتنے بڑے شہر سے اکٹھا ہونے والا کچرا گرانے کیلئے ڈمپنگ گراؤنڈ ایک مسئلہ رہا ہے‘ اس گراؤنڈ کیلئے اراضی کا حصول اور اس تک گاڑیوں کی رسائی یقیناًمشکل کام ہی ہے تاہم اتنے بڑے شہر میں کچرے کی ری سائیکلنگ کا نہ ہونا فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی کا عکاس ہے‘ ری سائیکلنگ پورے شہر کیلئے تو ایک جانب یہاں تو بڑے سرکاری ہسپتالوں اور نجی کلینکس کے قریب بھی طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں‘ صوبے کی سب سے بڑی علاج گاہ کے اردگرد بکھرا کچرا ذمہ دار اداروں کی کارکردگی اور احساس پر سوالیہ نشان ثبت کررہا ہے‘ نشے کے عادی افراد ان ڈھیروں سے سرنج ڈھونڈ کر خود کو ٹیکے لگانے کیلئے استعمال کررہے ہوتے ہیں‘ کیا ہی بہتر ہو کہ کلین اینڈ گرین مہم میں صوبائی دارالحکومت میں سالڈ ویسٹ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔